چودھری ظہور الٰہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چودھری ظہور الٰہی
معلومات شخصیت
پیدائش گجرات، پاکستان
وفات 25 ستمبر 1981ء
گجرات، پاکستان
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاستدان
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

چودھری ظہور الٰہی گجرات، پنجاب، پاکستان کے سیاست دان تھے۔

ولادت[ترمیم]

چودھری ظہور الٰہی گجرات کے ایک قصبے نت میں 1921ء میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام چودھری سردار خان تھا ۔

تعلیم[ترمیم]

زمیندا رہائی اسکول گجرات سے تعلیم حاصل کی اور پھر پھر عملی زندگی کا آغاز پولیس کی ملازمت سے کیا ۔

صنعتکار[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد گجرات میں ٹیکسٹائیل مل قائم کی پروگریسو پیپرز کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے، کامیاب صنعتکار اور سماجی شخصیت کے طور پر ابھرے ۔

سیاست میں وارد[ترمیم]

1958ء میں سیاست میں آئے ریپبلکن پارٹی، کنونشن مسلم لیگ، کونسل مسلم لیگ میں آئے 1963ء ،1970ء اور 1977ء میں کامیاب ہوئے۔گجرات کے پرانے اجارہ داروں کو شکست دی، وہ چودھری خاندان کے سرپرست اعلٰی تھے اور پاکستانی سیاست دان چودھری شجاعت حسین کے والد تھے۔

وفات[ترمیم]

25 ستمبر 1981ء کو انتقامی سیاست کا شکار ہوئے لاہور میں قتل ہوئے گجرات میں دفن ہیں۔[1]

25 ستمبر 1981ء کو چوہدری ظہور الٰہی اپنی کار میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس مشتاق حسین کو ان کے گھر چھوڑنے جارہے تھے ان کے ہمراہ سینئر ماہر قانون ایم اے رحمن ایڈووکیٹ بھی سفر کررہے تھے جنہوں نے بھٹو کے مقدمہ قتل میں پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دیئے تھے۔ دوپہر دو بجے کے وقت جب ان کی کار ماڈل ٹائون میں نرسری چوک کے قریب پہنچی تو ایک نامعلوم شخص نے کار پر دستی بم پھینکا اور چار نامعلوم افراد نے اسٹین گن سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں چوہدری صاحب اور ان کے ڈرائیور نسیم موقع واردات پر جاں بحق ہوگئے۔ جسٹس مشتاق حسین کو معمولی زخم آئے جبکہ جناب ایم اے رحمن محفوظ رہے۔ بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری میر مرتضیٰ بھٹو نے قبول کرلی اور کہاکہ یہ ان کی تنظیم الذوالفقار کا کارنامہ ہے۔ کچھ ہی دنوں بعد 20 نومبر 1981ء کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں لالہ اسد نامی ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا جس پر الزام تھا کہ وہ چوہدری ظہور الٰہی کے قاتلوں میں شامل تھا۔ اس کے بعد حکومت نے الذوالفقار کے کئی سو تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جن میں رزاق جھرنا نامی ایک دہشت گرد پر چوہدری ظہور الٰہی کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا کر اسے 7مئی 1983ء کو موت کی سزا دے دی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خفتگان خاک گجرات،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،صفحہ 105،سلیچ پبلیکیشنز گجرات