ولادیسلاو تُورووِچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ولادیسلاو تُورووِچ
معلومات شخصیت
پیدائش 23 اپریل 1908  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سائبیریا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 جنوری 1980 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات ٹریفک حادثہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
رہائش Karachi, Pakistan
شہریت Flag of Poland.svg پولینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل Polish
مذہب Christianity-پروٹسٹنٹ مسیحیت
عملی زندگی
مقام_تدریس Polish Air Force Academy
Royal Air Force College Cranwell
پاکستان ایئر فورس اکیڈمی


پاکستان خلائی و بالافضائی تحقیقی ماموریہ

ڈاکٹری مشیر Dr. Antoni Kocjan
پیشہ طبیعیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ہوافضائی ہندسیات
عسکری خدمات
شاخ پاک فضائیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
عہدہ بریگیڈیئر جنرل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں دوسری جنگ عظیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

ایئر کموڈور ولادیسلاو تُورووِچ 1908 میں سائبیربیا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔ وہ پاکستان کے میزائل و راکٹ پروگرام کے بانی ہیں۔ آپ ایک معروف خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ہوابازی کا شوق اپ کو وارسا لے گیا جہاں آپ نے ایرو سپیس اینجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ مزید تعلیم جاری رکھی اور 1926 میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم رائل ایئرفورس میں لڑی۔ 1948 مین پولینڈ کے بگڑتے حالات کے ہیش نظر فوجی افسران امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ آپ نے اپنے دیگر 45 ساتھیوں سمیت پاکستان ایئرفورس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ آپ نہایت قابل افسر تھے اور ترقی کرتے ہوئے 1959 میں ایئرکموڈور بنا دئے گئے۔ 1965 کی انڈوپاک جنگ میں لاہور کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا اور پھر کچھ عرصہ کے لیے پاکستان ائیر فورس کے ائیر مارشل بھی رہے۔ 1966 میں آپ کو سپارکو کا سربراہ لگایا گیا۔ آپ نے ڈاکٹر عبد السلام کے ساتھ مل کر ایوب خان سے ملاقات کی، انہیں آمادہ کیا کہ پاکستان کا خلائی اور راکٹ پروگرام ناگزیر ہے۔ ایوب خان کی آمادگی ملتے ہی آپ اور ڈاکٹر عبدالسلام امریکا روانہ ہوئے اور نہایت کامیابی سے ناسا کو تعاون کے لیے آمادہ کر لیا۔ بغیر وقت ضایع کیے سونمیانی بلوچستان میں مصنوعی سیارے داغنے کا مرکز قائم کیا،اور ستر کی دہائی کے اختتام تک پاکستان راکٹ سازی میں کافی ترقی کر چکا تھا۔ آپ کی بیوی صوفیہ ولادیسلا پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ تھیں۔ 8 جنوری 1980 کو آپ کراچی میں ایک بظاہر کار حادثے میں ملک دشمنوں کے ہاتھوں شہید کر دئے گئے۔ آپ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ کراچی کے مسیحی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ضیاءالحق نے اس حادثے کی تحقیقات کو پس پشت ڈال دیا۔ ایئر کموڈور ولوادیسیوف دورووچ ستارہ قائد اعظم ، ستارہ پاکستان ستارہ امتیاز تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]