ٹورانٹو 18

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

2006ء میں شہر ٹورانٹو میں دہشت گردی گرفتار ہونے والے 18 مسلمان افراد، جن میں اکثر جوان لڑکے تھے، اخبارات میں ٹورانٹو 18 کے نام سے پکارے گئے۔ کینڈائی حکومت کے مطابق ان افراد نے اوٹاوا اور ٹورانٹو میں پارلیمان اور دوسری عمارتوں کو بم سے اڑانے اور وزیر اعظم کا سر دھڑ سے جدا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حکومت نے ایک مخبر مبین شیخ اور ایک دوسرے گمنام شخص کو ان لوگوں کو پھنسانے کے لیے 4.5 ملین ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔ گرفتاری کے وقت اخبارات نے اس عظیم کامیابی کا چیختی چنگھارتی سُرخیوں سے اعلان کیا۔ حب ان افراد کو ٹورانٹو کے نواحی شہر برامپٹن کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغی سرکس کو دکھانے کے لیے پولیس کے طاق نشانہ بازوں نے عمارتوں کی چھتوں پر مورچے باندھے۔ برامپٹن کی عدالت میں کسی منصف کے سامنے پیش کرنے کی بجائے انھیں امن منصف کے سامنے پیش کیا گیا۔ کینیڈائی اس کارنامہ پر امریکا سے ستائش کی توقع رکھ رہے تھے مگر امریکی سیاست دانوں نے کینیڈا کو "دہشت گردوں کی پناہ گاہ" کہنا شروع کر دیا، جس پر کینیڈائی اخباروں نے پینترا بدلا اور ان گرفتاریوں کی سنگینی کو کم کر کے بیان کرنے لگے۔

الزامات[ترمیم]

گرفتارشدگان کے خلاف سب سے بڑا "ثبوت" یہ بتایا گیا کہ انھوں نے کئی ٹن کھاد خریدنے کی کوشش کی تھی جس سے وہ ایک بڑا قنبلہ بنایا چاہتے تھے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ rcmp/csis کا افسر انھیں کھاد خرید کر دینے کا سواگ رچا رہا تھا۔ کچھ بچوں پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے انٹاریو کے شمال میں سفر کر کے paint ball کا کھیل کھیلا تھا، جو کینڈائی ماہروں کے مطابق جنگی تربیت کی ذیل میں آتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مخبر مبین شیخ نے اس سفر کے انتظامات کیے تھے۔

خفیہ تفتیش و نگرانی[ترمیم]

کینڈائی اداروں کے مطابق وہ کئی سالوں سے ان 18 افراد کی خفیہ نگرانی کر رہے تھے۔ خفیہ کی حقیقت البتہ یہ تھی کہ ٹورانٹو کے مئیر ڈیوڈ ملّر تک کو اس پورے عالج کا علم تھا۔ آخری دنوں میں امریکی ادارے بھی اس میں شامل ہو گئے۔ مبین شیخ کا پول اس طرح کھلا کہ ٹورانٹو کی مساجد میں کچھ گرفتاشدگان کے ساتھ باریش مبین شیخ اکثر دیکھا جاتا تھا، مگر مسلمان برادری کو حیرت ہوئی کہ اسے گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد مبین شیخ کی حقیقت چھپانا ممکن نہ رہا اور اخبارات نے شیخ کی تصاویر چھاپ دیں۔

ساڑھے چار ملین ڈالر[ترمیم]

حکام کے مطابق مخبر مبین شیخ اور ایک گمنام شخص پر 4.5 ملین ڈالر (کانڈائی) کی خطیر رقم خرچ ہوئی۔ چونکہ مبین شیخ پہلے سے ہی CSIS کا تنخواہ دار مخبر تھا، اس لیے اتنی بڑی رقم اس کو ملنے کے امکانات تو نہیں۔ کسی کانڈائی اخبار کو یہ تحقیق کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ آخر اتنی بڑی رقم کس کی جیب میں گئی؟

مخبر دہشت گرد[ترمیم]

مقدمہ میں سزا دینے کے لیے کینڈائی عدالت نے مبین شیخ کی گواہی پر اعتبار کیا جو سرکار تاج کا مخبر تھا۔ البتہ تاج کے خفیہ محکمہ CSIS نے امریکی سرکار کو بتایا کہ مبین شیخ خود دہشت گرد حرکات میں ملوث ہے۔[1]

مجرم![ترمیم]

کینڈائی عوامی رائے میں یہ افراد مسلمان ہونے کے ناطے مجرم ہیں اور کسی خاص ثبوت کی ضرورت نہیں۔ 2006ء میں ان گرفتاریوں کے بعد ریاستی دہشت کا یہ عالم تھا کہ ٹورانٹو کی وسیع مسلمان برادری میں سے کوئی ان افراد سے کسی قسم کی جان پہچان قبول کرنے پر تیار نہ تھا۔ سکاربورو مسجد کی انتظامیہ نے ذرائع ابلاغ کو گرفتاریوں کے کچھ دن بعد مدعو کیا تو گلوب اور میل کی کالم نگار کرسٹی پلیچفورڈ نے جارحانہ کالم لکھا جس میں کہا کہ اسے مسجد سے سخت بدبو آئی[2](مسجد کے ساتھ ہی کوڑا کرکٹ انبار کا سرکاری اڈا ہے)۔

مقدمہ اور سزائیں[ترمیم]

تمام بالغ افراد کو کچھ سال جیل میں رکھنے کے رہا کر دیا گیا کیونکہ تاج کینیڈا کے پاس کسی جرم کا ثبوت نہ تھا۔ باقاعدہ مقدمہ سے پہلے کی کارروائی کے دوران مبین شیخ جب گواہ کی کرسی پر بیٹھا تو اس نے ملزموں کو خطرناک نہیں بلکہ صرف نابالغ بیوقوف بتایا جس پر تاج نے بوکھلا کر ابتدائی کارروائی بند کرا دی اور منصف کو بتایا کہ اب براہ راست بڑے مقدمے کی کارروائی کی طرف چلیں گے۔ مقدمہ سازش ابھی شروع نہیں ہو سکا۔ تاہم ایک بچے کو دکان سے چوری کے الزام میں تین چار سال قید کے عوض رہا کر دیا گیا۔ ایک اور بچے سے "اعتراف جرم" حاصل کر کے اسے 13 سال کی قید سنا دی گئی۔ باقی افراد اب تک (2009ء) جیل میں سڑ رہے ہیں۔ 18 جنوری 2010 کو کینیڈا کی ایک "عدالت" نے دہشت گردی کے خلاف بنائے خاص "قانون" کے تحت زکریا امارہ کو سرکردہ مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔[3]

سزاوں کے خلاف انٹاریو کی بڑی عدالت میں جب استدعا کی گئی تو عدالت نے دسمبر 2010ء میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے قید کی مدتیں بڑھا دی۔ عدالت نے کہا کہ کیننڈائی منشور برائے حقوق و آزادیاں کا یہاں اطلاق ہی نہیں ہوتا اور کینڈائی سرکار کے بنائے قوانین بالکل درست ہیں۔ کینڈائی وزیر برائے عوامی حفاظت نے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔[4] مارچ 2011ء میں شریف عبد الحلیم کو بغیر کوئی ثبوتِ عمل کینڈائی عدالت نے عمر قید کی سزا سنا دی۔[5]

مزید[ترمیم]

  1. Key CSIS, RCMP operative denounced to U.S.: WikiLeaks: Crown’s star witness in Toronto 18 trial named to U.S. as conspirator (19 مئی 2011ء)۔ سی بی سی http://web.archive.org/web/20181226134014/https://www.cbc.ca/news/world/story/2011/05/18/mubin-shaikh-wikileaks.html%20۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 مئی 2011۔ line feed character in |author= at position 55 (معاونت); |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  2. گلوب اور میل
  3. 18 جنوری 2010ء، تورانتو ستار، "Toronto 18 ringleader gets life in prison"
  4. کینڈائی نشریاتی ادارہ، 17 دسمبر 2010ء، "Khawaja terrorism conviction upheld"
  5. "Toronto 18 member gets life sentence"۔ cbc۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2011۔