مدد علی سندھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مدد علی سندھی
Madad Ali Sindhi writer delivering speech in Hyderabad literature festival in Hyderabad, Sindh.jpg
مدد علی سندھی
پیدائشمدد علی سبدھی
12 اکتوبر 1950ء (عمر 70 سال)
حیدرآباد، سندھ، پاکستان
قلمی ناممدد علی سندھی
پیشہشاعر، افسانہ نگار، صحافی
زبانسندھی
نسلسندھی
شہریتFlag of پاکستان پاکستانی
تعلیمایم اے
مادر علمیسندھ یونیورسٹی
موضوعافسانہ، کالم ، شعر
نمایاں کامگونجا بی کائی کوجا

مدد علی سندھی انگریزی (Madad Ali Sindhi) سندھ پاکستان میں پیدا ہونے والے سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثر نویس، شاعر اور صحافی ہیں۔ ان کی کئی کتابیں شائع ہو ئی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

مدد علی سندھی 12 اکتوبر 1950ء کو اللہ بخش قریشی کے گھر میں سندھ کے ضلع حیدرآباد کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ مدد علی سندھی نے پرائمری تعلیم فاطمہ گرلز پرائمری اسکول حیدرآباد، سندھ سے حاصل کی۔ یہ اسکول خلافت تحریک کے رہنما شیخ عبدالرحیم کی بڑی بیٹی حاجانی غلام فاطمہ نے قائم کیا تھا اور اس خاتون نے ہی مدد علی سندھی کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد سے حاصل کی اور بی اے کی ڈگری گورنمنٹ سچل آرٹس اینڈ کامرس کالج حیدرآباد سے حاصل کی۔ جامعہ سندھ سے ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران دو مرتبہ رسٹیکیٹ ہوئے جس وجہ سے مکمل نہ کر سکے۔ [1]

ادبی خدمات[ترمیم]

مدد علی سندھی کے کئی مضامین، افسانے شائع ہوئے ہیں۔ ان کی شاعری[2] بھی جریدوں میں شائع ہوئی اور مجموعات کی شکل میں بھی شائع الگ سے ہوئے ہیں۔[3] مدد علی سندھی کی کئی کتابیں آن لائن انٹرنیٹ پر دست یاب ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ ان کتابوں میں ان کی کتاب گونجا بی کائی کوجا ہے۔ یہ ان کی ایک مشہور کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب گڈ ریڈز پر دست یاب ہے۔[4]

گُڈ ریڈز دنیا کی سب سے بڑی ویب سائٹ ہے جہاں پر کہ قارئین اور کتابوں کی سفارشات کی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق وہ لوگوں کو عالمی سطح پر من پسند کتابوں کے دست یاب ہونے میں معاون ہوتا ہے۔ اس کا آغاز جنوری 2007ء میں ہوا تھا۔مدد علی سندھی کے افسانے اردو میں بھی ترجمہ کیے گئے ہیں۔[5]

سیاست صحافت[ترمیم]

مدد علی طالب علمی کے زمانے میں سیاست میں متحرک رہے۔ پہلے جیے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں رہے۔ بعد میں 1969ء میں عوامی لیگ کے لیے حیدرآباد ڈویژن کے آرگنائزر مقرر ہوئے۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے انہیں عوامی لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں بطور رکن نامزد کیا۔ مدد علی سندھی نے اکتوبر 1970ء میں سندھی زبان میں اگتے قدم نامی جریدہ شایع کیا جس پر 1972ء میں پابندی لگائی گئی اور خود بھی 1978 تک روپوش رہا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]