محمد علی بیگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد علی بیگ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Indian
عملی زندگی
پیشہ Theatre Personality and Ad and Documentary Film Maker
اعزازات
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

محمد علی بیگ بھارتی تھیٹر کی ایک شخصیت ہیں نیز اشتہارات پر مبنی فلمیں اور ڈاکیومینٹری فلمیں بناتے ہیں۔ انہیں میڈیا کی جانب سے "گلوبل فیس آف حیدرآبادی تھیٹر" ، 'سلطان آف ایپیکس اور 'ماسٹر آف ریوائیول' کے نام دیے گئے ہیں۔ انہیں پدماشری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہوں نے 2005ء میں حیدرآباد میں قادر علی بیگ تھیٹر فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی جو انہوں نے اپنے مرحوم والد اور تھیٹر اداکار قادر علی بیگ کی یاد میں قائم کیا۔ بھارت کے مشہور تھیٹر گھرانوں میں سے ایک میں ان کی پیدائش نے تھیٹر سے متعلق ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ قادر علی بیگ تھیٹر فاؤنڈیشن حیدرآباد میں بامقصد تھیٹر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اپریل 2014ء میں انہیں تھیٹر کی خدمات سر انجام دینے پر بھارت کے چوتھے بڑے سول ایوارڈ پدماشری سے نوازا گیا۔ [1] مختلف بین الاقوامی اعزازات جیسے پیرس میں فرنچ آرنر، ٹورنٹو اور شکاگو میں گلوبل ایکسیلینس ایوارڈ کے علاوہ ترکی، برطانیہ اور امریکا میں بھی ان کے تھیٹر سے متعلق کام کو بہت سراہا جاتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ اور ڈاکیومینٹری فلمیں بنانے کے سلسلے میں ان کی کل 450 پروڈکشنز موجود ہیں جن پر انہیں 40 سے زائد بین الاقوامی حسن کارکردگی کے اعزازات سے نوازا گیا۔

ابتدائی زندگی:

محمد علی بیگ حیدرآباد،بھارت میں تھیٹر کی معروف شخصیت قادر علی بیگ اوران کے تھیٹر فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن بیگم رضیہ بیگ کے ہاں پیدا ہوئے۔ لہٰذا محمد علی کو بچپن سے ہی تھیٹر سے منسلک رہنے کا موقع ملا۔

کیریئر: جس عمر میں نوجوان عموماً فلم اسکول میں تربیت کے لیے داخل ہوتے ہیں اور سینیئر فلم پروڈیوسرز کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کا آغاز کرتے ہیں، محمد علی بیگ اس عمر میں خود کو ایڈورٹائزنگ فلم میکر کے طور پر منوا چکے تھے اور بھارت کے ایک نوعمر ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنا ایک نام رکھتے تھے۔

محمد علی بیگ نے 400 سے زائد ایڈورٹائزنگ اور کوآپریٹو فلمیں بنائیں جن میں بھارتی ، تھائی لینڈ اور دیگر غیر ملکی برانڈز کو متعارف کرایا۔ ان کے اشتہارات پر مبنی مختصر فلمیں اور معاشرتی دستاویزی فلمیں پوری دنیا میں نشر ہوتی ہیں جیسے انڈیا میں دور درشن سے برطانیہ میں بی بی سی تک، امریکا میں ڈسکوری چینل، سی این این اور روس میں ماسکو ٹیلی ویژن وغیرہ۔

انہوں نے 2005ء میں اپنی والدہ رضیہ بیگ اور لکشمی دیوی راج کے ساتھ مل کر اپنے مرحوم والد کی یاد میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے 'قادر علی بیگ فاؤنڈیشن' کی بنیاد رکھی جس نے حیدرآباد کی تھیٹر دنیا میں بڑا نام پیدا کیا۔ آج بھارت میں تھیٹر کے سب سے زیادہ تجربہ کار اور معروف ناموں میں سے ایک نام ان کا ہے۔ ان کی پروڈکشنز کی تعداد وسیع ہے۔ انہیں ان کی ثقافتی فلم 'راکیومینٹری' پر بہت زیادہ دادو تحسین موصول ہوئی اور عالمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 30 ایڈورٹائزنگ ایوارڈز، 2 قومی اعزازات اور 2 بین الاقوامی گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔ دوسرے بہت سے اعزازات کے علاوہ انہیں اندرا گاندھی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ تھیٹر کے لیے ان کی خدمات پر انہیں فرانس کی طرف سے 2010ء میں اور کینیڈا کی حکومت کی طرف سے 2014ء میں اعزازات دیے گئے۔ اس کے علاوہ ترکی اور لندن میں بھی انہیں بہت سراہا گیا۔

اپریل 2014ء میں ان کی تھیٹر خدمات پر پدماشری ایوارڈ دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

http://www.baigtheatrefoundation.com/

  1. "Padma Awards Announced"۔ Press Information Bureau, Ministry of Home Affairs, Government of India۔ 25 جنوری 2014۔ مورخہ 2014-02-08 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-26۔