مقدمات عبدالحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مقدمہ عربی کی اصطلاح ہے جو دوسری زبانوں کی کتابوں کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت استعمال ہوتی ہے۔ اور اس کا تعلق” مقدمہ الجیش“ سے ہے۔ جیش کہتے ہیں لشکر کو۔ وہ ہر اول لشکر جو فوج کے آگے چلتا تھا۔ اس کو ”مقدمہ الجیش “ کہا جاتا تھا۔

جہاں تک ادبی مفہوم کا تعلق ہے تو مقدمہ سے مردا یہ ہے کہ کتاب کے شروع میں کتاب کے مصنف یا مولف کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ اس تعارف میں اُس کے زندگی کے حالات اور اُس کے کردار کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں اُس کی مختلف تصانیف پر بھی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ حالات اور سیرت پر روشنی ڈالنے کے بعد کتاب کی ادبی، فنی اور لسانی حیثیت بھی متعین کی جاتی ہے۔ اردو ادب میں مقدمہ نگاری کی باقاعدہ ابتداءکے سہرا مولوی عبد الحق کے سر ہے۔ اُن کے مشہور مقدمات میں ” سب رس کا مقدمہ“ ’انتخاب کلام میر“ اور ”باغ و بہار کا مقدمہ شامل ہیں۔

مولوی صاحب کے مقدمات[ترمیم]

مقدمات عبد الحق میں سب سے اہم وہ مقدمے ہیں جو خود ان کی مرتب کی ہوئی کتابوں پر لکھے گئے ہیں۔ یہ کتابیں اردو کے قدیم کلاسیکی ادب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کتابوں پر مولوی صاحب کے مقدمے تحقیقی اور تنقیدی نقطہ نظر سے روشنی ڈالتے ہیں۔ جس سے ان کی کتابوں کے مصنفوں کے حالات، شخصیت، ماحول اور ادبی مرتبے کے تمام خدوخال واضح ہو جاتے ہیں۔ ان مقدمات میں مولوی صاحب کے ذوق تحقیق نے عہد ماضی کے بیشتر مخفی حقائق کی نقاب کشی کی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہماری ادبی اور تہذیبی تاریخ میں انقلاب آفرین اضافے ہوئے ہیں اور مستقل کے مورخین و محققین کے لیے راہیں صاف ہو گئی ہیں۔

مولوی عبدالحق نے میر تقی میر پر دو معرکتہ الارا مقدمے لکھے ہیں۔ ایک ان کے انتخاب کلام میر پر ہے اور دوسرا میر کی خود نوشت، سوانح حیات، ”ذکر میر ‘ ‘ پر ہے۔ یہ مقدمے آ ج سے برسوں پہلے لکھے گئے ہیں لیکن ان میں میر کی زندگی، شخصیت اور شاعرانہ مرتبے پر پورے اطمینان سے دوٹوک انداز میں تحقیق کی ہے اور تنقیدی بصیرت سے خیال افروز فیصلے دیے ہیں۔

ایک خاص مدت تک ”کربل کتھا “ کو اردو کی پہلی نثر ی تخلیق سمجھا جاتا رہا لیکن بعد میں مولوی صاحب نے تحقیق کرکے یہ ثابت کر دیا کہ اردو ادب میں نثر کی پہلی باقاعدہ نثر کی کتاب ملا وجہی کی ” سب رس “ ہے۔ مولوی صاحب نے دوبارہ سب رس کو مرتب کرکے اس کا مقدمہ لکھا جو اپنی مثال آپ ہے۔ جس میں کتاب کو اردو کی پہلی نثر ی کتاب کہا گیا ہے۔ اور اس کے متعلق مکمل ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں مولوی صاحب کے تحقیقی انداز کی داد دینی پڑتی ہے۔

میرامن دہلوی کی ”باغ و بہار “ پر لکھا گیا مقدمہ، تحقیقی اعتبار مولوی عبد الحق کا نہایت اہم مقدمہ ہے۔ اس مشہور داستان کے ماخذ پر بحث کے بعد انہوں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے۔ وہ آج تک بھی حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔

عبد الحق کی مقدمہ نگاری کی خصوصیات[ترمیم]

بقول پروفیسر کلیم الدین احمد عبد الحق صاحب پختہ کار ہیں وہ عجلت سے کام نہیں لیتے محنت اور غور و فکر ان کی عادت ہے۔ وہ عموماً اپنے موضوعات پر کامل عبور رکھتے ہیں او ر جب تک بات کی تہ تک پہنچ نہیں جاتے ہیں، رائے زنی نہیں کرتے ہیں۔ انہیں مغربی اصول و تحقیق سے واقفیت ہے۔ جزئیات سے کافی شغف ہے اور معمولی سے معمولی با ت کو بھی نظرانداز نہیں کرتے ہیں۔“

مقدمہ نگاری فن ضرور ہے اُ س کے کچھ بنیادی اصول بھی ہیں ان اصولوں کا اُس میں خیال بھی رکھا جاتا ہے۔ بعض لوازم و عناصر اُس میں پیش نظر رکھے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود مقدمہ نگاری کی حیثیت کسی مستقل صنف ادب کی نہیں ہے۔ کسی زبان کے ادب میں بھی اُس کو ادب کی ایک باقاعدہ شاخ نہیں سمجھا گیا ہے۔ کیونکہ مقدمے تو کسی مصنف یا کسی کتاب کے بارے میں محض تعارف کے طور پر لکھے جاتے ہیں اور عام طور پر اُن کا انداز کچھ رسمی سا ہوتا ہے۔ اکثر تو وہ کسی کے کہنے پر لکھے جاتے ہیں۔ اس لیے ان میں وہ بات نہیں ہوتی جو کسی ادبی تصنیف کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

بابائے اردو کے مقدمات میں یہ بات نہیں ہے۔ وہ کسی کی فرمائش پر محض رسمی انداز میں نہیں لکھے گئے ہیں۔ مولوی صاحب کی مقدمہ نگاری کا ایک خاص ڈھب اور اردو میں مقدمہ نگاری کامعیار کہلاتا ہے۔ مولوی صاحب کے ادبی مقدمات عام طور پر تین خاص منزلوں سے گزرے ہیں سب سے پہلے وہ کتاب کے مصنف کا بھر پور تعارف کراتے ہیں اس کے علمی قابلیت، سیرت، تعلیم و تربیت، انداز فکر، تصنیفی شغف اور تحقیقی و تنقیدی صلاحیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ہمیں کتاب کے موضوع سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ روشناسی کچھ اتنی مفصل اور جامع ہوتی ہے کہ قاری اگر کتاب کے اصل موضوع سے چنداں واقف نہ ہو تو بھی مقدمے کے مطالعے کے بعد وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ کتاب سے استفادہ کر سکے۔ اس کے بعد مولوی صاحب کتاب کی طرف رجوع ہوتے ہیں یہ مقدمے کی تیسری اور آخری منزل ہوتی ہے۔ اس میں وہ کتاب کے سارے پہلوئوں کا ایک ایک کرکے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اور اردو زبان و ادب میں اس کی قد ر و قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ یہ سارا کام مولوی صاحب عجیب سادگی و دل نشینی کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔

اثر انگیزی[ترمیم]

ذہن میں کچھ اس طرح کی کیفیت مقدمات عبد الحق کے مطالعے کے بعد پیدا ہوتی ہے اگر آپ نے کسی کتاب کے سلسلے میں مولوی صاحب کا مقدمہ دیکھ لیا ہے تو پھر مطالعے کا یہ نشہ آسانی سے نہ اُترے گا۔ خمار سا طاری رہے گا۔ آپ اپنے آپ کو اصل کتاب پڑھنے پر مجبور پائیں گے۔ بات دراصل یہ ہے کہ مولوی صاحب کا مقدمہ موضوع کی حد تک قاری کو سیراب کرتا ہے۔ لیکن اس درجے بھی نہیں کہ قاری کتاب پڑھنے سے غافل ہوجاتا ہے۔ مولوی صاحب خوب جانتے ہیں کہ مقدمہ کتاب کا اصل نہیں بلکہ قاری کو کتاب اور اس کے نفس مضمون تک پہنچانے کا وسیلہ ہے۔ اس وسیلے کو مولوی صاحب وسیلہ ہی رہتے دیتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ان کے مقدمات کے مطالعے کے بعد قاری میں اصل کتاب کے مطالعے کا ذوق و شوق کم نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔

بلند پایہ محقق و نقاد[ترمیم]

اردو میں بلند پایہ محقق اور نقاد کا منصب مولوی صاحب کو ان کے مقدمات ہی کی بدولت ملا ہے۔ اور مقدمات ہی نے انہیں اردو تحقیق و تنقید کی تاریخ میں زندہ جاوید بنایاہے۔ اردو میں ادبی تحقیق کا اعلیٰ معیار بھی اول اول مولوی صاحب کے مقدمات سے نمودار ہوا ہے۔ ان کے مقدمات سے عملاً پہلی بار اس بات کا اظہار ہوا کہ بے جا کوہ کنی یا خواہ مخواہ بال کی کھال نکالنے کا نام تحقیق نہیں ہے۔ تحقیق کا اصل کام اہم حقائق کی نشان دہی اور ادب اور ادیب کی رہنمائی ہے۔ اس رہنمائی کا ادبی ذوق و شعور اور تنقیدی شعور سے گہرا رشتہ ہے اگر اس رشتے سے محقق بے نیاز ہو جائے تو پھر اس کی تحریر میں ادبیت نہیں رہتی۔ میونسپلٹی کے شعبہ وفات و پیدائش کا رجسٹر بن جاتا ہے۔ ان سے وفات و پیدائش کی صحیح تاریخیں تو معلوم ہو جاتی ہیں لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ موت و پیدائش کے درمیان کا فاصلہ کس نوعیت کا تھا اور مرنے والے نے اسے کس طرح طے کیا تھا۔

تنقید[ترمیم]

مقدمات عبد الحق کے تنقیدی اجزاءکی نوعیت بھی دوسروں سے بہت مختلف ہے۔ مولوی صاحب کے مقدمات میں تحقیق و تنقید دو الگ چیزیں نہیں رہیں بلکہ ادب کے رشتے سے دونوں ایک ہو گئی ہیں۔ وہ اس قسم کے نقاد یا مقدمہ نگار نہیں جو واقعات و حالات سے بے خبر رہ کر صرف نظری مسائل کے سہارے کسی تصنیف یا مصنف کے بارے میں اچھے برے ہونے کا حکم لگاتے رہتے ہیں۔ اور یہی سمجھتے ہیں کہ تنقید و تحقیق کا حق ادا ہوا۔ مولوی صاحب کا تنقیدی مسلک اس سے بالکل مختلف ہے اور مولوی صاحب کے مقدمات میں تنقید و تحقیق ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

تحقیق و تنقید کا باہمی ملاپ[ترمیم]

ان مقدمات میں تحقیق و تنقید کے عناصر ایک دوسرے میں اس طرح سے گھل مل گئے ہیں کہ ہم اسے ایک دوسرے سے الگ نہیں دیکھ سکتے۔ وہ تحقیق و تنقید دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں اور حسب ضرورت کہیں تحقیقی مواد سے اپنی تنقید کو اور کہیں تنقیدی شعور کی مدد سے اپنی تحقیق کو جاندار بناتے ہیں۔ کسی تصنیف پر قلم اُٹھاتے وقت تصنیف کے موضوع و مواد کے علاوہ صاحب تصنیف کا خارجی ماحول، اس کی سیرت، ذہنی محرکات، سماجی عوامل، ماحول کی تبدیلیاں اور اس کے اثرات، داخلی کیفیات اور نفسیاتی پیچیدگیاں سبھی چیزیں مولوی صاحب کے پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن وہ انہیں الگ الگ کرکے نہیں ایک دوسرے سے منسلک کرکے دیکھتے ہیں۔ ان کی تنقید میں ادب کے سارے حیات افروز نظریات اور مکاتب فکر کا احترام نظر آتا ہے۔ زندگی کی ساری مثبت قدروں کی ترجمانی ملتی ہے۔ لیکن اگر کوئی چاہے کہ ان کی تنقید کو کسی خاص قسم کے خانے میں رکھ دے تو یہ ممکن نہ ہوگا۔

اسلوب[ترمیم]

مقدمہ نگاری کے فن میں مولوی صاحب کے اسلوب بے ان اور انداز نگارش کو بھی ایک نمایاں مرتبہ حاصل ہے۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ اُن کے اس اسلوب نے ان مقدمات کی اہمے ت بہت بڑھا دی ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی مولوی صاحب کے مقدمات کے اسلوب کے بارے میں رقمطراز ہیں۔

”یہ مقدمات جو اتنے دلچسپ نظر آتے ہیں او ر ان میں جو اس قدر دلکشی کا احساس ہوتا ہے اُس کے سبب اُ ن کا اسلوب ہے۔ اسی اسلوب نے اُن میں وہ خصوصیا ت پیدا کر دی ہیں جو تخلیقی ادب میں پائی جاتی ہے۔“

سادگی اور روانی[ترمیم]

مولوی صاحب کا اسلوب صاف اور سادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سیدھے سادے انداز میں سوچتے ہیں اُن کے افکار و خیالات میں کسی قسم کا الجھائو نہیں ہے۔ اس لیے اسلوب میں بھی کوئی پر پیچ کیفیت نظر نہیں آتی۔ وہ جو کچھ محسوس کرتے ہیں اور جو کچھ سوچتے ہیں اُس کو آسان اور سادہ زبان میں ظاہر کر دیتے ہیں۔ اُن کے خیالات میں ایک فطری روانی اور بہائو اُس کی نمایاں ترین خصوصیت ہے۔ اُس میں کسی قسم کی کاوش کا احساس نہیں ہوتا۔ تکلف اور تصنع سے وہ کم نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ تکلف اور تصنع تو اُن کے مزاج ہی میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے اسلوب میں آرائش و زیبائش کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ سجا سجایا نہیں ہے۔ لیکن اس میں ایک باقاعدگی ضرور ہے اور اسی باقاعدگی اور خوش سلیقگی ہی میں اس کا حسن ہے۔ اس حسن کا زیور سادگی ہے اور اس سادگی میں اُن کے یہاں ایک پرکاری نظر آتی ہے۔

زبان دانی[ترمیم]

مولوی عبد الحق زبان دانی کا گہرا شعور رکھتے تھے۔ زبان کی پیدائش، ارتقاءاور نشو و نما کے متعلق ان کے مقدمات میں جس طرح صراحت کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب ایک اعلیٰ پائے کے زبان دان تھے۔ کسی زبان کی تشکیل و ترویج میں جن سے اسی، تہذیبی اور تاریخی عوامل کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ اس سے بھی مولوی صاحب کی واقفیت کا پتہ چلتا ہے۔ قواعد اردو جو خود مولوی صاحب کی قابل قدر تالیف ہے۔ اس پر لکھے گئے مقدمے میں وہ علم اللسان کا اصول ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ، ”زبان نہ کسی کی ایجاد ہوتی ہے اور نہ کوئی اسے ایجاد کر سکتا ہے۔ جس اُصول پر بیج سے کونپل پھوٹتی ہے۔ پتے نکلتے ہیں، شاخیں پھیلتی ہیں، پھل پھول لگتے ہیں اور وہی ایک ننھا سا پودا ایک تناور درخت ہو جاتا ہے اسی اُصول کے مطابق زبان پیدا ہوتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہی۔“

سید عبد اللہ کی رائے[ترمیم]

”مقدمات عبد الحق “ کی ارد و ادب میں یہ خاص اہمیت ہے کہ اس میں مقدمہ نگاری کا ایک اسلوب ِ خاص ایجاد ہواہے۔ ہماری زبان میں مقدموں اور دیباچوں کی کمی نہیں مگر مقدمہ نگاری کو ایک خاص فن بنانے والے صرف عبد الحق ہیں۔ بعض لوگ مقدمہ نگاری کو آسان چیز سمجھتے ہیں مگریہ ان کی بھول ہے۔ تبصرے اور علمی مقالے کے مقابلے میں مقدمہ نگاری کی ذمہ داریاں اور دشواریاں بہت زیادہ ہیں۔ جن پر عموماً غور نہیں کیا جاتا۔ مقدمہ دراصل تبصرے سے طویل تر اور علمی مقالے سے مختصر جسم کا ایک مضمون ہوتا ہے۔ مقدمہ نگاری میں تنقید جیسی خشک چیز بھی دلچسپ ہو کر سامنے آنی چاہیے ورنہ کتاب کا تعارف ناکام رہے گا۔ اسی طرح مقدمہ تبصرہ بھی نہیں ہوتا، تبصرے میں جزئیاتی تفصیل قدرے طویل تر ہوتی ہے۔ اور اس کے مطالعے کے لیے قدرے طویل کی گنجائش ہے۔ مولو ی عبد الحق نے ان سب رعایات کو مدنظر رکھا ہے اور اس معاملے میں بہت کم لوگ ان کے درجے تک پہنچ سکے ہیں ۔

مجموعی جائزہ[ترمیم]

دراصل مولوی صاحب کے ادبی سرمائے کا سب سے اہم اور قابل قدر حصہ ان کے مقدمات ہیں۔ ہر چند کہ یہ مقدمات بھی کسی خاص کتاب اور اس کے مصنف کی علمی و ادبی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ لیکن ان مقدمات کااس سے بھی اہم تر پہلو یہ ہے کہ خود مولوی صاحب کے ادبی کاموں کی قدر و قیمت کا تعین کرنے میں جو مدد ان مقدمات سے ملتی ہے وہ ان کے کسی اور تحریر سے نہیں ملتی۔

یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ مولوی صاحب نے مجاہدانہ زندگی کی صد ہا پریشانیوں کے اندر رہ کر بھی کتنا جان دار سرمایہ ادب پیدا کیا ہے اور یہ دیکھ کر تو اور بھی حیرت ہوتی ہے۔ کہ ان کی تحقیق کتنی برمحل ہے ان سب سے زیادہ یہ کہ ان کی تحریر رواں اور الجھنوں سے پاک ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب اوصاف لامثال کوہ کنی اور غیر معمولی جاں فشانی اور عشق کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتے۔ اسلوب میں حالی کا انداز انہیں پسند ہے۔ مگر مولوی صاحب حالی کے مداح ہیں ان کے مقلد نہیں۔ تحریر میں ان کا رنگ منفر دہے اور ان کی یہی وجہ انفرادیت ان کو اردو میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔