پیٹرو پوروشینکو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پیٹرو پوروشینکو
Petro Porochenko au Conseil de l’Europe Strasbourg 26 juin 2014 04.jpg
5ویں یوکرین کے صدر
دفتر سنبھالا
7 June 2014
وزیر اعظم آسینیئی یتسینیوک
وولودیمیر گروئسمین
پیشرو اولیکساندر تورچینوف (کارگزار)
دوسری وزارت معاشی ترقی و تجارت (یوکرین)
عہدہ سنبھالا
23 مارچ 2012 – 24 دسمبر 2012
وزیر اعظم میکولا آزاروف
پیشرو آندریف کلوییف
جانشین ایہور پراسولوف
9 ویں وزارت خارجہ امور (یوکرین)
عہدہ سنبھالا
9 اکتوبر 2009 – 11 مارچ 2010
وزیر اعظم یولیا تیموشینکو
اولیکساندر تورچینوف (کارگزار)
پیشرو وولودیمیر خاندوہی
جانشین کوستیانتین گریشینکو
چوتھی معتمد برائے قومی صیانت اور دفاعی کونسل
عہدہ سنبھالا
8 فروری 2005 – 8 ستمبر 2005
صدر ویکٹر یوشچینکو
پیشرو وولودیمیر رادچینکو
جانشین اناتولی کیناخ
ذاتی تفصیلات
پیدائش پیٹرو اولیکسی ویویخ پوروشینکو
26 ستمبر 1965ء (عمر 52 سال)
بولہراد، یوکرین بہ زمانہ سویت یونین، ہسوویت یونین
سیاسی جماعت سوشیل ڈیموکرینٹ پارٹی آف یوکرین
(1990–2001)
آزاد
(2001–2002; 2012–2014)
آئر یوکرین بلاگ
(2002–2012)
پیٹرو پوروشینکو بلاک
(2014–present)
شریک حیات مرینا پیریویدینتسیوا
اولاد اولیکسیئی
ییفہینیا
اولیکساندرا
میخائیلو
رہائش مرییینسکی پیالیس (official)
کوزائن، کیف اوبلاست (ذاتی)
مادر علمی تاراس شیفچینکو یونیورسٹی آف کیف
مذہب

Ukrainian Orthodox[1][2]

َ</ref> یوکرینی آرتھوڈاکس چرچ (روس کاپدرانہ نظام
دستخط
ویب سائٹ سرکاری ویب سائٹ
فوجی خدمات
تابعداری Flag of the Soviet Union.svg سوویت اتحاد
سروس/شاخ سوویت فوج
سالہائے خدمات 1984–1986

یوکرین کے 2014ء صدارتی انتخابات میں ارب پتی کاروباری امیدوار پیٹرو پوروشینکو باقاعدہ کامیاب اترے۔ وہ کاروباری حلقوں میں اپنی تجارت کی وجہ سے ’چاکلیٹ کنگ‘ کے نام سے مشہور ہیں۔

انتخابات میں شاندار کامیابی[ترمیم]

یوکرین میں جہاں باغیوں کے زیر اثر علاقے میں صرف بیس فیصد پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے جا سکے، وہیں بقیہ ملک میں رائے دہندوں نے بڑھ چڑھ کر پولنگ میں حصہ لیا۔ پیٹرو پوروشینکو کو مطلوبہ ہدف یعنی پچاس فیصد سے کہیں زائد ووٹ حاصل ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے اس سال دوسرے مرحلے کا الیکشن نہیں کیا گیا۔ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے یورپی سکیورٹی و تعاون کی تنظیم او ایس سی ای کے ایک ہزار مبصرین بھی ملک میں موجود تھے۔

صدارتی کرسی سے پہلے کی زندگی[ترمیم]

کرسی صدارت پر فائز ہوتے وقت پورو شینکو 48 برس کے تھے۔ وہ ٹافیاں بنانے کے کاروبار لگے ہوئے ہیں اور اِسی وجہ سے ان کی عرفیت چاکلیٹ کنگ ہے۔ جہاں باقی ملک میں ان کا خیرمقدم کیا گیا، مشرقی یوکرین کے روس حامی باغیوں نے پوروشینکو کی کامیابی کو مسترد کر تے ہوئے انہیں آدھے یوکرائن کا صدر قرار دیا۔

سیاسی طور پر بااثر شخصیت کا ان کے حق میں دست بردار ہونا[ترمیم]

یوکرین کے مکے بازی کے چیمپیئن ویٹالی کلیچکو شروع میں صدارتی الیکشن کے امیدوار تھے تاہم انہوں نے پیٹرو پورو شینکو کے حق میں دستبرداری اختیار کی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ انہیں دار الحکومت کییف کے میئر کا انتخاب لڑنے میں مدد ملی اور جیت گئے۔

شورش زدہ علاقوں میں بین لاقوامی امن دستوں کی حمایت[ترمیم]

پیٹرو پوروشینکو نے داخلی بحران پر قابو پانے کے لیے یہ تجویز پیش کی کہ مشرقی یوکرین کے شورش زدہ خطے کے لیے سب سے بہتر یہی ہو گا کہ اسے یورپی یونین کے پولیس مشن کے حوالے کر دیا جائے۔ پوروشینکو کے مطابق ان کے ملک میں 14 روسی فوج کے بٹالین موجود ہیں اور ان میں شامل 9000 روسی مسلح فوجی ملک میں شورش پھیلا رہے ہیں۔ تاہم وہ ملک کی فوج کی جدیدکاری کے حامی ہیں تاکہ ہم مشکل صورت حال کا سامنا کیا جا سکے۔

بیرونی ممالک سے بہتر تعلقات کی کوشش[ترمیم]

پوروشینکو نے پہل کی اور کئی ملکوں سے اپنے ملک کے ساتھ بہتر تجارتی اور سفارتی تعلق بنانے کی کوشش کی۔ 2016ء میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے نیٹو سربراہوں اجلاس کے دوران وارسا میں پوروشینکو سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات ایکگھنٹے جاری رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]