مہاراشٹر میں دلت مظاہرے، 2018ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دلت مظاہرے، 2018ء بھارتی صوبہ مہاراشٹر میں ہونے والے وہ مظاہرے ہیں جو پونہ شہر میں ایک پر تشدد واقعہ کے بعد شروع ہوئے۔ 1 جنوری 2018ء کو پونہ میں معرکہ کورے گاؤں کی دو سویں سالگرہ منانے پر ایک دلت شخص کو قتل کر دیا گیا جس کے بعد پورے مہاراشٹر میں دلتوں نے زبردست مظاہرے کیے [1][2][3] اور 3 جنوری کو بھیم راؤ امبیڈکر کے پڑ پوتے اور دلت رہنما پرکاش امبیڈکر نے "مہاراشٹر بند" کا اعلان کیا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Protests spread in Maharashtra post clashes during bicentenary celebrations of Bhima-Koregaon battle"۔ دی ہندو۔ 2 جنوری 2018ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018ء۔ 
  2. "Dalit protests, violence mar Bhima-Koregaon battle anniversary event"۔ لائیو منٹ۔ 2 جنوری 2018ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018ء۔ 
  3. "Monument at Koregaon"۔ انڈین ایکسپریس۔ 2 جنوری 2018ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018ء۔ 
  4. "Dalit leader Prakash Ambedkar calls off Maharashtra bandh"۔ ٹائمز آف انڈیا۔ 3 جنوری 2018ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جنوری 2018ء۔