ٹرانس ہیومن ازم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ٹرانس ہیومن ازم ایک عالمگیر ثقافتی تحریک ہے۔ اس کا مقصد ٹرانس ہیومنز پیدا کرنا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دنیا کی توجہ اس تصور و ترکیب کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ سائنس کے مختلف شعبہ جات کے ملاپ سے ہم بہت جلد یا عن قریب ہی رو نما ہونے والے کسی دور میں اس قدر قابل ہو جائیں گے کہ لفظ ’’انسان‘‘ کی بنیادی تعریف اور تصور کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرسکیں۔ اس مثال محاورۃً نہیں بلکہ حقیقتاً اس طور سے کی جاتی ہے کہ اب انسانی ڈی این اے کی زبان کو سائنس دان دوبارہ لکھ سکنے کے قابل ہوچکے ہیں۔ یہ لوگ محض اپنی وراثیاتی بناوٹ تبدیل کرکے اپنے آپ کو ایک زیادہ ارتقا یافتہ نوع میں بدل سکتے ہیں۔ گویا بنی نوع انسان اپنے نوع کے جان داروں کا ورژن 2.0 تخلیق کرنے پر قادر ہو چکے ہیں۔ اس تحریک کو عام طلبہ یا اساتذہ میں ایچ پلس (H +) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دراصل ہیومنز پلس کا اختصار ہے۔ ٹرانس ہیومنز متصورہ طور پر اصل میں ایسے انسان ہوں گے جنہیں دوسرے لفظوں میں ’’زیر تبدیلی لوگ‘‘ کہہ سکتے ہیں یا اس سے بھی بہتر نام ہوگا، ’’ما بعد بنی نوع انسان‘‘۔[1]

فطری طور پر رو نما ہو رہی تبدیلی[ترمیم]

کچھ لوگ انسانوں کی تبدیلیوں کو فطری طور رو نما ہو رہی تبدیلیوں کے ایک سلسلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی مصنوعی ذہانت تھی۔ اس کے بعد دنیا مائیکرو چپ سے متعارف ہوئی۔ اب یہ دور آیا ہے کہ ٹرانس ہیومن ازم اور رانس ہیومنوں کی دنیا کا تصویر پیش کیا گیا ہے جو ممکن ہے کہ کبھی آگے چل کر حقیقت کا روپ لے لے۔[2]

عوامی ذریعہ ابلاغ میں[ترمیم]

  • ٹرانس ہیومن کے عنوان سے ایک ٹیلی ویژن فلم جاری ہو چکی ہے۔ اس کی ہدایت ایروینگ گرین نے کی۔ یہ مستقبل پسند، ڈرامائی پیش کش رہی ہے جس میں انسانی نوع کے مسائل اور اس کی کامیابیوں کو پردے پر دکھایا گیا۔ اس میں انسانوں کے لیے ممکنہ ترجیحات اور تبدیلیوں کا بھی مؤثر انداز میں ذکر بھی موجود ہے۔[3]
    * ایمیزون اسٹوڈیوز میں دو گھنٹے طویل سائنسی موضوع کا ڈراما ایسٹ آف ویسٹ اور ٹرانس ہیومن سیریز کی تیاری 2018ء میں شروع ہو گئی ہے۔ یہ دونوں ہیکمین سیریز پر مبنی ہیں۔ دی واکینگ ڈیڈمین کے خالق رابرٹ کیرک مین اس سیریز کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔ ان کی کمپنی اسکائی باؤنڈ انٹرٹینمنٹ بھی اس تیاری میں شامل ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]