چھٹی کی رسم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

چھٹی کی رسم برصغیر میں ایک رسم ہے۔ یہ رسم عمومًا کسی نومولود بچے کی آمد کے چھٹے دن انجام پاتی ہے۔ اس رسم میں بچے کے سب سے قریبی اہل و عیال والدین کو کپڑے بناتے ہیں۔ قریبی رشتے داروں کی جانب سے دیا جانے والا روپیہ پیسہ ’’نیوتا‘‘ کہلاتا ہے۔ اس دن نومولود بچے کے والد ضیافت کا اہتمام کرتے ہیں۔[1]

رسم کی کچھ خصوصیات[ترمیم]

  • کچھ مبصرین[1] نے اس رسم کو غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ یہ رسم خالصتًا ہندو مذہبی رسم ہے جس کو انہوں نے اسلام کی رسم عقیقہ کے مساوی اپنا رکھا ہے۔
  • اس رسم میں عورتیں رقص کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں۔
  • رسم کے ایک حصے کے طور پر نولود کی ماں یعنی زچہ کو تارے دکھائے جاتے ہیں۔
  • اس موقع پر رقص کے ساتھ ساتھ گانے بجانے کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔
  • رسم میں گلوکاراؤں، یعنی گانے بجانے والیوں کو میٹھے چاول بہ طور معاوضہ دیے جاتے ہیں۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]