چیتا
| چیتا زمانی حد: وسط حیاتی–موجود | |
|---|---|
| جنوبی افریقا میں نر چیتا | |
| بقا کی صورت حال | |
| سائنسی درجہ بندی | |
| اقلیم: | حیوانات |
| قوم: | حبلیات |
| فصیلہ: | گوشت خور |
| خاندان: | گربہ خو |
| جنس: | Acinonyx |
| نوع: | A. jubatus
|
| دہرا نام | |
| Acinonyx jubatus
(Schreber, 1775) | |
| ذیلی انواع | |
|
فہرست ..
| |
| چیتوں کی ذیلی انواع کی تاریخی طور پر اور موجودہ حدود | |
| ہم نام[2] | |
|
فہرست ..
| |
چیتا (سنسکرت کے لفظ چترکا سے ماخوذ) گربہ خو (Felidae) خاندان کے بڑے ارکان میں سے ہے۔ بالغ چیتے کا وزن 40 سے 45 کلو گرام اور لمبائی 112 سے 135 سینٹی میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ بظاہر ایک جیسے ہونے کے باوجود نر قدرے جسیم ہوتا ہے۔ اس کے سمور پر پڑے چَکّے اسے بہت عمدہ کیموفلاژ دیتے ہیں۔ اس کی خاص شناخت آنکھوں سے ناک کی طرف آنسو نما کالے دھبے ہیں جو اسے ملتے جلتے جانوروں مثلاً تیندوا (Leopard) سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہ خشکی کا تیز ترین جانور ہے۔ اس کی رفتار فقط ساڑھے تین سیکنڈ میں صفر سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے لیکن یہ لپک زیادہ فاصلے تک برقرار نہیں رہتی۔ یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 500 میٹر تک بھاگ سکتا ہے۔ اپنے خاندان کے دیگر ارکان کے برعکس چیتا شکار کے لیے گھیرے وغیرہ جیسی گروہی تکنیکوں کی بجائے اپنی رفتار پر بھروسا کرتا ہے۔ ماہرین اس خاندان کے 37 باقی ارکان میں سے چیتے کو قدیم ترین خیال کرتے ہیں۔ چیتے کی مادہ 20 تا 24 ماہ کی عمر میں نسل کشی شروع کرتی ہے۔ لگ بھگ 100 دن کے حمل کے بعد یہ اوسطاً تین تا پانچ بچے پیدا کرتی ہے۔ یہ پرندوں، خرگوشوں اور ہرنوں وغیرہ کا شکار کرتا ہے۔ شکار کے حوالے سے اس کے آدھے حملے کامیاب رہتے ہیں۔ یہ افریقا کے علاوہ شمالی اور جنوبی برصغیر میں ملتا ہے۔ اس کے بڑے دشمن شیر اور لگڑ بگڑ ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 Durant, S.M.; Groom, R.; Ipavec, A.; Mitchell, N.; Khalatbari, L. (2024). "Acinonyx jubatus". IUCN Red List of Threatened Species (بزبان انگریزی). 2024 e.T219A259025524. DOI:10.2305/IUCN.UK.2024-1.RLTS.T219A259025524.en.
- ↑