پروین فرزانہ ابصار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پروین فرزانہ ابصار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جنگلاتی حیات میں اپنی ماسٹرز ڈگری تکمیل کر رہی ہیں۔ وہ اخبارات و الیکٹرانک میڈیا کی توجہ کا مرکز 2017ء میں بن گئیں جب انہوں نے شمال مشرقی بھارت کی ریاست میگھالیہ میں کیکڑوں کی ایک نئی نسل ڈھونڈ کر نکالی جس کا نام ان ہی کے اوپر یعنی ٹیریٹامون ابصارم (Teretamon Absarum) رکھا گیا ہے، حالاں کہ وہ یہ دعوٰی کرتی ہیں کہ یہ نام درحقیقت ان کے والد احسان ابصار اور والدہ فرزانہ ابصار کے نام پر رکھا گیا ہے۔[1]

نئی دریافت کی اہمیت[ترمیم]

پروین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر عروس الیاس کے تحت شعبہ جنگلاتی حیات سائنس کے تحت اپنا مقالہ تیار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق پروین جو صرف 29 سال کی ہیں، جانوروں کسی بھی نئی نسل کو کھوج نکالنے سب سے کم عمر لوگوں میں سے ایک ہے۔ یہ بجائے خود پروین کی ریاست اور ان کے ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔ ایک اور بات جو پروین کو دیگر کھوجی شخصیات سے الگ کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ پروین نے اپنی دریافت کسی امدادی تحقیق کے تحت نہیں کی بلکہ یہ کام اس نے گپھاؤں کے ماحولیاتی نظام (cave ecosystem) میں اپنی گہری دل چسپی کی وجہ سے کر پائی ہے۔[2]

ٹیریٹامون ابصارم[ترمیم]

پروین کی جانب سے کھوج نکالا گیا کیکڑا خود میں بہت ہی کم خون رکھتا ہے۔ یہ اس وجہ سے بالکلیہ سفید یا بے رنگ ہوتا ہے۔ یہ کیکڑا تقریبًا اندھا ہوتا ہے اور گپھاؤں کی دیواروں کے تاریک کونوں میں رہتا ہے۔ یہ قد و قامت میں بہت کم ہے۔ ایک بالغ کیکڑا محض 2 سینٹی میٹر کا ہوتا ہے۔دیگر کیکڑوں کے بر خلاف اس کیکڑے کے بے حد باریک پاؤں پر بال ہوتے ہیں۔ [2]

اس تحقیق سے متعلق معلومات کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے جانوروں کی زمرہ بندی کرنے والے سائنسی جریدے زوٹکسا میں یہ تحقیق اور نسل کی زمرہ بندی چھپنے کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔[2]

ماحولیاتی حیات کے تحفظ کا جذبہ[ترمیم]

حالاں کہ پروین اپنی تحقیق سے بے حد خوش ہیں، مگر وہ بر سر عام اس گپھا کی نشان دہی کرنے سے انکار کر دیا جہاں سے یہ مخصوص نسل کا کیکڑا دست یاب ہوا تھا۔ یہ غالبًا اس وجہ سے ہے کہ ان جان داروں کا تحفظ بنا رہے۔[2]

پروین کے مطابق میکھالیہ میں گہرے 1600 گپھائیں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں ملک کی دس میں تو سب سے بڑی گپھائیں شامل ہیں۔ ان گپھاؤں میں مچھلی، جھینگے، مکڑی اور باریک رینگتے جاندار موجود ہیں جو خردبینی وجود رکھ کر بھی جب بھی کسی پتھر پر گزرتے ہیں، ایک غیر میکانیکی آنکھ کو یہ احساس دلاتے ہیں جیسے کہ رگیں پتھر سے گزر رہی ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]