مطبع امیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
25 مارچ کے انقلاب کے دوران ایک ریلی امبابۃ میں واقع الهيئة العامة لشئون المطابع الأميرية کی عمارت کے سامنے سے گزرتی ہوئی۔

مطبع امیری ( عربی: المطابع الأميرية يا مطبعة بولاق) مصر کا ایک سرکاری پریس ہے۔ یہ پریس ان اداروں میں سے ایک ہے جن کو مصر کے حاکم محمد علی پاشا نے مصر کی ترقی اور اس کو دور جدید کی طرف منتقل کرنے کے لیے قائم کیا۔[1]

تاسیس[ترمیم]

مطبع بولاق میں لتھو گرافی کے سانچے
مطبع بولاق میں 1820ء میں استعمال ہونے والے لکڑی کے بنے حروف کے سانچے

مطبع بولاق کی تاسیس کی تاریخ 187 سال پرانی ہے، مطبع بولاق یا مطبع امیری کی تاسیس ستمبر 1235ھ بمطابق 1820ء میں ہوئی اور محمد علی پاشا کے عہد یں 1921ء میں باقاعدہ اس کا سرکاری طور پر افتتاح ہوا۔ شروع میں اس پریس سے صرف مصری فوج کی کتابیں اور ان سے متعلقہ چیزیں طبع ہوتی رہیں، بعد میں اس میں مزید ترقی ہوئی اور اس سے ادبی، علمی اور نصابی کتب کی اشاعت بھی ہوئی۔[2]

اکتوبر 1962ء میں محمد سعد پاشا نے اس پریس کو عبد الرحمن بیگ رشدی کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ پھر خدیوی اسماعیل باشا نے اسے خرید کر الدائرۃ السنیۃ کی ملکیت میں شامل کر دیا۔ پھر خویوی توفیق کے دور میں 20 جون 1980ء کو واپس حکومت کی ملکیت میں آگئی۔ 13 اگست 1956ء کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر  نے ایک قرارداد الهيئة العامة لشئون المطابع الأميرية کے قیام اور اس کو وزارت صنعت میں شامل کرنے کی پیش کی۔ اس کے  بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلااجلاس ک1 ستمبر 1956ء کو عزیز صدقی کی صدارت میں ہوا، جو اس وقت وزیر صنعت تھے، اس کے بعد اس پریس کے لیے باقاعدہ 35000 مربع میٹر اراضی پر اس کی علاحدہ عمارت کی تعمیر کی تجویز پیش کی گئی  اور اس پریس کے لیے طباعت کے جدید سے جدید مشینیں خریدیں گئیں۔ بروز سنیچر 28 جمادی الآخر 1393ھ مطابق 28 جولائی 1973ءکو  انور سادات کے عہد میں اس وقت کے وزیر صنعت ابراہیم سال محمدین نے جدید عمارت کا افتتاح کیا۔[2]

ادارہ کی مطبوعات[ترمیم]

  • سرکاری گزٹ: یہ مصری حکومت کا سرکاری گزٹ ہے اور ہر جمعرات کو شائع ہوتا ہے۔
  • الوقائع المصرية:  مصر کا سب سے قدیم اخبار ہے، اس وقت سرکاری گزٹ کے ضمیمہ کے طور پر روزانہ جمعہ اور سرکاری تعطیلات کے علاوہ شائع ہوتا ہے۔
  • سرکاری مطبوعات، قانونی کتابیں، قرآن کریم وغیرہ۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مطبعة بولاق۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 اکتوبر 2016ء۔
  2. ^ ا ب پ المطبعة الأميرية اخذ کردہ بتاریخ 7 اکتوبر 2016ء۔

 بیرونی روابط[ترمیم]