پی خلیف اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پی خلیف اللہ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1888  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1950 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پی خلیف اللہ (1888ء- 1950ء) صوبہ مدراس، برطانوی بھارت کے سیاست دان تھے۔ انہوں نے اپریل تا جولائی 1937ء کے دوران میں کرما ویکانتا ریڈی نؤاڈو کے عوامی امور کے وزیر کی حیثیت سے بہت کم عرصہ کے لیے بھی خدمات سر انجام دیں۔ وہ راٹھور کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے۔ ان کے والد ٹی اے پچائی راٹھور تیروچراپالی کے ایک امیر کاروباری انسان تھے۔ کلیف اللہ کی پیدائش 1888ء تیروچی میں ایک امیر تاجر گھرانے میں ہوئی اور ان کا پیدائشی نام محمد پیچائی راٹھور ابراہیم کلیف اللہ تھا۔ وہ برطانوی عطا کردہ اعزازی نام خان بہادر سے جانے جاتے تھے۔ بعد میں ان کے پتوکڈائی کے دیوان کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے پر انہیں دیوان کلیف اللہ کے طور پر زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ کلیف اللہ کی خاندانی جڑیں ضلع پوڈوکٹائی کے گاؤں للیپور میں جا ملتی ہیں۔ ان کے پردادا ایک ہندو تاجر تھے اور تیتکورین کی طرف کاروباری سفر کے دوران میں ان کے معدہ میں شدید ترین تکیف ہو گئی۔ ایک صوفی بزرگ جو قریب ہی کی مسجد میں رہتے تھے ، انہوں نے اس کے لیے دعا کی۔ اس واقعہ کے بعد ان کے پردادا نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ پی کلیف اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے کی زبانی ہے جو اس وقت 84 سال کا ہے اور چنئی میں ایک ریٹائرڈ انجینئر کے طور پر زندگی گزار رہا ہے۔ پی کلیف اللہ اپنے چھ بھائیوں اور سات بہنوں میں سب سے بڑا بچہ تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم تریچی میں حاصل کی اور مدراس یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی۔ قطب الدین کا کہنا ہے کہ وہ 1913ء میں جنوبی ہندوستان کے سب سے پہلے مسلمان تھے جس نے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ "میرے دادا ایک بہت سمجھدار بصیرت کے حامل انسان تھے اور اپنے تمام بیٹوں کی تعلیم میں دلچسپی رکھتے تھے۔" مزید وہ کہتا ہے کہ "تعلیم حاصل کرنے کے بعد زندگی میں دوسروں کی مدد کا یہ طریقہ تھا۔" پی کلیف اللہ نے گریجویشن کے فوراً بعد ہی قانوں کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور برطانیہ جانے لگا۔ لیکن وہاں ان کا قیام چند روزہ ہی ثابت ہوا۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے والد کے جنازہ میں شرکت کے لیے واپس بھارت آنا پڑا۔[1][2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. More، J.B.P (1997). Political Evolution of Muslims in Tamil Nadu and Madras 1930–1947. Orient Blackswan. صفحات 140–151. ISBN 978-81-250-1192-7. OCLC 37770527. 6 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. Justice Party Golden Jubilee Souvenir, 1968. 
  3. The Indian geographical journal ، Volumes 7-8. 1933. صفحہ 46. 
  4. Khursheed Kamal Aziz (1992). Public life in Muslim India, 1850–1947:. Vanguard. صفحہ 283. ISBN 978-969-402-119-5.