مشتاق احمد وانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
پیدائش03 مارچ 1960ء
جمو و کشمیر، انڈیا
رہائشجموں توی، جموں و کشمیر
اسمائے دیگرمشتاق احمد وانی
پیشہادب سے وابستگی
وجہِ شہرتافسانہ نگاری، قلمکاری
مذہباسلام

مشتاق احمد وانی : اردو ٹیچرس گلڈ جموں و کشمیر کی سرگرم شخصیت جناب مشتاق احمد وانی، ترقی و ترویج اردو کے لیے گامزن ایک محب اردو کشمیری شخصیت ہیں۔ انہیں کی کاوشوں سے اردو ٹیچرس گلڈ اپنا نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ وانی، ایک مشہور افسانہ نگار اور قلمکار ہیں، افسانوی ادبی دنیا میں ایک قابل ذکر نام ہیں۔

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

والد کا نام محمد اسداللہ وانی(مرحوم) والدہ کا نام مہتاب بیگم(مرحومہ). ائے پیدائش محلہ سروال۔ گاوں بہوتہ علاقہ۔ مرمت تحصیل و ضلع ڈوڈہ۔ ریاست۔ جمموں کشمیر(ہندوستان)تاریخ پیدائش 3مارچ 1960۔

تعلیم کا آغاز سینٹرل اسکول بہوتہ سے ہوا۔ میٹرک کا امتحان1980 میں گورنمنٹ ہائی اسکول گوہا(مرمت)سے پاس کیا۔ بی۔ اے کا امتحان-گورنمنٹ ڈگری کالج بھدرواہ(ضلع ڈوڈہ)سے 1985 میں پاس کیا۔ ایم۔ اے (اردو)جموں یونیورسٹی جموں (توی)سے 1988 میں۔۔ پی۔ ایچ۔ ڈی1999. بی ایڈ2003میں جموں یونیورسٹی کے تحت۔ ڈی لٹ2012میں روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی(یوپی)سے

ادبی زندگی[ترمیم]

ادبی زندگی کاآغاز1989میں افسانہ "تڑپتے پنچھی"سے ہوا۔

تصانیف[ترمیم]

مشتاق احمد وانی کی تصنیف اردو ادب میں تانیثیت۔

1۔ ہزاروں غم(افسانے)2001میں جے کے آفسیٹ پریس دہلی سے شائع ہوئی۔ 2۔ تقسیم کے بعد اردو ناول میں تہزیبی بحران(تحقیق وتنقید)2002میں ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاوس دہلی نے شئع کی۔ 3۔ آئینہ در آئینہ(تحقیقی وتنقیدی مضامین) 2004میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی۔ 4۔ میٹھا زہر(افسانے)2008میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی۔ 5۔ اعتبار ومعیار(تحقیقی وتنقیدی مضامین) 2011میں ایچ ایس۔ آفسیٹ دہلی نے چھاپی۔ 6۔ اردو ادب میں تانیثیت(تحقیق وتنقید)2013میں ایجو کیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی۔ 7۔ شعور بصیرت(تحقیقی وتنقیدی مضامین)2014میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی۔ 8۔ اندر کی باتیں(افسانے) 2015میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی کے ذریعے بہت جلد پریس میں جا رہی ہے۔

ہزاروں غم۔ افسانے.

غیر مطبوعہ تصانیف[ترمیم]

1۔ افہام وتفہیم زبان وادب( تحقیقی وتنقیدی مضامین) 2۔ خارستان کا مسافر(خود نوشت سوانح عمری) 3۔ تناظرات و تفکرات(تحقیقی و تنقیدی مضامین)

اعزازات[ترمیم]

  • 1۔ افسانہ کلب ملیر کوٹلہ(پنجاب)کی جانب سے 2010میں بہترین افسانہ نگار ایوارڈ ۔
  • 2۔ 2011میں جموں یونیورسٹی جموں تویّ نے ًمشتاق احمد وانی بحیثیت افسانہ نگار ً موضوع پر شکتی دیوی کو ایم فل کی ڈگری تفویض کی۔
  • 3۔ ستمبر 2012 میں گورنمنٹ ڈگری کالج کشتواڑ میں کالج کے پرنسپل محترم جناب ڈاکٹر شفقت رفیقی صاحب اور ڈاکٹر طارق تمکین کشتواڑی کی جانب سے منعقدہ ایک ادبی مجلس میں ڈ اکٹر مشتاق احمد وانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور ًجسم خور کیڑا ً کہانی سنائی۔
  • 4۔ 2013میں انگریزی کے معروف مبصر محترم جناب ڈاکٹر للت گپتا نے جموں کشمیر کے معیاری اور مشہور انگریزی روز نامہ " Daily excelsior"میں ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی تاریخ ساز کتاب" Feminism in urdu Literature"پر ایک بصیرت افروز تبصرہ شائع کروایا۔
  • 5۔ 16 دسمبر2013کو عزت مآب جناب این این وہرا گورنر ریاست جموں کشمیر نے اپنے راج دربار میں ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی معرکتہ الآرا کتاب ًاردو ادب میں تانیثیت ًکی رسم رونمائی انجام دی
  • 6۔۔ 15 اور 16 مارچ 2014 کو ملیر کوٹلہ پنجاب میں افسانہ کلب کی جانب سے ایک مومینٹو اور سند پیش کی گئی۔
  • 7۔ 22 جون 2014کو مالیگاوں(مہاراشٹر)میں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی ممبئی کی جانب سے ً وقار ادب ًایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔[1]
  • 8۔۔ 2014 میں اترپردیش اردو اکیڈمی لکھنؤ کی جانب سے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کی تحقیقی وتنقیدی کتاب ًاعتبار ومعیار ًپر 5000روپے کا انعام ملا۔
  • 9۔ دسمبر 2014کو ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کو عربی فارسی اور اردو یونیورسٹی آف مدراس کی جانب سے ًکاوش بدری ایوارڈ ًسے سرفراز کیا گیا۔
  • 10۔ 2014میں ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کو آل جے اینڈ کے ٹیچرس گلڈ کے ادبی سیل کا چیف آرگنائزر نامزد کیا گیا۔
  • 11۔۔ 10 مئ2015 کو افسانہ کلب ملیر کوٹلہ پنجاب کی جانب سے ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کو مومینٹو اور توصیفی سند پیش کی گئی۔
  • 12۔ 2015 میں حیدرآباد یونیورسٹی میں ًمشتاق احمد وانی کی افسانہ نگاریً کے موضوع پر ارشد احمد کوچھے کو ایم فل کی ڈگری تفویض کی گئی ۔

ڈاکٹر مشتاق احمد وانی کے توسیعی لیکچر[ترمیم]

آپ نے مختلف موضوعات پر ملک بھر کی جامعات میں لکچرس پیش کیے جن میں اردو زبان کی اہمیت و افادیت"، آج کا اردو افسانہ" "اردو شعرو ادب میں تانیثیت"، اردو افسانہ، اردو ناول ایک تعارف، جدید اردو افسانہ، 'اردو کا صوتیاتی نظام وغیرہ اہم ہیں۔

ازدواجی زندگی[ترمیم]

علاقہ مرمت(ضلع ڈوڈہ)سے مانتلائی تحصیل چہنینی۔ ضلع ادھم پور میں ہجرت1981میں۔ ازدواجی زندگی میں داخلہ 6۔ اکتوبر1991میں۔ رفیقئہ حیات کا نام راشدہ اختر(لیکچرر اردو10+2) اولاد رضاالرحمان(بیٹا) الیکٹریکل انجینئری میں زیر تربیت۔ اور صبا کریم(بیٹی) دسویں جماعت میں زیر تعلیم۔ ضلع ادھم پور سے ضلع جموں میں اپنے آشیانے میں تاریخ رہائش 6۔ اپریل2011۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  • ممتاز ادیب ڈاکٹر مشتاق احمد وانی ایک نظر میں: ڈاکٹر دلجیت ورما پروفیسر(اردو), گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج براے خواتین گاندھی نگر جموں(توی)