ببر شیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ببر (شیر) سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت دیگر استعمالات کے لیے ببر شیر (ضد ابہام) دیکھیے۔
ببر شیر[1]
عرصہ حیات کی حد: early Pleistocene–Recent
Lion waiting in Namibia.jpg
نر
Okonjima Lioness.jpg
مادہ(ببر شیرنی)
حیثیت تحفظ
صنف بندی
مملکت: جانور
ہم نسل: Chordata
جماعت: Mammal
درجہ: کارنیورا
خاندان: فیلیڈائی
ذیلی خاندان: پینتھرینیائی
جنس: پینتھرا
نوع: پی۔ لیو P. leo
سائنسی نام
پینتھرا لیو Panthera leo
(Linnaeus، 1758)[3]
Subspecies
Lion distribution.png
Map Guj Nat Parks Sanctuary.png
بھارت میں ببر شیروں کا پھیلاؤ:گجرات میں واقع گیر قومی جنگلات ایشیائی شیروں کی آخری قدرتی پناہ گاہ ہے یہاں 50 کے قریب جنگلی ببر شیر رہتے ہیں۔ یہیں سے پڑوسی ریاست مدھیا پردیش میں اس نسل کو متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
متبادل نام
فیلس لیو
لینیس، 1758[4]

ببر شیر (Panthera Leo ،پینتھرا لیو) جنس پینتھرا میں موجود پانچ بڑے بلیوں میں شامل فیلیڈائی خاندان کا رکن ہے۔افریقی شیروں کی اصلاح جو کہ عام طور پر مستعمل ہے سے مراد افریقہ کی ذیلی ببرشیروں کی انواع (species)ہیں۔بعض شیروں کا وزن ڈھائی سو کلو گرام سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے[5] اور اس لحاظ سے یہ شیر(بنگالی شیر) کے بعد دوسری بڑی بلی ہے۔جنگلی ببر شیر افریقہ کے نیم صحارا علاقوں اور ایشیاء(جو کہ بھارتی گیر فورسٹ نیشنل پارک میں پائی جاتی ہے اور اس علاقے میں یہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے) جبکہ ببر شیروں کی دوسری انواع شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیاء سے بہت پہلے غائب ہوچکی ہے۔آج سے دس ہزار سال قبل پیلسٹوسین ادوار کے اواخر میں ببر شیر انسان کے بعد سب سے زیادہ خشکی کے رقبے پر پھیلا ہوا ممالیہ تھا۔اس زمانے میں یہ تقریباً تمام افریقہ،تمام یوریشیاء مغربی یورپ سے ہندوستان اور امریکہ میں يوكون سے پیرو تک پایا جاتا تھا[6] ۔ببر شیر معدومی کے خطرے سے دوچار جانور ہے،اور افریقی خطے میں 20 ویں صدی کے دوسرے حصے میں اسکی آبادی میں 30 سے 50 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی[2] ۔شیروں کی آبادی قومی پارکوں اور غیر محفوظ علاقوں میں غیر مستحکم ثابت ہوتی ہے۔اگرچہ اسکی معدوم ہونے کی وجوہات مکمل طور پر نہیں سمجھی جاسکی لیکن ، مسکن سے محروم ہونا اور انسان سے سامنا ہونا جیسی چیزیں عہد حاضر میں خطرے کی اہم وجوہات میں سے ہیں۔افریقہ میں مغربی افریقی ببر شیروں کی آبادی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

جنگلوں میں ،نر ببر شیر کبھی کبھی دس تا چودہ سال جی لیتے ہیں،چونکہ حریف نر شیروں سے انکا مقابلہ ہوتا رہتا ہے لہذا چوٹ لگنے سے انکی طول عمری کی گنجائش کم ہی رہتی ہے[7]۔جبکہ انسانی تحویل میں یہ 20 سال کی زندگی پا سکتے ہیں۔عام طور پر یہ سوانا اور گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں جبکہ بعض اوقات یہ جنگل اور جھاڑیوں کو بھی مسکن بنا لیتے ہیں۔عام حالات کے برعکس دوسری بلیوں کے مقابلے میں ببر شیر زیادہ سماجی رویہ دکھاتے ہیں۔ایک ببر شیر کا خاندان(حرم) عام طور سے متعلقہ ببر شیرنیوں،اولادوں اور بچوں کی مختصر سی تعداد پر مشتمل ہوتا ہے۔زیادہ تر ببر شیرنیوں کا گروہ ہی شکار میں حصہ لیتا ہے جنکے شکار میں کھروں والے جانور ہی زیادہ شامل ہوتے ہیں۔ببر شیر سب سے اعلیٰ شکاری اور ماحول پر اثر کرنے والے شکاریوں میں سے ہیں نیز وہ ایک ماہر مردار خور بھی ہیں جو اپنی خوراک کا پچاس فیصد حصہ مردار گوشت کھا کر پوری کرتے ہیں۔اگرچہ عام حالات میں ببر شیر انسانوں پر حملہ نہیں کرتا لیکن کبھی وہ ایسا بھی کرتا ہے۔ببر شیر دن بھر نیند لینے میں مشغول رہتا ہے اور اکثر رات کو شکار کیا کرتا ہے اگرچہ وہ دھند لکے میں بھی حملہ کیا کرتا ہے۔[8][9]


اسے ممتاز کرنا نہایت آسان ہے،نر ببر شیر کو اسکے سر اور گردن کے گرد موجود بالوں(ایال) سے پہچانا جاسکتا ہے اور اسکا چہرہ دنیا بھر کے انسانی ثقافتوں میں سب سے معروف نشان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اسکی شبیہ بالائی پیلیو لیتھک(50 ہزار تا 1لاکھ سال قبل) دور سے موجود ہے۔ غاروں میں موجود انسان بھی انھیں اپنی قیام گاہ کی دیواروں پر بناتے تھے۔تمام قدیم اور قرون وسطیٰ کی ثقافتوں میں اس جانور کی مختلف حوالوں سے موجودگی ایک مسلم بات ہے۔اسکے مجسمے ، تصاویر ، قومی جھنڈوں میں موجودگی،فلموں میں اور ادب میں موجودگی ایک عام بات ہے۔رومی دور میں بھی اسے نمائش وکھیل کے لئے بادشاہان پالتے تھے،اور 18 ویں صدی سے اسے چڑیا گھروں کی زینت پوری دنیا میں بنایا جارہا ہے۔یہ چڑیا گھر پوری دنیا میں ایشیائی شیروں کے ملاپ کے ذریعے اسے معدومی سے بچانے کے لئے مشترکہ کاوشیں کر رہے ہیں۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

ببر شیر کا انگریزی نام Lion دیگر کئی رومی زبانوں میں مستعمل ہے جو کہ لاطینی زبان کے لیو[10] اور قدیم یونانی کے لیون سے نکلا ہے[11] ۔عبرانی زبان کے لفظ لاوی کو بھی اسی سے مشترک کیا جاتا ہے[12] ۔جبکہ اردو میں مستعمل ببر شیر فارسی الاصل ہے ۔ نیز ببر کی اصلاح عربی میں بھی موجود ہے۔یہ ان انوع میں سے تھی جسے 18ویں صدی میں کارلس لینیوس نے اپنی کتاب Systema Naturae میں نام دیا تھا انھوں نے اسے فیلس لیو کا نام دیا۔ [4]

سائنسی درجہ بندی اور ارتقاء[ترمیم]

ببر شیروں کے دیگر قریبی رشتہ داروں میں جنس پینتھرا کے انواع جیسے شیر، جیگوار اور تیندوے شامل ہیں۔ہولارکٹک خطوں میں پھیلنے سے قبل پی لیو افریقہ میں دس لاکھ سے آٹھ لاکھ سال قبل نمودار ہوا[13] ۔یورپ میں اسکے رکازیات سات لاکھ سال پرانے دریافت ہوئے ہیں جو کہ اسکے ذیلی نوع پینتھرا لیو فوسیلیس کے ہیں اور یہ اٹلی سے دریافت ہوئے ہیں[14]۔اسی نوع سے پھر غاروں والے زمانے کے ببر شیر وں (پینتھرا لیو سپیلائی) کا ارتقاء ہوا۔ یہ عمل تین لاکھ سال قبل ظہور میں آیا۔شمالی یوریشیائی علاقوں میں دس ہزار سال پہلے برفانی میدان بننے کے آخری ادوار میں وہاں سے ببر شیروں کا خاتمہ ہوا اور شاید یہی پیلسٹوسین دور میں بڑے جانوروں کے ناپید ہونے کا دوسرا دور تھا۔[15][16]

ذیلی نوع[ترمیم]

عام طور سے قبول کئے جانے والے ذیلی انواع کے 20 ویں صدی کے اواخر میں پھیلاؤ
نر اور مادہ ایتوشا نیشنل پارک،نمیبیاء

روایتی طور پر موجودہ دور میں ببر شیروں کی بارہ انواع پہچانی گئی ہیں اور اس پہچان کی بنیاد ببر شیروں کے سر اور گردن کے بالوں کی ظاہریت ، جسامت اور انکے جغرافیائی پھیلاؤ کو دیکھ کر کی گئی ہے۔اصلاََ یہ تمام خصوصیات نہایت غیر اہم ہیں اور انفرادی طور پر اس میں کافی تبدیلی بھی نظر آتی ہے لہذا ان میں سے اکثریت کا مختلف نوع ہونا درست نہیں[17]۔آج صرف انکی آٹھ انواع کو ہی قبول کیا جاتا ہے[16][18] ،اگرچہ ان میں سے بھی ایک کیپ ببر شیر جسے پہلے پینتھرا لیو میلنکیاٹا کہا جاتا تھا غالبا غیر حتمی ہے[18]۔حتیٰ کہ باقی سات انواع بھی غیر یقینی ہوسکتے ہیں۔جبکہ ایشائی ببر شیروں کو بطور نوع قبول کیا جاسکتا ہے،افریقی ببرشیروں کے انتظامی تعلق کو اب بھی مکمل طور پر حل نہیں کیا جا سکا ہے۔مائیٹو کونڈریائی فرق کی بنیاد کچھ جدید مطالعوں میں افریقی شیروں کے فرق کے لئے سب سے مستند حوالہ ہے، اس کے مطابق تما م ذیلی صحارا کے شیر بعض اوقات ایک ہی نوع تصور کئے جاتے ہیں،بحر حال ایک جدید تحقیق کے مطابق مغربی اور وسطی افریقہ کے شیر جنوبی اور مشرقی افریقی ببر شیروں سے جینیاتی طور پر مختلف ہیں۔اس مطالعہ کے مطابق مغربی افریقہ کے ببر شیر جنوبی اور مشرقی ببر شیروں کے مقابل ایشائی ببر شیروں کے ذیادہ قریب ہیں۔امکان ہے کہ پیلسٹوسین کے آخری ادوار میں مغربی اور وسطی افریقہ میں افریقی ببر شیر ناپید ہوگئے ہوں اور انکی جگہ بعد میں ایشیائی ببر شیروں نے لے لی ہو۔[19]

پچھلے مطالعات جن میں زیادہ توجہ جنوبی اور مشرقی افریقی ببر شیروں کو دی گئی تھی کے بنیاد پر انھیں دو اہم قبیلوں میں بانٹا جاسکتا ہے:ایک کو گریٹ رفٹ ویلی اور دوسرے کو مشرقی علاقوں میں رکھا گیا ہے۔مشرقی کینیاء کے علاقے تساو میں موجود ببر شیر ٹرانسوال(جنوبی افریقہ) کے کے ببر شیروں سے جینیاتی طور پر قریب ہیں اور یہ قربت مغربی کینیاء کے علاقے ایبرڈیر خطے کے ببر شیروں کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے[20]۔ایک اور تحقیق کے مطابق شیروں کی تیں اہم اقسام ہیں ایک شمال افریقی و ایشیائی،ایک جنوبی افریقی اور تیسری وسطی افریقی۔[21]پر کرسچئینسن کہتے ہیں کہ انھوں نے ببر شیروں کی کھوپڑی کی ظاہریت کے مطابق ببر شیروں کے کئی انواع کا پتہ لگایا جن میں کروگری،نیوبیکا،پرسیکا اور سینیگالینیسس شامل تھے جبکہ بلیینبرگی کی سینیگالینیسس اور کروگری سے مماثلت تھی۔ایشیائی ببر شیر سب سے زیادہ قابل امتیاز ہیں،اور کیپ ببر شیر کی خصوصیات پی 1 پرسیکا کے قریب ہیں بنسبت دیگر ذیلی صحارائی شیروں کے۔انھوں نے ببر شیروں کے 58 کھوپڑیوں کا تین یورپی عجائب گھروں میں مطالعہ کیا۔[22]موجودہ جینیاتی مطالعات کی بنیاد پر آئی یو سی این ایس ایس کی کیٹ کلاسیفیکیشن ٹاسک فورس نے اپنی ماہرین کی مدد سے تمام ایشیائی ببر شیروں اور وسطی ،شمالی افریقی ببر شیروں کو ذیلی نوع لیو لیو اور جنوبی مشرقی افریقہ میں پائے جانے والے ببر شیروں کو پینتھرا لیو میلنچیاٹا میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔[23]امریکی کی آبی حیات اور جنگلی حیات کے سرکاری ادارے نے اس نئی درجہ بندی کو " سائنسی اور اقتصادی طور پر بہترین" کہہ کر ان دو ذیلی نوع کو معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں ڈالا ہے۔[24]

چڑیا گھروں میں رکھے جانے والے ببر شیروں کی اکثریت دوغلی نوع کی ہیں۔تقریبا ستتر فیصد انسانی تحویل میں موجود شیروں کی انواع عالمی نظام معلومات نوع کے مطابق نا معلوم ہیں۔یہی نہیں بلکہ انکے مطابق ان میں سے بعض انواع جنگلی طور پر ناپید بھی ہوچکے ہیں اسلئے انکے جینیاتی معلومات کو محفوظ رکھنا ببر شیروں کی جینیاتی اختلافات کو جاننے کے لئے اہم ہیں[18] ۔اس بات پر غالبا یقین کیا جاتا ہے کہ 19 ویں صدی کے وسط سے قبل یورپ میں لائے گئے ببر شیر بربر کے ببر شیر تھے جو کہ شمالی افریقہ سے تعلق رکھتے تھے یا کیپ کے علاقے کے تھے۔[25]

جدید[ترمیم]

آٹھ جدید(ہولوسین) ذیلی انواع کو اسوقت تسلیم کیا جاتا ہے:

ببر شیروں کی ذیلی انواع
ذیلی انواع معلومات تصویر
بربری ببر شیر کو اٹلس ببر شیر یا شمالی افریقی ببر شیر بھی کہا جاتا ہے بربری ببر شیر کو اٹلس ببر شیر یا شمالی افریقی ببر شیر بھی کہا جاتا ہے یہ الجیریاء، مراکش، تونیشیاء اور مصر میں پایا جاتا ہے یہ شمالی افریقہ سے ببر شیروں کی نامزد ذیلی نوع ہے۔اسے شدید شکار نے شمالی افریقہ کے ویرانوں سے ختم کیا جاچکا ہے جیسا کہ اس کا آخری شکار 1920 میں مراکش میں منظر پر آیا۔[26][27] یہ ببر شیروں کی سب سے بڑی نوع تھی,[28]اس کے نر ببر شیروں کی لمبائی 3٫0–3٫3 میٹر (9٫8–10٫8 فٹ) اور وزن 200 kg (440 lb) ہوتی ہے ۔ یہ نوع ذیلی صحارائی ببر شیروں کی نسبت ایشیائی ببر شیروں کے قریب نظر آتی ہے۔بہت سے انسانی تحویل میں موجود ببر شیر یہی قسم ہیں۔,[29] ربات کے چڑیا گھر میں کم و بیش اسکی تعداد 90 ہیں.[30]

North Africa: (Algeria, Egypt, Libya, Morocco اور Tunisia)

Sultan the Barbary Lion.jpg
ایشیائی ببر شیر ،جسے ہندوستانی ببر شیر یا ایرانی ببر شیر بھی کہا جاتا ہے بھارتی گجرات کے گیر جنگلات میں پایا جاتا ہے۔کبھی یہ تمام ترکی جنوب مغربی ایشیاء سے پاک و ہند تک پھیلے ہوئے تھے۔,[31] گجرات کے گیر جنگلات میں اسکی تعداد 523 ہے.[32] جینیاتی ثبوت بتاتے ہیں کہ اس کے اجداد ستر ہزار سے دو لاکھ سال قبل الگ ہوئے تھے۔[16]

Southern Europe: (Albania, Bulgaria, Greece, Kosovo, Macedonia, Montenegro اور Serbia)
West Asia: (Armenia, Baluchistan, Georgia, Iran, Iraq, Israel, Jordan, Kuwait, Lebanon, Mesopotamia, Oman, Russia, Saudi Arabia, Syria, Turkey, United Arab Emirates اور Yemen)
South Asia: (Afghanistan, Bangladesh, India اور Pakistan)

Asiatic lion 03.jpg
مغربی افریقی ببر شیر جسے سینیگالی ببر شیر بھی کہتے ہیں مغربی افریقہ میں سینیگال سے وسطی افریقی جمہوریہ تک ملتا ہے۔[33][34] . اسے 2015 میں شدید معدومی کے خطرے سے دوچار فہرست میں رکھا گیا ہے۔ یہ ذیلی صحارا کی ببر شیروں میں سب سے چھوٹی نوع ہے۔

Western Africa: (Benin, Burkina Faso, Ghana, Mali, Mauritania, Nigeria, اور Senegal)
Central Africa: (Cameroon, Chad, Central African Republic, Nigeria, اور Niger)

West African male lion.jpg
ماسائی ببر شیر (یا مشرقی افریقی ببر شیر یہ مشرقی افریقہ میں ایتھوپیا اور موزمبیق سے کینیاء اور تنزانیہ تک پایا جاتا ہے اسکی ایک مقامی آبادی تساوو ببر شیر کے نام سے بھی معروف ہے۔[34]

Eastern Africa: (Djibouti, Ethiopia, Eritrea, Kenya, Somalia, South Sudan, Sudan, Tanzania, Ugاورa)

African Lion 3.jpg
کانگو ببر شیر (P. l. azاورica), یا شمال مشرقی کانگو ببر شیر

یہ کانگو کے شمال مشرقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔[33] یہ فی الحال روانڈا وسطی افریقہ(وسطی افریقی جمہوریہ،جنوبی سوڈان ٌ) سے ناپید ہوچکا ہے۔

Murchison falls lion.jpg
جنوب مغربی افریقی ببر شیر یا کٹالنگا ببر شیر یہ جنوب مغربی افریقہ اور جمہوریہ کانگو میں ملتا ہے۔یہ افریقی ذیلی ببرشیروں کے سب سے بڑی انواع میں سے ہے۔

Southern Africa: (Angola, Botswana, Katanga (Democratic Republic of the Congo), Namibia, Zambia, Zimbabwe)[34]

P l Bleyenberghi 1.jpg
ٹرانسوال ببر شیر یا جنوب مشرقی افریقی ببر شیر یہ ٹرانسوال جو کہ جنوب مشرقی افریقہ کا خطہ ہے میں پایا جاتا ہے،نیز یہ کروگر قومی پارک میں بھی ملتا ہے۔[34]

Southern Africa: (Botswana, Mozambique, South Africa, Swazilاور, Zimbabwe)

Krugerparkléiw2.jpg
ایتھوپیائی ببر شیر یا ادیس ابابا ببر شیر ایک نیا بمشکل امتیاز کیا جانے والا ایک ذیلی نوع ہے جو کہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں انسانی تحویل میں مل سکتا ہے۔[35]ماہرین نے تحویل میں موجود پندرہ ببر شیروں کے خرد سیارچوںکا موازنہ دیگر جنگلی ببر شیروں کے انواع سے کیا۔ انھوں نے انجام میں پایا کہ جینیاتی طور پر یہ ببر شیر نایاب ہیں"یقینا جس ویرانوں سے انکے اجداد کا تعلق ہے وہ بھی نایاب ہے"ان ببر شیروں کے نروں کی جلد الگ طور سے گہری رنگت اور خوبصورت قسم کی ہے جو کہ ایک نئی ذیلی نوع جو کہ ایتھوپیا تک محدود ہے کا پتہ دیتی ہے۔[36]یہ ببر شیر ایتھوپیا کے باداشاہ ہیل سیلاسک اول کے پاس موجود کے حصے تھے۔

Northeastern Africa: (Ethiopia)

QuestionMark.jpg

پلسٹوسین[ترمیم]

ببر شیر کی چند وہ انواع جو ما قبل تاریخ وجود رکھتی تھی۔

  • پی۔1۔فوسیلیس جسے وسطی پلسٹوسین یورپی غاروں والا ببر شیر کہتے ہیں پانچ لاکھ سال قبل وجود رکھتی تھی اسکے باقیات اٹلی میں دریافت ہوئے ہیں۔انکی جسامت موجودہ افریقی شیروں سے بڑی تھی اور یہ ببر شیر جسامت میں امریکی غاروں کے دور کے ببر شیروں کے برابر تھے جبکہ بالائی پیلسٹوسین یورپی غاروں والے ببر شیروں سے تھوڑے بڑے تھے۔[16][37]
غاروں کے دور کا ببر شیرکیوٹ غار, فرانس
  • پی۔1۔سپیلائی جسے یورپی غار کا ببر شیر کہتے ہیں یا یوریشین غار کا ببر شیر ،یا بالائی پیلیسٹوسین غار کا ببر شیر تین لاکھ سے دس ہزار سال قبل یوریشیائی علاقوں میں ملا کرتا تھا۔[16] اس نوع کی نشانیاں غاروں سے ملنے والے مٹی کے مجسموں اور انکی دیواروں پر موجود تصویروں کے طور پر ملی ہیں جس سے پتا لگتا ہے کہ انکے کان آگے کو نکلے ہوئے تھے[38] ،دم کے سرے پر گچھا،غالبا بنگالی شیر کی طرح ہلکی دھار، اور شاید بعض کے پاس گردن کے گرد ہلکے سے بال ہوتے تھے جو کہ نر کی نشانی تھی۔[39]


  • پی۔1۔اٹروکس جو کہ امریکی ببر شیر یا امریکی غاروں والا ببر شیر کے نام سے معروف ہے،پیلسٹوسین ادوار میں کینیڈا سے جنوب میں پیرو تک پایا جاتا تھا اور یہ دس ہزار سال پہلے تک وہاں موجود تھا۔یہ قسم پی۔1۔سپیلائی کے نہایت قریب رشتہ داروں میں سے تھے ،یہ شاید اسوقت ان سے الگ ہوئے تھے جب دس لاکھ سال قبل شمالی امریکہ کے پی۔1۔سپیلائی دس لاکھ سال قبل ان سے الگ ہوئے۔[40] ببر شیروں کی سب سے بڑی ذیلی نوع میں سے تھی، اندازا اسکے جسم کی لمبائی 1.6–2.5 m (5.2–8.2 فٹ). تک تھی۔[41]

مشکوک[ترمیم]

  • پیتھرا یونگیP. l. youngi ساڑھے تین لاکھ سال قبل وجود رکھتا تھا۔[6]اسکا موجودہ ببر شیروں سے تعلق نا معلوم ہے اور شاید یہ الگ نوع تھی۔
  • P. l. sinhaleyus سری لنکنی ببر شیر 39000 سال قبل ناپید ہوا۔ کرویٹا کے علاقے سے ملنے والے دو دانتوں سے ہی اسکا اشارہ ملا ہے۔اس بنیاد پر پی۔دیرانییاگلا نے 1949 میں اسے ایک الگ نوع قرار دیا۔[42]
  • پی 1 ورشچاگینی بریگینین غاروں والا ببر شیر روس الاسکا اور کینیڈا کے علاقوں میں ملتا تھا اسے پی۔1۔سپیلائی سے الگ ذیلی نوع سمجھی جاتی ہے جسکی وجہ اسکے ظاہری خصوصیات ہیں۔اگرچہ یورپ اور الاسکا سے ملنے والے مائٹو کونڈیائی ڈی این اے اسکی الگ پہچان کرنا ممکن نا ہوسکی۔[40]
800 ق م کا ایک ایرانی سیل جس میں ببر شیر کے شکار کو دکھایاگیا ہے۔ان ببر شیروں کے شکم تلے بال نظر آرہے ہیں۔
  • میسوپوٹیمائی ببر شیر نیو اسارین دور (600 سے 1000 ق م) میں پایا جاتا تھا۔[43]یہ میسوپوٹیما کے میدانوں میں ملتا تھا اور شاید یہ ایک الگ ذیلی نوع تھی۔تقریبا تمام نر ببر شیروں کے پیٹ کے نیچے بال ہوتے تھے اور یہ اب صرف بربری شیروں اور ایشیائی ٹھنڈے خطوں میں رکھے جانے والے تحویلی ببر شیروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ قدیم ثبوتوں سے یہ بات واضح ہے کہ ان خطوں کے آس پاس ایسی کوئی ذیلی نوع نا تھی لہذا اس بنیاد پر اسے ایک الگ معدوم نوع خیال کیا گیا ہے۔اس بات کے ثبوت اس دور کے مجسموں اور تصاویر سے ملی ہیں جس اسکے شکار کے متعلق ہیں نیز یہ بات بھی واضح ہے کہ قدیم دنیا میں اسکے زیادہ شکار کے سبب اس نوع نے اپنا وجود کھویا۔
  • یورپی ببر شیر پینتھرا لیو پرسیکا سے مشابہ تھی۔ یہ 100 اے ڈی میں ناپید ہوئی جسکی وجہ بہت زیادہ شکار تھی۔۔یہ بالکان اٹلی جنوبی فرانس اور جزیرہ نما ابیریا میں ملتا تھا۔یہ قدیم یونان اور روم میں شکار کے لئے بہترین سمجھا جاتا تھا۔
  • پی 1 مکولیٹس یا ماروزی یا داغدار ببر شیر کو بعض اوقات ایک الگ نوع کہا جاتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا بالغ ببر شیر ہو جس نے اپنی دھبہ دار جلد برقرار رکھی ہو۔اگر اسے اس خیال کے بجائے ایک الگ نوع تسلیم کیا جائے تو یہ ببر شیر 1931 میں ناپید ہوچکی تھی۔لیکن بعض اوقات اسے تیندوے اور ببر شیر کے جنسی اختلاط سے پیدا ہونے والا لیوپیون ہی سمجھا جاتا ہے۔[44]

دوغلی نسل[ترمیم]

ایک ببر شیرنی اپنے بچوں کے ہمراہ،جنوبی افریقہ

ببر شیروں کا شیروں کے ساتھ ملاپ کروایا جاتا ہے(بالخصوص بنگالی اور سائبیریائی شیروں سے) اس سے ایک دوغلا نسل لائگر اور ٹگلیون پیدا ہوتا ہے۔[45]اسے تیندوے سے بھی ملاپ کروایا جاتا ہے جس سے لیوپون پیدا ہوتے ہیں[46] ، اور جیگوار سے انکی ملاپ جیگلیون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔مارزوی مشہور کیا گیا دھبہ دار ببر شیر ہے یا ایک قدرتی طور پر لیوپون ہے،جبکہ کونگولیس دھبہ والا ببر شیر ایک پیچیدہ طور پر ببر شیر-جیگوار اور تیندوے کا باہمی ملاپ ہے جسے لیجیگولیپ کہتے ہیں۔کبھی چڑیا گھروں میں ایسی دوغلی نسلیں پیدا کرنے کا رواج عام تھا لیکن اب اس بات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تاکہ نوع اور ذیلی انواع کا تحفظ کیا جاسکے۔آج بھی پرائیوٹ طور پر اور چین کے چڑیا گھروں میں ایسا کیا جاتا ہے۔

لائگر ببر شیر اور شیرنی کے ملاپ کا نتیجہ ہے۔[47]چونکہ اسکی ماں میں نشونما کو روکنے والی جین نہیں ہوتی اور اس پر نر ببر شیر اپنے جین کے نشونما کو بڑھانے والی خصوصیات بچے میں منتقل کرتا ہے لہذا لائگر اپنے والدین کے نسبت کافی بڑا جسامت والا ہوتا ہے۔وہ اپنے والدین کے طبعی اور ظاہری برتاؤ کے دونوں خصوصیات کا مالک ہوتا ہے۔(اسکی جلد بھوری ہوتی ہے جس پر شیر کی مانند دھاریں ہوتی ہیں)۔نر لائگر اکثر نسل بڑھانے سے قاصر ہوتے ہیں جبکہ مادہ اکثر ایسا کرنے کے قابل ہوتی ہے۔نر کے سر اور داڑھی کے بال آنے کے 50 فیصد امکان ہوتے ہیں لیکن ایسا ہونے کی صورت میں انکی داڑھی اصل ببر شیر کے مقابلے میں 50 فیصد چھوٹی ہوتی ہے۔

لائگر عام ببر شیروں کے مقابلے میں کافی بڑے ہوتے ہیں اور انکی جسامت 12 فٹ تک ہوتی ہے جبکہ وزن 500 کلو تک کے ہوتے ہیں۔[48]

کم طور پر معروف دوغلی ملاپ کا ایک طریقہ شیر اور ببر شیرنی کے ملاپ کا ہے۔[49]لائگر کے بنسبت ٹگلیون اپنے والدین کے مقابلے میں چھوٹے جسامت کے ہوتے ہیں جسکی وجہ جینیاتی خصوصیات لائگر والی صورت سے الٹ ہونا ہے۔[48]

خصوصیات[ترمیم]

فیلیڈ گروہ میں شیر کے بعد ببر شیر جسامت اور وزن کے لحاظ سے سب سے بڑے ہیں۔اسکی کھوپڑی شیر کی کھوپڑی سے حد درجہ مماثلت رکھتی ہے،اگرچہ سامنے کا حصہ قدرے پچکا اور ہموار ہوتا ہےاور نتھنے تھوڑے چوڑے ہوتے ہیں بامقابل شیر کے۔چونکہ ان میں مماثلت زیادہ ہوتی ہے لیکن نچلے جبڑوں کے ذریعہ ہی ان میں مستند طور پر فرق کیا جاسکتا ہے۔[50]ببر شیروں کے رنگ پیلے،ہلکے سرخ یا گہرے بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ہورے جسم کا رنگ عام طور سے ہلکا جبکہ دم کا رنگ کالا ہوتا ہے۔ببر شیروں کے بچے بھورے دھبوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں یہ مشابہت تیندوے سے ملتی ہے۔یہ دھبے اگرچہ بالغ ہونے پر مٹ جاتے ہیں لیکن ہلکے دھبے ٹانگوں نچلے حصوں پر دیکھا جاسکتا ہے بالخصو ببر شیرنی کے جسم پر۔[51]ببر شیر بلیوں کے خاندان کے واحد فرد ہیں جو جنسی فرق نمایاں طور پر رکھتے ہیں (یعنی نر اور مادہ کی پہچان باآسانی ممکن ہے)۔نیز انکے خاندانی ارکان میں ہر رکن کا ایک خاص کردار ہوتا ہے۔مثلا ببر شیرنی کی داڑھی نہیں ہوتی۔نر ببر شیر کی داڑھی کی رنگ سنہرے سے کالی ہوتی ہے اور بوڑھے ہونے کے ساتھ ساتھ رنگ گہرا ہوتا جاتا ہے۔سب خاص نر اور مادہ میں مشترک چیز دم کے آخر میں بالوں کے گھچے کا ہونا ہے۔بعض نر ببر شیروں میں اس گھچے کے بجائے سخت قسم کی پانچ ملی میٹر لمبی ہڈی جیسی چیز ہوتی ہے۔نیز یہ واحد فیلیڈ ہے جسکی دم گھچا نما ہوتی ہے اس گھچے والی دم کے افعال نا معلوم ہیں۔یہ بالوں کا گھچا پیدائش کے وقت نہیں ہوتا جبکہ 5 ماہ کے قریب یہ ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے اور 7 ماہ تک اسے باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔

زمبابوئے کےبالغ ببر شیروں کی جسامت اپنے علاقوں کے نسبت مختلف ہواکرتی ہے،کالاہاری اور کروگر پارک کے ببر شیروں کا وزن اوسطا 189 کلو سے 126 کلو تک ہوتا ہے جبکہ ببر شیرنیوں کا وزن اوسطا 174 کلو سے 119 کلو تک ہوا کرتا ہے۔[52]ببر شیروں کی لمبائی میں سر اور جسم کی لمبائی شامل ہوتی ہے جو کہ 170 تا 250 سینٹی میٹر ہوتی ہے،دم کی لمبائی 90 تا 105 سینٹی میٹر ہوا کرتی ہے۔ببر شیرنیوں کی سر دھڑ کی لمبائی 140 تا 175 تک ہوتی ہے جبکہ دم کی لمبائی 70-100 سینٹی میٹر ہوتی ہے،[5]250 سینٹی میٹر لمبائی بالعموم جو کہی جاتی وہ اصلا امریکی ناپید ہونے والی ببر شیروں کی ہے آج بھی بہت بڑے ببر شیروں کی لمبائی 250 سینٹی میٹر کی لمبائی سے کئی سینٹی میٹر کم ہوتی ہے۔[53]اب تک سامنے آنے والی سے سے بڑی لمبائی 6۔3 میٹر (12 فٹ) ہے جو انگولا میں اکتوبر 1973ء میں ایک شکار سے معلوم ہوئی ایک اور ببر شیر کا وزن جسکا وزن 313 کلو تھا جسے 1936ء میں ٹرانسوال جنوبی افریقہ میں شکار سے ماراگیا۔[54]ایک اور زیادہ وزن والے ببر شیر جسکا وزن 272 کلو تھا کو کوہ کینیا میں مارا گیا۔[26]

ایال[ترمیم]

دیگر ببر شیروں سے جارحانہ سامنا ہونے پر ببر شیر اپنے ایال بڑے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بڑی بلیوں میں ببر شیر کی داڑھی اور گردن کے بال سب سے نمایاں خصوصیت ہیں۔بہت کم حالات میں ببر شیرنی کے بھی ایسے بال آسکتے ہیں۔[55][56]ان بالوں کا ہونا یا نا ہونا ،رنگت اور اسکی سائز سب جینیاتی خصوصیات،جنسی بالیدگی،آب وہوا ، نر ہارمونز پر منحصر ہوتے ہیں جتنی بڑی داڑیھی ارو سر کے بال ہونگے اتنا ہی ببر شیر صحت مند ہوگا۔ببر شیرنیاں بھی جنسی تعلقات میں انھیں ببر شیروں کو ترجیح دیتی ہیں جنکے بال گھنے اور گہرے ہوتے ہیں۔[57]تنزانیہ میں ہونے والے تحقیق سے پتا چلا کہ ان بالوں کی لمبائی ہی نر- نر کی آپس میں لڑائی کا سبب بنتا ہے۔جتنے گہرے یہ بال ہونگے اتنے ہی انکی طولیدی نظام زیادہ عرصے کار آمد رہے گی نیز انکے بچوں کے بچنے کے بھی امکان زیادہ رہتے ہیں لیکن انھیں گرمیوں کے ایام بڑے سخت گزرارنے پڑتے ہیں۔[58]

بنا ایال ایک ببر شیر.


سائنسدان کبھی اس بات پر یقین کرتے تھے کے گردن کے گرد بالوں کے سائز اور ظاہری صورت کی بنیاد پر ذیلی انواع کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ظاہری صورت کی بنیاد پر بربری ببر شیروں اور کیپ ببر شیروں کے ذیلی انواع کو بھی پہچانا گیا۔تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ درجہ حرارت کا فرق ان بالوں کی جسامت اور رنگت میں فرق کا سبب بھی بن سکتی ہے۔[58]مثلا یورپی اور امریکی چڑیا گھروں میں بالوں کے گھنے ہونے کی وجہ وہاں کا ٹھنڈا موسم ہوسکتا ہے لہازا ان بالوں کی بنیاد کی گئی انواع کی درجہ بندی غلط غیر مستند قرار دی جاتی ہے۔[18][59]بحرحال ایشیائی شیروں کی انواع کی بالوں کا بکھرے ہوئے ہونا انھیں افریقی شیروں سے ممتاز کرتا ہے۔[60]

پندجاری نیشنل پارک میں موجود ببر شیر گردن کے گرد بالوں سے محروم ہیں یا یہ بال بہت کم ہیں۔[61]بالوں کے بنا ببر شیروں کی موجودگی کی اطلاع کینیاء،سوڈان اور سینیگال کے علاقوں سے بھی ملتی ہیں اور فطری طور پر سفید ببر شیر جو کہ تمباواتی سے تھی کے گردن کے گرد بال بھی نا تھے۔ٹسیٹیرون نامی نروں کے ہامونز کو ان بالوں کی جسامت سے جوڑا جاتا ہے،اسی لئے خصی کئے گئے ببر شیروں کی گردن کے گرد بال کم ہی ہوتے ہیں کیونکہ خصیتین کے نکالنے سے ا س ہارمون کی پیداوار رک جاتی ہے۔[62]

یورپ میں موجود غاروں میں بنائے گئے قدیم تصاویروں میں ببر شیروں کی گردن کے گردن بال نہیں بنائے گئے ہیں،اس سے اس بات کا شارہ ملتا ہے کہ ان ببر شیروں کے یہ بال نہیں ہوتے تھے،[39]یا یہ تصاویر ان ببر شیرنیوں کی ہے جو شکار میں نظر آتے تھے۔

سفید ببر شیر[ترمیم]

سفید ببر شیر

سفید ببر شیرکسی قسم کی نوع نہیں ہیں بلکہ یہ ایک خاص جینیاتی صورت ہوتی ہے جسے لیوسیزم کہتے ہیں[17]،جو کہ ببر شیروں کی بالوں اور جلد کی رنگت سفید کر دیتی ہے جیسا کہ یہ سفید ببر شیروں میں ہوتا ہے یہ صورت میلنزم سے میل کھاتی ہے جس میں کالے تیندوے ظاہر ہوتے ہیں۔یہ البائنو نہیں ہوتے( یعنی انکی آنکھوں اور جلد میں عام رنگت موجودہوتے ہیں)سفید ٹرانسوال ببر شیر سے کبھی کبھی کروگر نیشنل پارک اور ملحقہ تمبواتی پرایویٹ گیم ریسرو ،مشرقی جنوبی افریقہ میں سامنا ہوجاتا ہے، لیکن عموما یہ انسانی تحویل میں ہی ملتے ہیں، اور ملاپ کروانے والے انھیں جان بوجھ کر منتخب کرتے ہیں۔انکی جلد کی کریمی رنگت، رسییو الیلی کی وجہ سے ہے۔[63]ایسی خبریں ہیں کہ جنوبی افریقہ میں انھیں کیمپوں میں بریڈنگ کیا جاتا ہے پھر انھیں کینڈ ہنٹ( ایک قسم کی شکار) میں شکار کیا جاتا ہے۔[64]

برتاؤ[ترمیم]

ببر شیر اکڑ نکالتے ہوئے.

ببر شیر دن بھر آرام کرتے ہیں اور دن میں تقریبا 20 گھنٹے غیر فعال رہتے ہیں۔[65]اگرچہ ببر شیر کسی بھی وقت فعال ہوسکتے ہیں لیکن انکی فعالیت شام کے بعد سے اپنے جوبن پر ہوتی ہے جس میں یہا پنے سماجی تعلقات ,رفع حاجت اور سماجی افعال کرنے میں بتاتے ہیں۔بہت زیادہ طور پر مشغول رہنا پوری رات تک چلتا رہتا ہے جبکہ علی الصبح اکثر شکار ہوا کرتا ہے۔وہ دن میں اوسطا دو گھنٹے چلتے ہیں اور 50 منٹ تک کھانا کاتھے کرتے ہیں۔[66]

گروہی تنظیم[ترمیم]

دو ببر شیرنیاں اور ایک ببر شیر.
دو ببر شیر اور ایک ببر شیرنی.

تمام فیلڈ فطری طور پر غیر سماجی ہوتے ہیں لیکن ان سب کے برعکس ببر شیر سب سے زیادہ سماجی رویہ دیکھاتے ہیں۔ببر شیر ایک شکاری گوشت خور ہے جو دو طرح کے سماجی گروہ میں رہتا ہے۔کچھ ببر شیر مکین ہوتے ہیں جو اپنے متعلقہ ببر شیرنیوں اور چند بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔انھیں حرم(pride) کہتے ہیں۔[67]مادائیں اس حرم میں سماجی اکائی کی حیثیت سے مستقل رہتی ہیں اور کسی غیر مادہ کو اس میں پسند نہیں کرتی۔[68]اراکین صرف ماداؤں کی فوتگی اور پیدائش کی صورت میں ہی بدلتے ہیں،[69]اگرچہ بعض اوقات مادائیں حرم کو چھوڑ کر علیحدگی اختیار کرتی ہیں اور اکیلے ہی جیتی ہیں۔اب ایک ایسے بھی حرم مشاہدے میں آئی ہیں جن میں ارکان کی تعداد تیس کے قریب دیکھی گئی ہیں،[70]اوسطا ایک حرم میں پانچ یا چھ مادائیں ہوا کرتی ہیں،اس میں دونوں جنس کے بچے اور دو ببر شیر ہوا کرتے ہیں(ایک ببر شیر سے زائد ہونے کی صورت میں اسے اشتراک کہتے ہیں) جو بالغ ببر شیرنیوں سے مباشرت کرتے ہیں۔اشتراک کی صورت میں نر کی تعداد دو ہی ہوکرتی ہیں لیکن یہ تعداد چار تک بھی جاسکتی جس کے بعد تعداد پھر سے کم ہونا شروع ہوتی ہیں۔[70]تنہا فرق صرف تساوو ببر شیروں میں ہے جس کے حرم میں صرف ایک ہی ببر شیر ہوتے ہیں۔[71] نر بچے اپنے نگہبان خاندان سے 2یا 3 سال میں الگ ہو جاتا ہے جب وہ بالیدگی حاصل کر لیتا ہے۔[70]اس گروہ کی دوسری صورت یہ ہے کہ جوڑے کی شکل میں یا اکیلے ہی زندگی گزاری جاتی ہے یہ لوگ ایک بڑے رقبے میں گھومتے رہتے ہیں۔[67]جوڑے دار اکثر ان نر ببر شیروں کی ہوتی ہے جو نئے نئے بلوغت کے سبب اپنے خاندان سے نکال دئے جاتے ہیں۔ایس بھی ہوتا ہے کہ ایک تنہا زندگی گزارنے والا سماجی زندگی اپنا لے یا اس کے برعکس کا انتخاب کرے۔نر ببر شیر قوائد کے مطابق اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ تنہا گزارتا ہے اور پھر یہ کسی خاندان میں جاگھستا ہے جبکہ بعض شیر زندگی بھر ایسا کرنے سے محروم ہی رہتے ہیں۔ایک تنہا رہنے والی ببر شیرنی کو دوسرے حرم میں داخل ہونے کے لئے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ حرم کے دیگر ببر شیرنیاں اس نئے غیر مادہ کی سخت مخالفت کیا کرتی ہیں۔

سرنگیٹی میں ایک درخت پر بیٹھا ببر شیروں کا جھنڈ.


وہ علاقہ جس پر ایک حرم کا قبضہ ہو علاقہ حرم کہلاتا ہے [67]جبکہ تنہا رہنے والے علاقے کو بدووں(nomad) کا خطہ کہتے ہیں۔حرم کے نر ببر شیر اپنے علاقوں کی سرحدوں پر گشت لگا کر اسکی حفاظت کرتے ہیں۔ببر شیرنیوں میں دیگر بلیوں کے انواع کے مقابل اسقدر سماجی برتاؤ کیونکر پیدا ہوا بحث کا ایک اہم موضوع ہے۔اسکی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں کہ گروہ میں رہنے سے شکار کی کامیابی کا زیادہ امکان رہتا ہے،لیکن مشاہدات یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس سے وہ ارکان جو کہ شکار میں حصہ نہیں لیتی بھی خوراک میں برابر حصہ دار ہوتی ہیں، اگرچہ بعض ان بچوں کے پاس ہی رہتی ہیں جنھوں نے بالغ ہونے پر اسے چھوڑ دینا ہوتا ہے۔حرم کے اراکین شکار کا کھیل باقاعدگی سے کھیل کر اپنے ہنر کو بہتر کرتے رہتے ہیں۔حرم کے بچاو کی یہی تدبیر ہے کہ اسکے شکاری اراکین کی صحت بہتر ہو لہذا یہی شکاری شکار میں سب سے پہلے حصہ لیتے ہیں۔دوسرا مفید پہلو یہ بھی ہے کہ بجائے غیروں سے کھانا بانٹنے کے ا متعلقہ اراکین سے اسے اشتراک کرنے سے بچوں کے حفاظت،علاقے کی برقراری اور انفرادی طور پر چوٹ اور بھوک سے نجات کی ضمانت نصیب ہوتی ہے۔[26]

جنگلی ببر شیرنیوں کی ایک ویڈیو


حرم میں زیادہ تر ببر شیرنیاں ہی شکار میں حصہ لیتی ہیں۔اسلئے کہ وہ پھرتیلی،ہلکی اور چاک و چوبند ہوتی ہیں جبکہ ببر شیروں کو وزن زیادہ ہوتا ہے اور انکے گردن کے بالوں کے سبب دوڑتے ہوئے وہ گرمی سے نڈھال ہوجاتے ہیں۔وہ بحر حال شکار کے دوران اشتراک کرتے ہیں اور شکار کو کامیابی سے ہمکنارت کرنے کے لئے صحیح جگہ گھیر گھار کا نشانہ بناتے ہیں۔اکثر چھوٹے شکار اسی مقام پر شکاریوں کا نوالہ بنتے ہیں جبکہ بڑے شکار کو گھسیٹ کر حرم کے مقام پر لا کر سب کھاتے ہیں۔[72]اگرچہ تمام ارکان کھاتے ہوئے ایک دوسرے سے جارحانہ برتاو دکھاتے ہیں کیونکہ ہر ایک زیادہ سے زیادہ خوراک لینے کی کوشش کرتا ہے۔ببر شیرنیوں کے شکار کے اختتام پر ببر شیر اس پر تسلط جماتے ہوئے نظر آتا ہے۔وہ اسے شیرنیوں کے بجائے بچوں کے ساتھ مل بانٹ کر کھانے کو ترجیح دیتا ہے لیکن خود سے کئے شکار میں وہ کم ہی دوسروں کو شریک کرتا ہے۔

ببر شیر اور ببر شیرنیاں دونوں ہی کسی غیر کی جارحیت کے خلاف اپنی حرم کی حفاظت کرتے ہیں لیکن یہ کام زیادہ ببر شیر کو مناسب لگتا ہے کیونکہ وہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔[73]کچھ ارکان مستقل جارحین کے خلاف دفاع کرتے ہیں جبکہ کچھ پیچھے رہتے ہیں۔ببر شیر حرم میں ایک خاص کردار ادا کرتا ہے۔[74]وہ جو پیچھے رہتے ہیں حرم کے لئے قابل قدر خدمات بھی پہنچا سکتے ہیں۔[75]ایک مفروضہ ہے کہ اس جارحیت کے خلاف سامنے آتے ہیں انکا حرم میں ایک خاص مقام ہوتا ہے اور ببر شیرنیوں کے مقام کا اسی دفاع سے کردار بڑھتا ہے۔[76]نر ببر شیر جو کہ حرم سے منسلک ہوتے اپنے اور ماداوں کے تعلقات برقرار رکھنے کے لئے بیرونی حملہ آور سے ضرور مقابل کرتا ہے۔

شکار اور خوراک[ترمیم]

ببر شیر کے دانت گوشت خوری کے لئے بنے ہوتے ہیں.
ببر شیر ہیرون کھاتے ہوئے

موقع مناسبت سے ببر شیر مردارخوری کو بھی ترجیح دیتے ہیں،جو کہ اسکی خوراک کا 50 فیصد پورا کرتا ہے۔[77] [78]مردار جانور یا تو قدرتی طور پر مرتے ہیں یا وہ کسی دوسرے جانور کا شکار ہوتے ہیں نیز ان پر منڈلانے والے گدھ بھی انکی موجودگی پتہ دیتے ہیں۔[77]مزید بر آں اکثر مردار جانور جن سے ببر شیر اور لگڑ بگھڑ دونوں ہی حصہ لیتے ہیں اکثر لگڑبگھوں کے شکارہوتے ہیں۔[5]

حرم کے لئے شکار زیادہ تر ببر شیرنیاں ہی کرتی ہیں۔ببر شیر اس دوران بچوں کی نگرانی کرتا ہے ۔بالعموم یہ جانور شکار کے جھنڈ کو گھیر لیتے ہیں اور جب یہ شکار سے نہایت قریب پہنچتے ہیں تب حملہ آور ہوجاتے ہیں۔یہ حملہ زوردار اور مختصر سا ہوتا ہے اور وہ شکار جلد دبوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ عموما شکار کے گردان کو دبوچ کر انکے دم گھوٹ دیتے ہیں جن سے انکی موت ہوجاتی ہے۔[79]نیز وہ جانور کے نتھنے جبڑے اور منہ کے دھانے کو بھی بند کر دیتے جس سے انکی موت ہوتی ہے۔[5]

ببر شیر شکار میں اشتراک کرتے ہیں اور شکار کو چنتے ہیں۔لیکن انھیں انکی قوت کے لئے نہیں جانا جاتا جیسے ببر شیرنی کا دل 0.57% فیصد ہوتا جبکہ ببر شیر کا دل اسکے مجموعی وزن کا 0.45% حالانکہ لگڑ بگھڑ کا دل اسکے مجموعی وزن کا ایک فیصد ہوا کرتا ہے۔[80]پس وہ مختصر وقت کے لئے ہی زبردست رفتار پکڑ سکتے ہیں[81] اور شکار پر حملہ کرنے کے لئے انھیں اسکے بے حد نزدیک ہونا پڑتا ہے۔وہ اپنے ماحول میں گھل مل کر نظر کم آتے ہیں اور اس بات فائدہ اٹھا کر وہ اکثر شکار کر لیتے ہیں بالخصوص رات کو۔[82]وہ شکار پر اسوقت تک حملہ نہیں کرتے جب تک وہ انکے تقریبا 30 میٹر کے قریب نا ہوں۔

ببر شیرنی شکار کی جانب اپنی مکمل رفتار میں.

افریقہ میں انکے شکار میں ہرن،جنگلی درندے ،زیبرا،بھینس اور جنگلی سور ہوا کرتے ہیں۔جبکہ بھارت میں یہ شکار نیل گائے،جنگلی سور اور ہرنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔انکے شکار کئے گئے جانور موقع محل کی مناسبت سے ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر سموں کالے جانور ہوتے ہیں جن کی وزن 50 سے 300 کلو تک ہوتی ہے۔[5]کبھی کبھار وہ چھوٹے جانور جیسے تھامسن غزال وغیرہ پر بھی گزارا کر لیتے ہیں۔ببر شیر وپنے علاقوں میں گروہ کی صورت میں کئے گئے شکار میں زیادہ کامیابی سمیٹتے ہیں اور وہ بہٹ بڑے جانور جیسے زرافہ پر کم ہی حملہ کرتے ہیں کیونکہ اس میں زخمی ہونے کا زیادہ ہی خطرہ رہتا ہے ۔زرافہ اور بھینسیں شکار کے لئے بہت مشکل ثابت ہوا کرتی ہیں۔ببر شیر بھارت میں گھریلو مویشیوں پر بھی حملہ کرتے ہیں اور اسطرح اپنی خوراک کا ایک اہم حصہ پورا کرتے ہیں۔ببر شیر دیگر شکاریوں جیسے تیندواے چیتے،لگڑ بگھڑ اور جنگلی کتوں کو بھی ماردیتے ہیں لیکن وہ حریفوں کو قتل کے کم ہی کھاتے ہیں۔ببر شیر ایک وقت میں تیس کلو تک گوشت کھا سکتا ہے۔وہ اگر تمام کھانا نا کاسکے تو کچھ اور کھانے سے قبل تھوڑا آرام کر لیتا ہے۔گرم دنوں میں حرم کے ارکان ببر شیر کو سایہ دینے کی خاطر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ایک بالغ ببر شیرنی کو دن میں اوسطا 5 کلو جبکہ ببر شیر کو 7 کلو گوشت خوراک کے لئے درکار ہوتی ہے۔[83]


مطالعات بتاتے ہیں کہ ببر شیر ان ممالیہ جانوروں کا بالعموم شکار کر دیتے ہے جنکا وزن 126 کلو تک ہوتا ہے اور انکے شکار کا اوسطا وزن 300 کلو تک ہوتا ہے۔[84] افریقہ میں ببر شیر جنگلی بھینسوں کی ماداوں کو شکار کے لئے سب سے زیادہ ترجیح دیتے ہیں (اور سرنگیٹی کے علاقوں میں ببر شیر کے شکار کا تقریبا آدھا یہی مخلوق ہو کرتی ہیں) جس کے بعد زیبرا کا نمبر آتا ہے۔[85]ببر شیر مکمل بالغ ہاتھی،دریائی گھوڑے،گینڈے اور چھٹے غزال،امپالا اور دیگر اس نوع کی پھرتیلے جانوروں پر حملہ نہیں کرتے۔لیکن بعض خطوں میں بھینسوں اور زرافوں پر بھی مستقل حملے ہوتے ہیں۔جیسے کروگور نیشنل پارک میں زارفوں پر مستقل حملے وہتے رہتے ہیں۔[86]منیارا پارک میں تو بھنسیں ببر شیروں کی شکار کا 62 فیصد ہیں، کیونکہ وہاں بھینسوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔[87]کبھی کبھی دریائی گھوڑے بھی انکے شکار میں آجاتی ہے لیکن گینڈوں سے وہ دور ہی رہتے ہیں۔جنگلی سور کو وہ موقع مناسبت سے شکار کرتے ہیں۔[88] سواتی کے ببر شیروں میں خشک گرمیوں کے موسم میں نابالغ ہاتھی کے شکار کرنے کی لت دیکھی گئی ہے اور اس کام میں 30 ببر شیرنیوں کو مشغول دیکھا گیا ہے۔[89]کالاہاری صحرا،جنوبی افریقہ میں کالے ایال والے ببر شیروں کو ببون کا شکار کرتے بھی دیکھا جاتا ہے وہ درختوں پر چڑھے ببون کا انتظار کرتے ہیں اور جب وہ فرار ہونا چاہیں تو ان پر حملہ کردیتے ہیں۔

ببر شیروں نے ببون کو درخت پر پھانس رکھا ہے.

چونکہ ببر شیرنیاں کھلے جگہوں میں شکار کرتی ہیں لہذا انھیں شکار کی جانب سے دیکھ لینے کا امکان ہوتا ہے ؛اسلئے وہ اس معاملے میں اشتراک سے کام لیتی ہیں جس سے کامیابی کا زیادہ امکان رہتا ہے خاص کر یہ بڑے شکار کے معاملے میں زیادہ درست ثابت ہوتا ہے۔انکے کئے گئے شکار پر کئی میل دور گدھوں کی توجہ مرکوز ہوجاتی ہے اور وہ اپنے باہمی اشتراک کے بدولت اپنے شکار کا زیادہ بہتر دفاع کر تے ہیں۔ببر شیر عموما شکارمیں حصہ نہیں لیتے لیکن بڑے شکار جیسے بھینسے یا زرافے کی صورت میں وہ اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔تحقیقی سے یہ بات سامنے آءی ہے کہ ببر شیر اپنی ماداوں کی طرح شکار میں کامیاب رہتے ہیں وہ اپنے شکار کو جھاڑیوں میں چھپ کر پھانس لیتے ہیں۔جوان ببر شیریں تین ماہ میں شکار کرنے کا برتاو دیکھاتے ہیں لیکن وہ شکار میں حصہ نہیں لیتے جب انکی عمر 1 سال ہوت ہے تو وہ اس میں حصہ لینا شروع کردیتے ہیں لیکن 2 سال کی عمر میں وہ نمایاں طورسے اس میں حصہ لینا شروع کردیتے ہیں۔

شکار پر مقابلہ[ترمیم]

ایک نیم بالغ ببر شیر اور لگڑ بگڑ

ببر شیر اور لگڑ بگڑ ایک ہی ماحولیاتی نچ میں رہتے ہیں یعنی وہ ایک یہی علاقے میں رہنے کے سبب ایک ہی شکار حاصل کرنے کے لئے مقابلہ کرتے ہیں۔تحقیق کرنے سے پتا چلا کہ 58 فیصد شکار میں ان دونوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔[90]ببر شیر بالعموم لگڑ بگڑ کو اسوقت تک نظر انداز کرتے ہیں جب تک وہ انھیں جانی نقصان یا تنگ نا کریں جبکہ لگڑبگڑ شیروں کی موجدگی پر ردعمل دکھاتے ہیں بھلے ہی خوراک کا جگھڑا ہو یا نا ہو۔نگورنگورو گڑھے کے علاقے میں ببر شیر اکثر لگڑ بگھوں سے انکے شکار ہتھیا لیتے ہیں اسطرح لگڑبگھوں کو اپنی شکار کی تعداد بڑھانی پڑتی ہے۔[91] اسکے برعکس بوٹسوانا کوبی قومی پارک میں لگڑ بگھڑ شیروں کی طاقت کو چیلنج کرتے ہیں وہاں لگڑ بگڑ اپنی خوراک کا 63 فیصد ببر شیروں کی خوراک سے چراتے ہیں۔[92] ایسے مواقع پر لگڑ بگڑ ببر شیروں سے 30 تا 100 میٹر کے فاصلے پر ببرشیر کے شکار کو ختم کرنے دیکھتے کھڑے رہتے ہیں،[93]لیکن وہ ہوشیاری اس دعوت میں بھی حصہ نکال لیتے ہیں اور بعض اوقات وہ شیروں کو بھی شکار سے بھگا دیتے ہیں۔یہ دونوں نوع ایک دوسرے پر بھی بنا کسی ظاہری وجہ کے حملہ کر سکتے ہیں۔[94][95] ایٹوشا میں لگڑبغر کی موت کا 71 فیصد کا سبب ببر شیر ہیں۔لگڑ بگڑ نے اپنے علاقوں میں ببر شیروں کی موجودگی سے متعلق خود میں تبدیلیاں قبول کر لی ہیں اور جب ببر شیر نمودار ہوتے ہیں تو یہ گروہ میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔[96]ایک تجربے میں پہلے تحویل میں موجود دھبہ دار لگڑ بگڑ کا سامنا ببر شیر سے پہلی بار کروایا تو اس نے خاص رد عمل نہیں دکھایا لیکن بعد میں وہ ببر شیر کی بو سے ہی بے چین نظر آنےلگا۔[91] ببر شیر کے بڑے ایال کو دیکھ کے ہی لگڑ بگڑ انکا سامنا کم ہی کرتے ہیں نیز ببر شیر کے بڑے پنجوں ببر شیر کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔

ببر شیر چھٹی بلیوں جیسے چیتا ،تیندوں پر تسلط جماتا ہے اور انکے بچوں حتیٰ کے بالغوں کو بھی موقع ملنے پر قتل کردیتا ہے نیز وہ انکے شکار بھی ہتھیا لیتا ہے۔چیتا بالعموم اپنے شکار کو دوسرے جانوروں کے سبب کھونے کا امکان 50 فیصد رکھتا ہے۔[97]چیتا مقابلے بازی سے کتراتا ہے اور دن کے مختلف اوقات میں شکار کرتا ہے وہ اپنے بچوں کو گھنی جھاڑیوں میں چھپا دیتا ہے۔تیندوا بھی ایسے حربے استعمال کرتا ہے لیکن وہ ببر شیروں اور چیتوں کے بنسبت چھوٹے شکار پر گزارا کر کے فائدے میں رہتا ہے۔تیندوا چیتے کے مقابلے میں درخت پر چڑھ لیتا ہے اور اپنے بچوں اور شکار کو ببر شیر کی پہنچ سے دور رکھتا ہے[98] اگرچہ بعض اوقات ببر شیرنیاں بھی درخت پر چڑھ کر اسکے شکار کو ہتھیا لیتے ہیں۔اسی طرح ببر شیر افریقہ کے جنگلی کتوں پر بھی تسلط رکھتا ہے اور وہ اسکے شکار ہتھیا لیتے ہیں نیز وہ انکے جوان اور چھوٹے بچوں کو بھی قتل کردیتا ہے۔جہاں ببر شیر ہوں وہاں جنگلی کتوں کی آبادی کم دیکھی جاتی ہے۔[99] اگرچہ ایک آدھ موقع پر ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جس میں جنگلی کتوں نے بوڑھے اور زخمی ببر شیروں کو قتل کردئے ہوں۔[86][100]

نیل مگرمچھ انسان کے بعد واحد جانور ہیں جو کہ ببرشیروں کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ببر شیر اور مگرمچھ کے وزن کو جسامت کے مطابق یہ دونوں ہی اپنے شکار کو ایک دوسرے سے مقابلے میں گنوا سکتے ہیں۔یہ ایک معلوم بات ہے کہ ببر شیروں نے مگرمچھ کو خشکی پر مارئے ہوں [101] جبکہ دوسری صورت یعنی پانی میں ببر شیر ہی مار کھا سکتا ہے اور مگر مچھ کے پیٹ سے کئی دفعہ ببر شیر کے جبڑے ملے ہیں۔[102]

آدم خوری[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: آدم خور

اگرچہ ببر شیر عام حالات میں انسانوں کا شکار ہیں کرتے لیکن بعض بالخصوص نروں کو کبھی اسکی لت لگ جاتی ہے۔اس متعلق مشہور شائع ہونے والا ایک واقعہ 1898 میں ظہور ہوا جس میں ببر شیر نے کینیاء یوگینڈا ریلوئے لائن پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملے کئے سرکاری ریکاڑ کے مطابق ببر شیر نے 28 لوگوں نو ماہ کے تعمیراتی دور میں ہلاک کئے۔[103] جس شکاری نے اسکا شکار کیا اس نے اس آدم خور شیر کی شکاری خصوصیات بڑی تفصیل سے لکھی ہیں وہ لکھتا ہے کہ اس ببر شیر کے ایال نا تھے اور وہ عام ببر شیروں سے جسامت میں کافی بڑا تھا اور اسکے بعض دانت بھی ٹوٹے ہوئے تھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹوٹے دانت ببر شیر کو آدم خوری پر مجبور کرتے ہیں لیکن یہ بات ماہرین کے نزدیک درست نہیں انکے نزدیک انسانی آبادی کا شیروں کے علاقوں میں آباد ہونا ہی اسکی صحیح وجہ ہے۔[104]


تساو اور عام آدم ظور ببر شیروں کے مطالعہ کرنے والے ماہر لکھتے ہیں کہ بیمار یا زخمی ببر شیروں کے آدم خوری کی جانب مائل ہونے کے زیادہ امکانات رہتے ہیں۔لیکن یہ رویہ کوئی غیر معمولی یا حقائق سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہے جہاں ببر شیر کو انسانی مویشی یا انسانی آبادی پر حملے کا موقع ملتا ہے وہ ایسا کرتا ہے اسکے ثبوت پرائم میٹ اور پینتھرائن خاندان کے رکازیاتی علوم سے ملتے ہیں۔[105]

تساوو کے آدم خوروں کی تصویر،شکاگو

ببر شیروں کی آدم خوری کی عادت کے بارے میں کافی سائنسی تحقیقات ہوچکی ہیں۔امریکی اور تنزانیائی سائنسدانوں کے اعدادوشمار کے مطابق تنزانیہ کے دیہی علاقوں میں 1990 سے 2005 تک کے عرصے میں آدم خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک کم ازکم 563 دیہاتی ببر شیروں کا لقمہ بن چکے ہیں۔آدم خوری کا سب سے مشہور واقعی تقریبا ایک صدی قبل رنما ہوا۔یہ واقعات سیلوس نیشنل پارک موزمبیق کے سرحد کے پاس پیش آئے۔اگرچہ دیہاتیوں کا ان جنگلی علاقوں میں رہنا آدم خوری کا بنیادی سبب ہیں لیکن مصنف کے نزدیک ببر شیروں کی بقاء سے متعلق بنائے گئے اقدامات بھی انسانی جانی نقصان میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔لینڈی نے ایسے واقعات بھی منظر عام پر لائے ہیں جن میں ببر شیر مرکزی دیہاتوں پر حملہ کر کے انسانوں کو نقصان پہنچائے ہیں۔.[106] ایک اور مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کے جنوبی تنزانیہ میں 1988 سے 2009 تک ایک ہزار لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ واقعات زیادہ تر چودہویں کے راتوں کے اگلے راتوں یعنی جب اندھیرا زیادہ ہوتا تب پیش آتے تھے۔[107] مصنف رابرٹ آر فرمپ لکھتے ہیں کہ موزمبیقی مہاجرین جو رات کو کروگر پارک کو جنوبی افریقہ جانے کی خاطر پار کرتے ہیں زیادہ تر ببر شیروں کا زکار بنتے ہیں اس پارک کے حکام نے بھی ان واقعات کے بارے میں کہا کہ پارک کہ مسائل میں ایک مسئلہ آدم خوری کا بھی ہے۔فرمپ کا کہنا ہے کہ اپارتھائیڈ کی جانب پارک بند کئے جانے اور مہاجرین کو اسے رات کے اوقات میں پار کرنے پر مجبور کررنے سے اب تک تقریبا ہزاروں لوگ مرے ہیں تقریبا سو سال قبل جب یہ پارک سیل نا ہوا تھا تب موزمبیقی لوگ دن کے اوقات میں اسے پار کرتے تھے اور انھیں کم خطرہ لاحق ہوتا تھا۔[108]


پیکر نے اندازا لگایا کہ ہر سال تنزانیہ میں ببر شیر ،مگر مچھ،ہاتھی،دریائی گھوڑے اور سانپ دو سو لوگوں کو موت کی نیند سلاتے ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ ببر ہوتے ہیں جو اوسطا 70 لوگوں کو مار ڈالتے ہیں۔پیکر نے کہا کہ 1990 سے 2004 تک تنزانیہ میں 815 لوگوں پر حملے ہوئے جن میں 563 لوگ ہلاک ہوئے۔پیکر اور اکنڈا ان لوگوں میں سے ہیں جو چاہتے ہیں کہ مغرب ادارے ببر شیروں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی جانوں کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے۔[106]


ایک آدم خور ببر شیر کو جنوبی تنزانیہ کی ساحلی پٹی پر سکاوٹ والوں نے مار ڈالا کہا جاتا تھا کہ یہ آدم خور اس علاقے میں ہونے والے مختلف واقعات 35 کے قریب لوگوں کے موت کا سبب بنا تھا۔[109]ڈاکٹر رولف ڈی بالڈس جو کہ جٰ ٹی زیٹ جنگلی حیات کے منصوبے کے منتظم ہیں کہتے ہیں کہ مزکورہ شیر دانت میں شگاف پڑا تھا اور اسکیے منہ میں پیپسے بھرے دانے تھے۔انھوں نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ یقینا اس ببر شیر کو خوراک چبانے میں سخت تکلیف ہوتی ہوگی۔[110] جی ٹی زیٹ منصوبہ جرمن حکومت کی جانب سے تنزانیہ میں ببر شیروں کی بقاء میں دو عشروں سے معاون ہے۔اور مزکورہ ببر شیر کے بھی پچھلے آدم خور ببر شیروں کی طرح خراب دانت ،بنا ایال تھا نیز یہ انکی طرح بڑے جسامت کا بھی تھا۔

تمام افریقی آدم خور ببر شیر تساوو خیال نہیں کئے جاتے لیکن 1930 تا 1940 تک ٹینگانیکا (اب تنزانیہ) میں ایسے واقعات پیش آتے رہے۔جارج رشبی نے ایک دفعہ ایسے حرم کا بتہ لگایا جو کہ تین عشروں سے آدم خوری کی لت میں مبتلا تھی اور اس نے 1500 سے 2000 لوگوں کو ہلاک کیا تھا اور یہ واقعات نجومبے علاقہ میں پیش آئے تھے۔[111]

تولید اور زندگی[ترمیم]

اکثر ببر شیرنیاں چار سال کی عمر میں تولید کے لئے تیار ہوجاتی ہیں۔[112]اور یہ سال میں کسی مخصوص وقت میں مباشرت نہیں کرتے۔[113]دوسرے بلیوں کے عضو تناسل کی طرح انکی بھی آلہ تولید میں سخت کانٹے کی طرح ہوتے ہیں جو پیچھے کی جانب مڑے ہوتے ہیں ۔مباشرت کے دوران آلہ تولید نکلتے ہوئے یہ مادہ کے رحم کی دیواروں کے رگڑ کھاتی ہیں اور یہ حمل کا باعث بن سکتے ہیں۔[114] ایک ببر شیرنی اپنے بیضے بننے کے ایام میں ایک سے زائد شیروں سے ملاپ کرسکتی ہے۔[115]

ان میں حمل کا دورانیہ 110 دن تک کا ہوتا ہے،[113]اور ببر شیرنی ایک سے چار بچے دیتی ہے وہ یہ بچے کسی غار،کھو،یا جھاڑیوں میں اپنے حرم سے باہر دیتی ہے[116] اور یہ ببر شیرنی اپنے بچوں کو تنہا چھوڑ کر شکار میں بھی برابر حصہ لیتی ہیں۔نومولود بچہ پیدائش کے وقت بے یارومددگار ہوتا یہ یہ اسوقت نابینا ہوتا ہے اور پیدائش کے ایک ہفتے تک اسکی آنکھیں نہیں کھلتی۔اسکا وزن اسوقت ایک یا دو کلو کا ہوتا ہے اور ایک دو دن میں میں یہ رینگنا سیکھ لیتا ہے جبکہ تین ہفتوں میں یہ چلنا پھرنا شروع کردیتا ہے۔[117] ببر شیرنیاں اپنے بچوں کو پیدائش کے ایک مہینے تک مختلف مقامات میں منتقل کرتی رہتی ہیں تاکہ انھیں دوسرے شکاریوں سے بچایا جاسکے۔[116]

عموما ایک ماں یا اسکا بچہ چھ سے آٹھ ہفتوں تک حرم میں نہیں آتا۔[116] لیکن بعض اوقات اس سے بھی قبل یہ حرم میں داخل ہوجاتے ہیں اسوقت جب دوسرے ببر شیرنیاں بھی بچے دیتی ہیں۔مثال کے طور پر حرم کی ببر شیرنیاں اپنی تولیدی چکر کو ایک وقت میں شروع کیا کرتی ہیں تاکہ وہ ملکر ان بچوں کی پرورش کر سکیں( جب بچہ اپنے ماں سے جڑے ابتدائی تعلق کو گزار لیتا ہے)، پھر یہ بچے حرم کی تمام شیرنیوں کا دودھ پی سکتے ہیں۔تولیدی ایام کو ایک ہی وقت میں شروع کرنے سے تمام بچے ایک ساتھ ہی بڑے ہوتے ہیں یوں انکے بچنے کا زیادہ امکان رہتا ہے جو کہ اسکی دوسری افادیت ہے۔اگر ایک ببر شیرنی کے بچے جنم دینے کے کچھ ماہ بعد ایک اور ببر شیر بچے جنم دیتی ہے تو اول ببر شیرنی کے بچے زیادہ جلدی بڑے ہوجاتے ہیں اسطرح وہ موخر الذکر بچوں کی نسبت زیادہ خوراک کسب کرتے ہیں یوں دوم بچے بھوک سے مرجاتے ہیں۔

بھوک کے علاوہ ان چھوٹے بچوں کی زندگی کو لگربگڑ ،لومڑیوں سانپوں تیندوں اور عقابوں سے بھی خطرہ رہتا ہے۔حتی کہ اگر جنگلی بھینسوں کو بھی ان نوزائیدہ بچوں کی بو کسی جھاڑی سے آئے تو وہ وہاں ببر شیرنی کے آنے سے قبل زبرست بھگدڑ مچا کر ان بچوں کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں۔نیز اگر کوئی غیر ببر شیر حرم میں داخل ہوکر پہلے سے موجود ببر شیر کوہلاک کر کہ اس پر پر قبضہ جماتا ہے تو وہ بھی ان بچوں کو ہلاک کردیتا ہے[118] کیونکہ بچوں کو ہلاک کئے بنا مادائیں اپنی زرخیزی دوبارہ نہیں لاسکتیں اور نا ہی وہ نئے ببر شیر کی جانب رغبت دکھاتی ہیں۔بحر حال تمام نومولود بچوں میں سے محض 20 فیصد ہی دوسال کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں۔[119]

جب ان بچوں کو نئے نئے طور پر حرم میں لایا جاتا ہے تو وہ اوائل میں اپنی ماں کے سوا ببر شیر کا سامنا کرتے ہوئے گبھراتے ہیں۔وہ جلد ہی حرم میں گھل مل جاتے ہیں اور وہ کھیل کود میں یا بالغوں سے کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ببر شیرنیاں جنکی اولاد ہوتی ہیں وہ بے اولاد ببر شیرنیوں کی نسبت دیگر ببر شیرنیوں کے بچوں کو زیادہ برداشت کرتی ہیں۔ببر شیر کس حد تک بچوں کو برداشت کرتے ہیں یہ بات مختلف ہوتی ہیں بعض ان بچوں کو اپنے ایال اور دم سے کھیلنے دیتے ہیں جبکہ بعض انھیں دور کر دیتے ہیں۔[120]

نر غالبا دوسروں کے کئے شکار میں اپنے ماداوں کے بجائے بچوں کا شامل کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ اپنے شکار میں وہ کسی کو شامل کرنے کے قائل نہیں ہوتے۔

بچے چھ سے سات ماہ میں دودھ پینا چھوڑ دیتے ہیں۔اور یہ بچے 3 تا 4 سال میں دوسرے کسی حرم کے ببر شیروں کو وہاں سے نکالنے کی صلاحیت پا لیتے ہیں۔وہ اگر اپنے حرم کا دفاع کرتے ہوئے وہ سخت زخمی نا ہوں تو وہ دس سے 15 سال کی عمر میں بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔[121]ایک دفعہ اگر حرم کوئی ہتھیا لے تو وہ پھر نئے حرم کو حاصل نہیں کر پاتا۔اس صورت میں انکے بچوں کی جانب سے حرم پر قبضہ کرنے کا امکان کھل سکتا ہے۔اگر وہ نئے بچے پیدا کرے میں میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انھیں یہاں سے بے دخل ہونے سے پہلے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ بلوغت تک پہنچتی ہے۔مادائیں نئے ببر شیروں کے سامنے اپنے بچوں کا دفاع کرتے ہیں لیکن وہ اس میں کم ہی کامیاب ہوتے ہیں۔وہ عام طور پر دو سال سے چھوٹے تمام بچوں کو مارڈالتا ہے۔چونکہ مادائیں نروں کے مقابلے میں ہلکی اور کمزور ہوتی ہیں لہذا تین مادائیں ملکر ہی ببر شیر کے مقابلے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔[118]

عام خیالات کے برعکس صرف ببر شیروں کو ہی حرم سے بے دخل نہیں کیا جات بلکہ مادہ بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے لیکن اکثر مادائیں پیدائش والے حرم میں ہی رہتی ہیں۔جب کبھی نیا ببر شیر کسی حرم پر قبضہ کرتا ہے تو نیم بالغ مادائیں یا نر بھی اس سے بے دخل کئے جاسکتے ہیں[122] تنہا زندگی گزارنا ماداوں کے لئے سخت ترین ہوتا ہے۔تنہا مادائیں اپنے بچوں کو بلوغت تک پہنچانے میں اکثر ناکام ہوتی ہیں کیونکہ انھیں حرم کا تحفظ میسر نہیں ہوتا۔

کینیڈا کے محقق بروس بیگ مہیل نے یہ بات دیکھی ہے کہ دونوں نر اور مادہ ببر شیرنیاں ہم جنسی میں بھی مبتلا ہوسکتی ہیں۔ببر شیر اجتماعی طور پر بھی ہم جنسی اور اسطرح کے افعال کرتے دیکھے گئے ہیں۔نر ببر شیر آپس میں ملاپ سے قبل ایک دسرے کے سر رگڑتے اور ایک دسرے کے گرد گھومتے ہیں۔[123]

صحت[ترمیم]

اگرچہ قدرتی طور پر ببرشیروں کا کوئی شکاری وجود نہیں رکھتا لیکن انسان اور دیگر ببر شیر اسکے موت کا زیادہ سبب بنتے ہیں۔[124]ببر شیر اپنے ہی نوع سے کی گئی لڑائی میں زبردست زخم کھاتے ہیں اور یہ لڑائی علاقوں پر یا حرم کے اپنے ارکان کے مابین بھی ہوتی ہے۔[125]رینگنے والے ببر شیر کے بچے ہاتھیوں ،لگڑبگڑ ، اور بھینسوں کا شکار بنتے ہیں۔[126]

مکھیوں سے پناہ کی تلاش میں درختوں پر بیٹھے ببر شیر.

بہت سے ببر شیروں کے کان گردن کے جگہوں پر خون چوسنے والے کیڑے چپکے رہتے ہیں۔[127][128]ٹیم ورم کے کیڑے اکثر اوقات ببر شیر کی آنتوں میں ملتے ہیں جو ببر شیر کے جسم میں انٹی لوپ کا گوشت کھانے سے داخل ہوتے ہیں۔[129]نگورنگورو پارک میں موجود ببر شیر 1962 میں ایک قسم کی مکھیوں سے بے حد پریشان رہے یہ مکھیاں انکی جلد پر بیٹھ کر خون چوستی ہیں جس سے انکی کھال کمزور سی ہوجاتی ہے اور خون کے دھبے سے بن جاتے ہیں۔اسوقت کے ببر شیر ان سے بچنے کے لئے درختوں پر چڑھتے تھے یا لگڑ بگڑ کے بلوں میں گھس بیٹھتے تھے اسطرح بہت سے ببر شیر یا ہلاک ہوئے یا انھوں نے ہجرت کر لی اور وہاں کی آبادی 70 سے 15 تک رہ گئی۔[130]2001 میں اسطرح کے مکھیوں کے نمودار ہونے کی وجہ سے چھ ببر شیروں کی اموات ہوئی۔[131]تحویل میں موجود ببر شیروں کو کینین ڈسٹمپر وائرس،ایف آئی وی ارو اید آئی پی جیسے وائرسوں سے زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔سی ڈی وی وائرس کتوں اور دیگر گوشت خوروں سے پھیلتی ہے۔اس بیماری سےعصبیاتی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں 1994 میں ایسی وبا سرینگیٹی نیشنل پارک میں سامنے آئی جس سے کئی ببر شیر نمونیا سر کی ایک خاص بیماری سے مر گئے۔[132]ایف آئی وی اور ایڈز ایک جیسے ہیں لیکن یہ ببر شیروں پر سخت اثر نہیں کرتے لیکن یہ بیماری ان سے پالتو بلیوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔یہ بیماری خاص علاقے کے ببر شیروں کو ہی متاثر کرتی ہے جبکہ یہ ایشیائی اور نمیبیائی نوع میں نہیں ملتی۔[17]

روابط[ترمیم]

آرام کے وقت ببر شیروں کے سماجی افعال زیادہ دیکھے جاتے ہیں اور وہ مختلف حرکتوں سے اسکا اظہار کرتے ہیں۔[133] [134] [135]سب سے پر امن طریقہ سر سے سر ملانے کا ہےیا وہ دوسروں کو زبان سے چاٹتے ہیں۔زبان سے سر گردن اور چہروں کو چاٹنا ایک طرح کی تسلیمات میں سے ہیں یہ اسوقت دیکھا جاتا ہے جب بچھڑا جانور یا لڑائی آنے والے جانور کا سامنا ہوتاہے۔[136]نر ببر شیر ایک دوسرے سے جبکہ ببر شیرنیا ں اور بچے ایک دوسرے سے سر رگڑتے ہیں۔سر اور گردن جیسے جگہوں کو چاٹنا شاید ایک بہت خوشگوار اثر چھڑتا ہے کیونکہ ببر شیر انفاردی طور سے ایسا نہیں کرسکتے۔[137]

سروں کو رگڑنا یا چاٹنا ایک عام سماجی برتاؤہے۔

ببر شیر کے چہروں اور جسمانی پر ہلکے احساسات ظاہری اشاروں کے طور پر نظر آتے ہیں۔[138]ببر شیر کی دھاڑ بھی رابطوں میں اہمیت رکھتے ہیں اور اس آواز کی اونچائی اور ہلکی آواز کے خاص اشارے ہوتے ہیں۔ببر شیروں کی آوازوں میں دھاڑ،کھانسنا،غرانا سراہٹ شامل ہیں۔ببر شیر کی دھاڑ خاص تناسب میں ہوتی ہیں وہ لمبے دھاڑ سے مختصر دھاڑ کی طرف جاتے ہیں۔[139][140]وہ زیادہ تر رات کو دھاڑتے ہیں اور انکی آواز 8 کلومیٹر تک سنائی دیتی ہے جو کہ جانور کی موجودگی کی خبر دیتے ہیں۔[141] ببر شیر دھاڑ تمام بڑے بلیوں میں سب سے بلند ہوتی ہے۔

تحویل میں موجود ایک ببر شیر کی دھاڑ

this file چلنے میں دشواری؟ دیکھیے میڈیا معاونت۔

پھیلاؤ اور مسکن[ترمیم]

دو ایشیائی ببر شیر ،یہ معدومی کے خطرے سے دوچار نوع صرف بھارت کے گیر جنگلات تک رہ گئے ہیں۔[142]
[143]

افریقہ میں ببر شیر سوانا اور گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں جہاں کہیں کہیں اکیشیا کے درخت سائے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔بھارت میں وہ خشک سوانا کے جنگلات اور بہت خشک جنگلات کو مسکن بناتے ہیں۔[144]ببر شیروں کی اصل مسکن یوریشیا کے جنوبی علاقوں جو کہ یونان سے بھارت تک پھیلی ہوئی تھی اور تمام افریقی علاقوں بشمول صحارا کے علاقوں سوئے وسطی بارانی جنگلات کے پر مشتمل تھی۔ہیرودوت نے یونان میں 480 ق م میں انکی موجودگی کا لکھا ہے ایرانی شہنشاہ خشیارشا اول کے سامان بردار اونٹوں پر ایک دفعہ انھوں نے حملہ بول دیا تھا جو وہ فارس کے کسی علاقے سے گزر رہے تھے۔ارسطو نے 300 ق م میں انھیں نایاب لکھا ہے [145]اور 100ء تک یہ ناپید ہوگئے تھے۔ایشیائی ببر شیر قفقاز کے علاقوں میں دسویں صدی تک باقی رہے۔[146]

فلسطین کے علاقوں میں ببر شیروں کی موجودگی قرون وسطی میں ختم کردی گئی اور باقی ایشیاء میں 18 ویں صدی میں آتشی اسلحہ نے انکے خاتمے کے لئے ایک اہم کردار ادا کیا۔19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں انھیں شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیاء سے ختم کردیاگیا۔19ویں صدی کے شروع ہوتے ہی ببر شیر ترکی سے اپنا وجود کھو بیٹھے اور اسی دوران شمالی ہندوستان سے بھی وہ غائب ہوگئی،[17][147]جبکہ ایرانی ایشیائی ببر شیر 1941 میں(شیراز اورجہرومکے درمیان) دیکھا گیا،اگرچہ ببر شیرنی کی مردہ جسم کارون دریا کے کنارے 1944 میں دیکھی گئی۔اسکے بعد سے کوئی اطلاع ایران سے موصول نہیں ہوئی۔[148]اب یہ ذیلی نوع شمال مغربی بھارت میں گیر جنگلات تک محدود ہیں۔[31] تقریبا 500 ببر شیر 1412 مربع کلومیٹر کے علاقے میں رہتے ہیں اور یہی جنگلات کا زیادہ تر رقبہ ہے۔انکی تعداد 180 سے 523 تک بڑھی ہے جسکی انکے قدرتی شکار کا دوبارہ منظر پر لانے میں کامیابی ہے۔[32][149]

آبادی اور حفاظتی حالت[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: ببر شیر کا شکار

ایشیائی ببر شیر, جو کبھی بحیرہ روم سے برصغیر تک پھیلے ہوئے تھے آج صرف 500 سے کچھ زائد تعداد میں بھارتی گجرات کے گیر جنگلات تک محدود ہیں۔[150]

آج افریقہ کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں پائے جانے ببر شیروں کی آبادی 20ویں کےوسط میں 50 فیصد کم ہوچکی ہے ۔[2][151][152]2002-2004 کے کئے گئے سروے میں وہاں انکی تعداد 16500 سے 47000 کے قریب تھی جبکہ 1950 میں انکی آبادی ایک لاکھ سے چار لاکھ ہوا کرتی تھی۔اس کمی کی بنیادی وجہ انسانی مداخلت اور بیماریاں ہیں۔[2] [153][154]مسکن سے علیحدگی اور انسان سے سامنا ہونا انکی سب سے بڑی وجوہات میں سے ہیں۔باقی ماندہ انواع جغرافیائی طور سے الگ تھلگ ہیں جسکے سبب اختلاط نا ہونے سے جینیاتی تنوع کم ہوتی ہے۔اسی لئے بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت نے اسے خطرے سے دوچار میں ڈالا ہے جبکہ ایشیائی ببر شیروں کو انھوں نے اس سے زیادہ خطرے والے زمرے میں رکھا ہے۔[155]مغربی افریقی ببر شیر اور وسطی افریق نوع جغرافیائی طور پر الگ الگ ہیں جسکی وجہ سے ان میں انفرادی طور پر اختلاط کا امکان کم ہی رہتا ہے۔مغربی افریقہ میں 2002-2004 والے سروے میں ببر شیروں کی تعداد 850-1160 بتائی گئی۔مغربی افریقی ببر شیروں کی الگ الگ سب سےبڑی آبادی کے معاملے پر اختلاف ہے؛برکینا فاسو ارلئ سنگو کے ماحولیاتی نظام میں انکی تعداد 100 سے 400 بتائی جاتی ہے۔[2]ایک سروے شمالی مغربی افریقہ کے وازا نیشنل پارک کے بارے میں 14 تا 21 بتاتی ہے۔[156]

شکار شدہ کالے ایال والا ببر شیر ،سوٹک پلین،مئی 1910 کینیاء

دونوں افریقی اور ایشیائی ببر شیروں کی تحفظ کے لئے مزید بہتر اقدامات کی ضرورت ہے جن میں نیشنل پارک میں بہتری جیسی چیزیں شامل ہیں۔ ان بہترین تحفظ والے علاقوں میں نمیبیاء کا ایٹوشا نیشنل پارک،تنزانیہ کا سرنگیٹی نیشنل پارک اور جنوبی افریقہ کا کروگر نیشنل پارک مشہور ہیں۔اسی طرح ایساو ببر شیروں کی بقا کے لئے سمبرو نیشنل ریسرو،بفیلو نیشنل ریسرو اور سہبا نیشنل ریسرو شمالی کینیاء میں فعال ہیں۔[157]ان علاقوں کے علاوہ دیگر مقامات میں ببر شیروں اور انسانی آبادیوں میں سامنا ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے ببر شیروں کی آبادی کو خطرات ہیں۔[158]بھارت میں ایشیائی ببر شیروں کی آخری پناہ گاہ گیر نیشنل پارک ہے جہاں 1974ء میں محض 180 ببر شیر تھے لیکن 2010ء میں یہ تعداد بڑھ کر 400 تک جا پہنچی۔[32] افریقہ میں انسانی آبادی ببر شیروں کے علاقوں کے آس پاس ہی رہی ہیں لہذا انھیں جان و مال کا خطرہ ضرور رہتا ہے۔[159]ایشیائی ببر شیروں کو مدھیا پردیش کے کونو سینکیوری میں دوبارہ متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔اس منصوبہ کے لئے ضروری ہے کہ ان ببر شیروں کو دیگر انواع سے اختلاط نا دیا جائے تاکہ کہ انکی الگ نسلی پہچان قائم رہے۔[160]

بربری ببر شیروں کو ایام رفتہ میں چڑیا گھر والا جانور کہا جاتا تھا جسکی وجہ یہ تھی کہ چڑیا گھروں کے اکثر ببر شیر انکی نسل میں سے تھی۔کینٹ کے علاقے میں موجود برطانوئی چڑیا گھر کے ببر شیر کبھی مراکشی سلطان کی تحویل میں ہوتے تھے۔[161]ادیس ابابا کی چڑیا گھر کے گیارہ ببر شیر بھی اسی نسل کے ہیں جو کہ وہاں کے بادشاہ کی تحویل سے لئے گئے تھے۔جامعہ آکسفورڈ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس سے ان بربری ببر شیروں کی نسل بڑھا کر انھیں دوبارہ انکے قدرتی ماحول میں چھوڑ دئے جائیں گے یہ انھیں اٹلس پہاڑیوں مراکش میں چھوڑیں گے۔[59]

ببر شیروں کی تعداد میں کمی کی دریافت کے بعد بہت ساری تنظیمیں انھیں بچانے کے لئے مشترکہ اور مربوط کام کر رہی ہیں۔یہ نوع ان انواع میں شامل ہیں جنھیں سپیشیس سروائیول اینڈ ایکویریم کے منصوبہ بقاء کے لئے چنا گیا ہے۔یہ منصوبہ 1982ء میں ایشیائی ببر شیروں کے لئے شروع کیا تھا لیکن اس میں اسوقت رکاوٹ آئی جب انھیں معلوم ہوا کہ امریکی چڑیا گھروں کے ببر شیر حقیقتا خالص ایشیائی ببر شیر نہیں ہیں بلکہ انکی افریقی ببر شیروں سے اختلاط ہوچکی ہے۔افریقی ببر شیروں کے لئے یہ منصوبہ 1993ء میں شروع ہوا لیکن اس میں کئی مشکلات حائل ہیں جیسا کہ بہت سے ببر شیروں کی نسل میں خالصیت نہیں ہے۔[17]

تحویل میں[ترمیم]

کلفٹن زولوجیکل گارڈن ،انگلینڈ میں ببر شیر کے بچے،1854

ببر شیر چڑیا گھروں میں ایک خاص مقام رکھنے والے جانوروں میں شامل ہیں جن میں ہاتھی ،گینڈے اور دیگر بگ کیٹس شامل ہیں لہذا چڑیا گھروں کی انتظامیاں انھیں اپنی چڑیا گھر میں رکھنے لئے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔[162]ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر کے چڑیا گھروں میں 1000 کے قریب افریقی اور 100 کے قریب ایشیائی ببر شیر موجود ہیں[163]۔انھیں ایک سفارتی نوع کے طور پر تعلیم ،سیاحت اور حفاظت کے لئے رکھا جاتا ہے۔تحویل میں موجود ببر شیر 20 سال تک جی لیتے ہیں ہوئی کے چڑیا گھر میں ایک ببر شیر نے 22 سال کی عمر میں 2007 میں وفات پائی۔[164][165] [166]1986 میں پیدا ہونے والی اسکی بہنیں بھی 2007 تک زندہ رہیں۔ملاپ کروتے وقت دیگر نوع کی جانوروں سے اجتناب برتنا چائے تاکہ انھیں انکی اصل حالت میں برقرار رکھا جاسکے۔بحرحال ایشیائی اور افرقی ببر شیروں کا ملاپ کیا جانے ایک مشاہدے کی بات ہے۔

قدیم مصر میں لیونٹوپولس اور تل بستہ شہر کے مندروں میں سے ایک مندر سخمت ببر شیرنی دیوتا اور باستت مندر کے بیٹے کے نام سے منسوب تھا ،ماحس جو کہ ببر شیر کا شہزادہ تھا کے مندر میں زندہ شیررکھے جاتے تھے جنھیں وہاں گھومنے کی آزادی تھی۔یونانیوں نے بھی اس شہر کا تاریخی طور پر ذکر کیا ہے اور اسے دیار ببر شیر لکھا ہے۔اشوریہ 850ق م میں بھی انھیں پالتے تھے [145] اور سکندر اعظم کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھیں شمالی ہندستان کے راجہ نے سدھائے ہوئے ببر شیر تحفے میں دئے تھے۔[167]اور رومی دور میں باشاہان انھیں پہلوانوں سے لڑائی یا لوگوں کو سزا دینے کے لئے رکھتے تھے۔رومن کے نامور بادشاہ جیسے پامپے اور جولیس سیزر نے ببر شیروں کے قتل عام کا حکم بھی صادر کیا تھا۔[168]مشرق میں ہندوستان کے لوگ ببر شیروں کو سدھاتے تھے جبکہ مارکو پولو کے مطابق قبلائی خان اپنے پاس انھیں رکھتا تھا۔[169] 13ویں صدی میں یورپیوں کےہاں سب سے پہلے نوابوں اور حکمرانوں کے لئے چڑیا گھر ہوتے تھےجنھیں 17ویں صدی میں سراگلیوس کہا جانے لگا۔نشاۃ ثانیہ کے دور میں یہ چیزیں فرانس اٹلی اور پھر ساری یورپ میں پھیل گئی۔[170]اگرچہ انگلینڈ میں ایسی روایت سامنے نہیں آئی لیکن باداشاہ کنگ جوہن نے 13ویں صدی میں اسے ٹاور آف لندن میں پال رکھا تھا،[171][172]غالبا انگلستان میں ببر شیر رکھنا 1125 میں ہنری اول نے شروع کیا تھا اور اسکے لئے جگہ آکسفرڈ کے مقام پر تھی۔[173]


سرگیلو اس دور میں وہاں طاقت اور دولت کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔[174] اسی دور میں ان تماشوں میں بڑی بلیوں کو دیگر بڑے جانور جیسے ہاتھی اور گھریلو پالتو جانوروں وغیرہ سے جنگ دی جاتی تھی۔ان نمائشوں کو انسان کا قدرت پر فتح کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔سن 1682 میں ایک دفعہ "قدرت" کو ایک گائے کے ہاتھوں شکست ہوئی جس نے تماشائیوں کو حیران کردیا۔یہ رسم 19ویں صدی تک جاری رہی پھر اسکو برا سمجھا جانے لگا۔

البرت دورر 1520ء کی بنائی ایک تصویر

ٹور آف لندن میں موجود ببر شیر وہاں کے بادشاہ پالتے تھے یا انھیں انھیں یہ کسی کی جانب سے ہدیہ کی جاتی تھی۔[175]ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 17ویں صدی میں انھیں وہاں بری حالت میں رکھا جاتا تھا جبکہ فلورنس میں ان دنوں انکے لئے زیادہ بہتری تھی۔18ویں صدی میں چڑیا گھر کی یہ ابتدائی قسم عام لوگوں کے لئے بھی کھول دی گئی اور اس میں داخل ہونے کا کرایہ 3 پینس رکھا گیا یا لوگ اسکے بدلے کتے یا بلی دیتے تھے جو چڑیا گھر والے ببر شیر کو کھلاتے ۔[176] اسے اسوقت مینگری کہتے تھے اور 19ویں صدی میں اسکے مقابل ایک اور نمائش ایکشٹر اکسچین شروع ہوئی۔[177]ٹاور منیگری ولیم چہارم، مملکت متحدہ نے بند کردی [176]اور اسکے ببر شیروں کو انھوں نے 27 اپریل 1828 میں چڑیا گھر منتقل کردیا۔[178]

19ویں صدی کے نوآبادیاتی دور میں جانوروں کی تجارت بھی شروع ہوئی۔اس دور میں ببر شیر عام اور سستے شمار ہوتے تھے۔البتہ شیروں کے مقابلے میں انھیں زیادہ بہتر چیز سے بدلا جاسکتا تھا اور بڑے ہونے کے باوجود سستے تھے اور دیگر بڑے جانور جیسے زرافے اور گینڈوں کے مقابلے انھیں سفر میں لے جانا آسان کام تھا۔[179]دوسرے جانوروں کی طرح انھیں بھی سامان تجارت سمجھ کر استعمال کیاجاتا رہا اور سفر میں انھیں بے رحمانہ طور سے سلوک کیا جاتا جن سے انھیں سخت نقصان پہنچتا۔[180]اس دور میں ان ببر شکاریوں کو بڑے بہادر کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔[181]سیاح اور شکاری اس دور میں ایک فلسفہ مانویت کا پرچار کیا کرتے جس سے وہ جانوروں کو اچھے اور برے زمرے میں بانٹا کرتے اور اپنی مہم کی کہانیوں میں خود کو ایک ہیرو کی طرح پیش کرتے۔اسطرح بڑی بلیوں کو آدم خور ہونے کے ناطے زیادہ نفرت کے نتائج کو بھگتی تھیں۔[182]

میلبورن کے ایک چڑیا گھر میں موجود ببر شیر


ببر شیروں کو لندن کے چڑیا گھر میں 1870 تک انتہائی بری حالت میں رکھا جاتا تھا لیکن اسکے بعد ان کے لئے الگ کمرے بنائے جانے لگے۔پھر اس میں بہتری 20ویں صدی میں آنےلگی جب کارل ہجن بک نے پنجروں کے بجائے چڑیا گھروں میں قدرتی ماحول سے مماثلت رکھنے والے مسکن بنائے۔نیز انھوں نے سڈنی اور میلبورن زو میں بھی 20 ویں صدی کے اوال میں اسی طرح کی تبدیلی کی۔انکی پیش کی گئی تبدیلی 1960 تک بہت سارے چڑیاگھروں میں موجود رہی ۔[183]بعد کے عشروں میں چڑیا گھروں کی صورتیں بالکل بدل گئی اب یہ چڑیا گھر اصل قدرتی ماحول کے نہایت قریب ہوگئی ہیں نیز تماشائی بھی بنا کسی خطرے کے بڑے جانوروں کے بہت پاس جاسکتے ہیں جو پہلے کبھی ممکن نا ہوسکا تھا.[17]۔اب ببر شیروں کے تحویلی جگہوں کو قدرتی رنگ دیا گیا ہے جہاں دھوپ ہوا، آرام اور سہولت اور انکی ضروریات کا حد درجہ خیال رکھا جاتا ہے جہاں گھومنے کے لئے ایک وسیع جگہ مختص ہوتی ہے۔اب ان ببر شیروں کو ذاتی طور پر رکھنا بھی ایک عام بات ہوچکی ہے اس حوالے سے ایک جوڑا جارج ایڈم سن اور انکی اہلیہ جوئے ایڈمسن جنکے پالتو شیرنی ایلسا نے انکے خاندانی فرد کی حیثیت لے لی تھی کافی مشہور ہوئے۔انکی اہلیہ نے اس بارے میں کافی کتابیں اور فلمیں بنائی ہیں۔

کھیل اور سدھارنا[ترمیم]

19ویں صدی کا ایک شعبدہ باز ببر شیروں کے ساتھ کرتب دکھاتا ہوا

ببر شیروں کے سات دیگر جانوروں جیسے کتوں وغیرہ کو مقابلے دئے جاتے تھے۔یہ خونی کھیل قدیم ادوار سے ہی چلے آئے ہیں۔اس پر 1800 میں ویانا اور 1835 میں انگلینڈ میں مکمل قدغن لگائی گئی۔[184][185]


ببر شیروں کو سدھارنے سے مراد انھیں لطف طبع کے لئے سرکس یا انفرادی طور پر چیزیں سکھانا ہیں یورپ میں اس حوالے سے سیگفرائڈ اور روئے مشہور تھے۔دیگر بڑی بلیوں جیسے چیتے،تیندوئے وغیرہ کے ساتھ بھی ایسا کیا جاتا ہے۔یوپ میں اسکی ابتداء 19ویں صدی میں فرانسیسی شخص ہنری مارٹن اور امریکی آئزک وان امبرگ کے ہاتھوں ہوئی جو اس کام کے لئے کئی جگہوں کا دورہ کیا کرتے تھے۔وان ایمبرگ نے انگلینڈ میں اپنے دورے پر 1838 میں ملکہ برطانیہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔مارٹن نے نے اپنے سرکس کا نام لیس لائن ڈی میسور رکھا(شیر میسور) اسی سے امبرگ نے بھی اسی سے آئیڈیا لیا۔ان سرکسوںمیں سب سے خاص بات ان درندوں کی سواری تھی جو کہ انسان کی حیوان پر فوقیت کو ظاہر کرتی[186] لیکن اس نے 20 ویں صدی کے ابتداء میں سینیما کے ذریعے حقیقتا لوگوں کی توجہ کھینچ لی۔سدھارنے والے شخص کی کمال کی معراج وہ عمل ہواکرتی جس میں وہ اپنا سرببر شیر کے منہ میں ڈال دیتا تھا۔[187]

انسانوں سے تعلق[ترمیم]

اگرچہ اب تک انسان سے تعلق کے صلے میں ببر شیر نے اپنے علاقے سے منتقلی یا فقظ اکثر اپنی جان ہی گنوائی ہے۔ لیکن ایک واقعہ جو 9 جون 2005 کو پیش آیا ذرا مختلف زاویہ رکھتا ہے ہوا یوں کہ ایتھوپیامیں ایک 12 سالہ بچی کو تین ببر شیروں نے بنا کوئی خطرہ پہنچائے اسکی مدد و حفاظت کی یہ واقعہ جس مقامی پولیس افسر نے بتایا اسے بعد میں وہاں کے اعلی سرکاری اہلکار نے بھی بیان کیا۔اس خبر کے مطابق اس بچی (انکا نام معلوم نا ہوا)کو تین لڑکے اغوا کر کے جنگل لئے تھے جسکی وجہ اس بچی کو شادی پر رضامند کرنا تھا (ایسی رسم ایتھوپیا میں موجود ہے) لیکن بچی اس پر رضامند نا تھی پھر کہا جاتا ہے کہ تین ببر شیروں نے ان اغواکاروں کو وہاں سے بھگا دیا اور تب تک اس بچی کی حفاظت جب تک کے حکام اس بچی تک نا پہنچے اہلکاروں نے اس بچی کو ادیس ابابا سے 350 کلومیٹر دور بیٹا گینٹ کے علاقے میں پایا۔یہ بات نامعلوم ہے کہ کیو ببر شیروں نے ایسا کیا کچھ ماہریں کہتے ہیں کہ شاید بچی کی چیخیں ببر شیروں کے بچوں سے مماثلت رکھتے تھے جس کے سبب انھوں نے مدد کیا ۔[188] بحرحال یہ واقعی جنگلی حیات کے ماہرین کے نزدیک ایک متنازع فیہ ہے۔[189]

ثقافتی اہمیت[ترمیم]

ہزاروں سال سے یورپ ،ایشیاء اور افریقہ میں بسنے والے انسانی ثقافتوں میں ببر شیر ایک معروف ترین نشان کے طور پر ابھرا ہے۔باوجود ببر شیر کی آدم خوری کے چرچے عام ہونے کہ اسکے متعلق انسانوں میں مثبت تاثر بھی اسکی طاقت اور بہادری کے حوالے سے موجود ہے۔[190] اسے عام طور پر "جنگل کا بادشاہ" یا "درندوں کا سردار کہا جاتا ہے پس اسکی وجہ شہرت بہادری ،وقار اور شاہانہ حوالے سے قائم ودائم ہے۔ قدیم یونانی لکھاری ایسپ نے چھ صدی ق م میں بھی اس سے متعلق کہانیاں لکھی ہیں۔[191]

ببر شیر کی تصاویر بالائی پیلیولیتھک دور سے نظروں میں آرہی ہیں۔انسانی دھڑ کے ساتھ ببر شیر کے سر کی ایک نہایت قدیم تصویر جرمنی کے ایک غار میں ملی ہیں جو کہ ملک کہ جنوب مغربی علاقے سوبین الب میں موجود ہیں۔اوریگناشئین ثقافتوں سے ملنے والے مجسمے 32 ہزار سل قدیم ہیں[192] لیکن اسکے متعلق امکان ہے کہ یہ 40 ہزار سال پرانے ہوسکتے ہیں۔[16]یہ مجسمہ انسانی خصوصیات کو اس نوع کے ساتھ مشترک دیکھاتا ہے جو کسی دیوتا کی بھی ہوسکتی ہے۔15ہزار سال قبل دور کے ایک غار کی دیواروں پر ببر شیروں کو جنسی اختلاط کرتے دیکھا یا گیا ہے۔1994 میں ایک غار کاویٹ سے ایسی 32 ہزار سال پر دیوار پر کندہ تصاویر دیکھی گئی ہیں۔[38] .[193]

دارا اول (550–330 ق م) کے محل میں موجود تصویر


افریقہ میں مختلف خطوں کے لوگوں میں ببر شیر کے متعلق خیالات مختلف ہیں۔کچھ ثقافتوں میں ببر شیروں کو طاقت اور بادشاہت کی نشانی سمجھی جاتی ہے اور وہاں کے حکمرانوں کے عرفیت میں ببر شیر کا نام داخل ہوتا ہے۔مثلا سلطنت مالی کے ایک حکمران کو "شیر مالی" کانام دیا گیا۔نجے جس نے والو سلطنت(1287-1855) کی بنیاد رکھی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انھیں ببرشیروں نے تعلیم دی تھی اور وہ جب اپنے لوگوں میں لوٹے تو اس تعلیم سے انھوں نے لوگوں کو متحد کیا۔مغربی افریقی سماج میں ببر شیر کو بڑی اہمیت حاصل ہے وہاں کے لوگ اپنا شجرہ نسب جانوروں سے جوڑتے ہیں جنکے سب اوپر ببر شیر کو رکھا جاتا ہے۔مغربی و مشرقی افریقی علاقوں کے بعض حصوں میں ببر شیر کو ایک روحانی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس سے صحت یاب ہونے کا عمل جوڑا جاتا ہے۔جبکہ مشرقی حصوں کے بعض ثقافتوں میں ببر شیر کو سُستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔[194]اور بہت سے لوک کہانیوں میں اسے ایک ایسے جانور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے دیگر جانور چکمہ دے جاتے ہیں۔[195]


قدیم مصر میں ببر شیرنی انکی جنگی دیوی شمار ہوتی تھی اور ان دیویوں میں باستت،مافدت،منهیت،پکهت،سخمت،تفنوت اور ابوالہول شامل تھے۔[190]نیمیائی ببر شیر قدیم روم و یونان میں علوم فلکیات کی علامت تھی زوڈیک(آسمان کا ایک خطہ) کی علامت بھی ببر شیر تھی اور دیومالائی داستانوں میں ہرو ہیراکلیس اسکی کھال اٹھائے رکھتا تھا۔[196]

قدیم میسوپوٹیما میں (نیز سمیری،ٗاور بابل تک) ببر کو بادشاہت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔[197] قدیم بابلی ببر شیر موٹف کو بابل کے گلی کوچے کی دیواروں پر بنایا جاتا تھا اسے وہاں کا چالاک چال ڈھال والا ببر شیرکہا جاتا ہے۔اسی ٗمیں ہی دانیالؑ کو ببر شیروں کے زندان میں ڈالا گیا تھا۔[198]

نادہ بھارت میں موجود کھنڈرات میں ایک ببر شیر کا مجسمہ یہ کھنڈرات عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں
حضرت دانیال کو ببر شیروں کے زندان میں ڈالے جانے والاقصہ انجیل کا ایک باب ہے

تلمود کی کتاب کولین] میں ایک پادری جیشوا بن ہانیا کا لکھا ہے جس نے شہنشاہ ہڈرین کو ایک ایسے دیوہیکل ببر شیر کا بتا یا جس کے دونوں کانوں کے درمیان میں موجود فاصلہ 9 کیوبٹ(تقریبا 18 فٹ) تھی۔کہتے ہیں کہ بادشاہ نے پادری سے اسے بلانے کا کہا۔پادری نے کئی حیلوں کے بعد رضامندی ظاہر کی۔روم سے 400 گز کے فاصلے پر جب یہ ببر شیر دھاڑا تو کہتے ہیں کہ وہاں کی تمام حاملہ خاتون اپنی حمل گرا بیٹھی نیز روم کی دیواریں گر گئیں۔جب یہ 300 گز کے فاصلے سے دھاڑا تو رومی مردوں کے اگلے دانت گر گئے اور بادشاہ سلامت بھی اپنے تخت سے گر گئے۔اب اس نے پادری سے التجا کی کہ وہ اسے دوبارہ لوٹا دےپادری نے دعا کی اور وہ واپس لوٹ گیا۔

ہندومت کی کتاب پران میں ایک مخلوق ناراسمہا کا ذکر ہے جو آدھا انسان اور آدھا ببر شیر ہے[199] جو کہ وشنو کے اوتار میں سے ہے اسے انکے مرید لائق عبادت خیال کرتے ہیں[200] اور کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے ایک مرید پراہلاڈا کو انکے جابر والد سے بچایا تھا جو کہ ایک شیطانی بادشاہ ہرنیاکشیہو تھا۔لفظ سنگھ ایک قدیم مستعمل ویدک سنسکرت نام ہے جسکے معنی ببرشیر کے ہیں اسکا استعمال 2000 سال پرانا ہے۔یہ لفظ ہندو راجپوت عسکری قبیلے استعمال کیا کرتے تھے۔1699 میں جب سکھ مت کا آغاز ہوا تو سکھوں نے اپنے روحانی پیشوا گرو گوبند سنگھ کی فرمائش پر اسے اپنا لیا۔بہت سارے ہندو راجپوتوں کے ساتھ ساتھ آج دنیا بھر میں دو کروڑ سکھ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔[201]دنیا بھر کے کئی ممالک بشمول ایشیاء یورپی ممالک کے قومی نشان میں ببر شیر شامل ہیں۔بھارت کا قومی نشان بھی ببر شیر ہے۔[202] ہندوستان کے مزید جنوب میں جانے پر وہاں کی اکثریتی سنہالی آبادی جو کہ سری لنکا میں غالب اکثریت میں ہیں کا نشان بھی ببر شیر ہے۔لفظ سنہالی کے معنی ہی ببر شیر والے لوگ ہیں "یا وہ لوگ جن کی رگوں میں ببر شیر کا خون ہے"[203]نیز سری لنکا کے جھنڈے میں ایک تلوار ہاتھوں میں اٹھائے ببر شیر کی تصویر موجود ہے۔,[204]

ایشیائی ببر شیر کا نشان چینی فنون میں ایک عام چیز ہے۔وہاں فنوں میں یہ علامت 5ویں یا چھٹی صدی ق م میں استعمال ہونا شروع ہوئی لیکن اس نے شہرت اسوقت حاصل کی جب ہان حکمرانوں نے اپنے محلات کے دروازوں پر ببر شیروں کے مجسموں کو حفاظت کے لئے نصب کرنا شروع کیا۔چونکہ چین میں ببر شیر قدرتی طور پر کبھی نہیں پائے گئے اس لئے اس دور میں بنائےجانے والے ببر شیر کسی حد تک غیر حقیقی تھے[205] لیکن بعد میں جب بدھ مت کے فنون نے چین کا رخ کیا تو تقریبا 6صدی میں اس روایات نے تبدیلی محسوس کی۔ببر شیر والا رقص چینی ثقافت کا ایک اہم جز ہے جس میں ناچنے والا ببر شیر کا بھیس بدلتا ہے اور ڈھول شور پر رقص کیا کرتا ہے۔یہ رقص خاص کر نئے چینی سال پر کئے جاتے ہیں۔[206]

ایک چینی محافظ ببر شیر مندر کے دروازے پر, بیجنگ


جزیرائی ملک سنگا پور کا نام دو مالے زبان کے حروف سنگا(ببر شیر) اور پورا(شہر یا قلعہ) سے نکلا ہے جو کہ تامل -سنسکرت சிங்க سنگا पुर புர پورا سے بنے ہیں نیز اس لفظ کے یونانی لفظ πόλις،پولیس کی ابتداء ایک ہی ہے۔[207]مالے کے مورخین کے مطابق یہ نام 14 ویں صدی کے سماٹرا کے شہزادے نے اس جزیرے کو دئے تھے جنھوں نے طوفان کے بعد اس علاقے میں ساحل پر ایک مخلوق کو دیکھا تھا یہ شاید ببر شیر تھا۔[208]


مصر سوڈان اور ارتریا میں بسنے والے بدو قبیلے ہڈنڈوا لوگوں کے نام میں بھی ببر شیر کانام ضرور شامل ہوتا ہے۔

ببر شیر بہت سارے قرون وسطی کے جنگجوں کی عرفیت میں شامل تھی جیسے رچرڈ اول (انگلینڈ) دی لائن ہارٹ،ہنری دا لائن،ولیم دی لائین،اور ہندوستان کے میسور کے راجہ سلطان ٹیپو جنھیں شیر میسور کہتے ہیں۔ببر شیروں کو قومی علامات میں بے حد شامل کیا جاتا ہے جبکہ ببر شیرنی کی علامتوں کا استعال مختلف نظر آتا ہے۔[209] ببر شیروں کے نشان کو کھیلوں کی ٹیموں کو سپورٹ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے ،ان ٹیموں میں انگلینڈ ،سکاٹ لینڈ اور سنگاپور کی مشہور کلبیں شامل ہیں ان میں چیلسی اسٹون ویلا انگلش پریمیر لیگ معروف ہیں۔[210] of [211]

ببر شیر آج کے ادب میں بھی موجود ہے ان میں مشہور کتابیں اسلان ان دی لائن ،دی وچ اینڈ دی وارڈروب اور یہ سلسلہ وار کتابیں جیسے دی کرونیکل آد نارنیا[212] جو کہ سی ایس نارنیا نے لکھی ہیں شامل ہیں،نیز مزاحیہ ادب میں کورڈلی لائن ان دی ونڈر فل وزرڈ آف اوز جیسی کتابیں مشہور ہیں۔[213] متحرک فلموں میں بھی ببر شیر نے اپنی موجودگی منوائی ہے ان میں سب سے مشہور لیو دی لائن ہیں جس نے ایم جی ایم میں 1920 سے اپنی موجود گی برقرار رکھی ہوئی ہے۔[214]1960 میں کینیائی ببر شیرنیلسا ، بورن فری [215] نامی فلم میں نمودار ہوئی غالبا وہ اب تک ہونے والی سب سے مشہور ببر شیر نی ہے یہ فلم ایک حقیقی زندگی کے گرد گھومتی ہے اور یہ کہانی جس کتاب سے لی گئی وہ اسکا عنوان بھی اسی فلم کا نام ہے۔[216] کارٹونوں میں ببر شیر کو بطور درندوں کے سردار کے طور پر پیش کیا جانا پرانی بات ہے ،جاپان کی سب سے پہلی کارٹون ٹی وی پروگرام جو کہ 1950 میں شروع ہوئی کا نام کمبا ویتھ دی وائٹ لائین ہےدیگر مشہور کارٹون میں کنگ لینارڈو اینڈ ہز شورٹ سبجیکٹ(1960) اور ڈزنی کی 1994 میں بننے والی شیر بادشاہ جس میں مشہور گیت دی لائین سلیپ ٹونائٹ بھی شامل ہے پر مشتمل ہے۔[217][218] جنوبی افریقی رانڈ کے 50 والے نوٹ پر ببر شیر کی تصویر موجود ہے۔

والی میسور ٹیپو سلطان اپنے ببر شیر والے تخت پر۔

اہم علامات میں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Wozencraft، W.C. (2005). "Order Carnivora". in Wilson، D.E.; Reeder، D.M. Mammal Species of the World: A Taxonomic and Geographic Reference (3rd ed.). Johns Hopkins University Press. pp.532–628. ISBN 978-0-8018-8221-0. OCLC 62265494. http://www.bucknell.edu/msw3/browse.asp?id=14000228. 
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 2.4 Bauer, H., Nowell, K.; Packer, C. (2008). "Panthera leo". لال فہرست برائے خطرہ زدہ جاندار نسخہ 2010.2. بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت. http://www.iucnredlist.org/apps/redlist/details/15951۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 August 2010. 
  3. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام .D9.84.D9.86.D9.861758 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  4. ^ 4.0 4.1 Linnaeus، Carolus (1758) (Latin میں). Systema naturae per regna tria naturae :secundum classes, ordines, genera, species, cum characteribus, differentiis, synonymis, locis.. 1 (10th ed.). Holmiae (Laurentii Salvii). p.41. http://www.biodiversitylibrary.org/page/726936۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 September 2008. 
  5. ^ 5.0 5.1 5.2 5.3 5.4 Nowak، Ronald M. (1999). Walker's Mammals of the World. Baltimore: Johns Hopkins University Press. ISBN 0-8018-5789-9. 
  6. ^ 6.0 6.1 Harington، C. R. "Dick" (1969). "Pleistocene remains of the lion-like cat (Panthera atrox) from the Yukon Territory and northern Alaska". Canadian Journal of Earth Sciences 6 (5): 1277–88. doi:10.1139/e69-127. 
  7. ^ Smuts، G. L. (1982). Lion. Johannesburg: Macmillan South Africa. p.231. ISBN 0-86954-122-6. 
  8. ^ Lions' nocturnal chorus. Earth-touch.com. Retrieved on 31 July 2013.
  9. ^ African Lion Panthera leo. Phoenix Zoo Fact Sheet.
  10. ^ Liddell، Henry George; Scott، Robert (1980). A Greek-English Lexicon (Abridged Edition). United Kingdom: Oxford University Press. p.411. ISBN 0-19-910207-4. 
  11. ^ Simpson، D. P. (1979). Cassell's Latin Dictionary (5th ed.). London: Cassell Ltd.. p.342. ISBN 0-304-52257-0. 
  12. ^ Simpson, John; Weiner, Edmund، ed (1989). "Lion". Oxford English Dictionary (2nd ed.). Oxford: Clarendon Press. ISBN 0-19-861186-2. 
  13. ^ Yamaguchi، Nobuyuki; Cooper، Alan; Werdelin، Lars; MacDonald، David W. (August 2004). "Evolution of the mane and group-living in the lion (Panthera leo): a review". Journal of Zoology 263 (4): 329–42. doi:10.1017/S0952836904005242. 
  14. ^ Turner، Allen (1997). The big cats and their fossil relatives: an illustrated guide to their evolution and natural history. New York: Columbia University Press. ISBN 0-231-10229-1. 
  15. ^ Harington، C. R. (Dick) (1996). "American Lion". Yukon Beringia Interpretive Centre website. Yukon Beringia Interpretive Centre. http://www.beringia.com/research/lion.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2011. 
  16. ^ 16.0 16.1 16.2 16.3 16.4 16.5 Burger، Joachim; Rosendahl، Wilfried; Loreille، Odile; Hemmer، Helmut; Eriksson، Torsten; Götherström، Anders; Hiller، Jennifer; Collins، Matthew J. et al۔ (2004). "Molecular phylogeny of the extinct cave lion Panthera leo spelaea". Molecular Phylogenetics and Evolution 30 (3): 841–49. doi:10.1016/j.ympev.2003.07.020. PMID 15012963. http://www.uni-mainz.de/FB/Biologie/Anthropologie/MolA/Download/Burger%202004.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 September 2007. 
  17. ^ 17.0 17.1 17.2 17.3 17.4 17.5 Grisham, Jack (2001). "Lion". in Bell، Catherine E. Encyclopedia of the World's Zoos. 2: G–P. Chofago: Fitzroy Dearborn. pp. 733–39. ISBN 1-57958-174-9. 
  18. ^ 18.0 18.1 18.2 18.3 Barnett، Ross; Yamaguchi, Nobuyuki; Barnes, Ian; Cooper, Alan (August 2006). "Lost populations and preserving genetic diversity in the lion Panthera leo: Implications for its ex situ conservation". Conservation Genetics 7 (4): 507–14. doi:10.1007/s10592-005-9062-0. 
  19. ^ Bertola، L. D.; Van Hooft، W. F.; Vrieling، K.; Uit De Weerd، D. R.; York، D. S.; Bauer، H.; Prins، H. H. T.; Funston، P. J. et al۔ (2011). "Genetic diversity, evolutionary history and implications for conservation of the lion (Panthera leo) in West and Central Africa". Journal of Biogeography 38 (7): 1356–67. doi:10.1111/j.1365-2699.2011.02500.x. 
  20. ^ Dubach، Jean (January 2005). "Molecular genetic variation across the southern and eastern geographic ranges of the African lion, Panthera leo". Conservation Genetics 6 (1): 15–24. doi:10.1007/s10592-004-7729-6. 
  21. ^ Barnett، Ross; Yamaguchi، Nobuyuki; Barnes، Ian; Cooper، Alan (2006). "The origin, current diversity and future conservation of the modern lion (Panthera leo)" (PDF). Proceedings of the Royal Society B: Biological Sciences 273 (1598): 2119–25. doi:10.1098/rspb.2006.3555. PMID 16901830. PMC 1635511. http://www.adelaide.edu.au/acad/publications/papers/Barnett%20PRS%20lions.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 September 2007. 
  22. ^ Christiansen، Per (2008). "On the distinctiveness of the Cape lion (Panthera leo melanochaita Smith, 1842), and a possible new specimen from the Zoological Museum, Copenhagen". Mammalian Biology 73 (1): 58–65. doi:10.1016/j.mambio.2007.06.003. 
  23. ^ "IUCN Cat Specialist Group". http://www.catsg.org/index.php?id=108. 
  24. ^ "Endangered and Threatened Wildlife and Plants; Listing Two Lion Subspecies". Federal Register (Federal government of the United States). December 23, 2015. 80 FR 79999. https://www.gpo.gov/fdsys/pkg/FR-2015-12-23/pdf/2015-31958.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ December 26, 2015. 
  25. ^ Barnett، Ross; Yamaguchi، Nobuyuki; Shapiro، Beth; Nijman، Vincent (2007). "Using ancient DNA techniques to identify the origin of unprovenanced museum specimens, as illustrated by the identification of a 19th century lion from Amsterdam". Contributions to Zoology 76 (2): 87–94. http://dpc.uba.uva.nl/cgi/t/text/get-pdf?c=ctz;idno=7602a02. 
  26. ^ 26.0 26.1 26.2 Nowell، Kristin; Jackson، Peter (1996). "Panthera Leo" (PDF). Wild Cats: Status Survey اور Conservation Action Plan. Glاور, Switzerlاور: IUCN/SSC Cat Specialist Group. pp.17–21, 37–41. ISBN 2-8317-0045-0. http://carnivoractionplans1.free.fr/wildcats.pdf. 
  27. ^ Black، S. A.; Fellous، A.; Yamaguchi، N.; Roberts، D. L. (2013). "Examining the Extinction of the Barbary Lion اور Its Implications for Felid Conservation". PLoS ONE 8 (4): e60174. doi:10.1371/journal.pone.0060174. Bibcode2013PLoSO...860174B. 
  28. ^ Yadav، P. R. (2004). Vanishing اور Endangered Species. Discovery Publishing House. pp.176–78. ISBN 81-7141-776-0. https://books.google.com/?id=ecgil9AfV1QC&pg=PA178۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 December 2010. 
  29. ^ Burger، Joachim; Hemmer، Helmut (2006). "Urgent call for further breeding of the relic zoo population of the critically endangered Barbary lion (Panthera leo leo Linnaeus 1758)". European Journal of Wildlife Research 52: 54. doi:10.1007/s10344-005-0009-z. http://www.uni-mainz.de/FB/Biologie/Anthropologie/MolA/Download/Burger%20Hemmer%202006.pdf. 
  30. ^ Black، Simon; Yamaguchi، Nobuyuki; Harlاور، Adrian; Groombridge، Jim (2010). "Maintaining the genetic health of putative Barbary lions in captivity: an analysis of Moroccan Royal Lions". European Journal of Wildlife Research 56: 21–31. doi:10.1007/s10344-009-0280-5. 
  31. ^ 31.0 31.1 "Asiatic Lion—History". Asiatic Lion Information Centre. Wildlife Conservation Trust of India. 2006. http://www.asiaticlion.org/asiatic-lion-history.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 September 2007. 
  32. ^ 32.0 32.1 32.2 Singh, H. S.; Gibson, L. (2011). "A conservation success story in the otherwise dire megafauna extinction crisis: The Asiatic lion (Panthera leo persica) of Gir forest". Biological Conservation 144 (5): 1753–1757. doi:10.1016/j.biocon.2011.02.009. 
  33. ^ 33.0 33.1 Sunquist, M. E. اور Sunquist, F. C. (2009). Family Felidae (Cats). In: Don E. Wilson, Russell A. Mittermeier (eds.): Hاورbook of the Mammals of the World. Volume 1: Carnivores. Lynx Edicions, 2009, ISBN 978-84-96553-49-1, pp. 137 ff.
  34. ^ 34.0 34.1 34.2 34.3 Macdonald، David Wayne (2006). The Encyclopedia of Mammals. pp.628–635. ISBN 0-87196-871-1. 
  35. ^ "A New, Genetically Distinct Lion Population is Found". News Watch. National Geographic Society. 30 November 2012. http://newswatch.nationalgeographic.com/2012/11/30/a-new-genetically-distinct-lion-population-is-found/۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 January 2013. "The Addis Ababa zoo lions have dark manes اور small bodies, unlike other African lions. But life in captivity can sometimes influence appearance. A team of researchers, led by the Max Planck Institute for Evolutionary Anthropology in Germany اور the University of York in the UK, checked to see if the lions really are different by comparing DNA samples of 15 lions from the zoo to six populations of wild lions. Their genetic analysis revealed that the gene sequence of all fifteen lions were unique اور showed little sign of inbreeding. The study was recently published in the European Journal of Wildlife Research." 
  36. ^ Bruche، Susann; Gusset, Markus; Lippold, Sebastian; Barnett, Ross; Eulenberger, Klaus; Junhold, Jörg; Driscoll, Carlos A.; Hofreiter, Michael (2012). "A genetically distinct lion (Panthera leo) population from Ethiopia". European Journal of Wildlife Research 59 (2): 215–225. doi:10.1007/s10344-012-0668-5. 
  37. ^ Probst، Ernst (1999) (German میں). Deutschland in der Urzeit. Orbis. ISBN 3-572-01057-8. 
  38. ^ 38.0 38.1 Packer، Craig; Jean Clottes (November 2000). "When Lions Ruled France". Natural History: 52–57. 
  39. ^ 39.0 39.1 Koenigswald، Wighart von (2002) (de میں). Lebendige Eiszeit: Klima und Tierwelt im Wandel. Stuttgart: Theiss. ISBN 3-8062-1734-3. 
  40. ^ 40.0 40.1 Barnett، Ross; Shapiro، Beth; Barnes، Ian; Ho، Simon Y.W.; Burger، Joachim; Yamaguchi، Nobuyuki; Higham، Thomas FG; Wheeler، H Todd et al۔ (April 2009). "Phylogeography of lions (Panthera leo ssp.) reveals three distinct taxa and a late Pleistocene reduction in genetic diversity". Molecular Ecology 18 (8): 1668–77. doi:10.1111/j.1365-294X.2009.04134.x. PMID 19302360. http://www.uni-mainz.de/FB/Biologie/Anthropologie/MolA/Download/Barnett%20et%20al.%202009.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 November 2011. 
  41. ^ Martin، Paul S. (1984). Quaternary Extinctions. Tucson, AZ: University of Arizona Press. ISBN 0-8165-1100-4. https://books.google.com/?id=O8SgPwAACAAJ. 
  42. ^ Manamendra-Arachchi، Kelum; Pethiyagoda، Rohan; Dissanayake، Rajith; Meegaskumbura، Madhava (2005). "A second extinct big cat from the late Quaternary of Sri Lanka" (PDF). The Raffles Bulletin of Zoology (National University of Singapore) Supplement 12: 423–34. http://rmbr.nus.edu.sg/rbz/biblio/s12/s12rbz423-434.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 July 2007. 
  43. ^ Ashrafian، Hutan (2011). "An Extinct Mesopotamian Lion Subspecies". Veterinary Heritage 34 (2): 47–49. 
  44. ^ Shuker، Karl P. N. (1989). Mystery Cats of the World. Robert Hale. ISBN 0-7090-3706-6. 
  45. ^ Guggisberg، Charles Albert Walter (1975). Wild Cats of the World. New York: Taplinger Publishing. ISBN 0-8008-8324-1. 
  46. ^ Doi، H; Reynolds، B (1967). The Story of Leopons. New York: Putnam. OCLC 469041. 
  47. ^ Rafferty، John P. (2011). Carnivores. The Rosen Publishing Group. p.120. ISBN 9781615303403. https://books.google.com/books?id=EMui7zVOqeUC&pg=PA120&dq=liger+lion+tigress&hl=en&sa=X&ei=56G2U6vSHou3yATBr4DoCw&ved=0CCIQ6AEwAQ#v=onepage&q=liger%20lion%20tigress&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 July 2014. 
  48. ^ 48.0 48.1 Shi، Wei (2005). Growth and Behviour: Epigenetic and Genetic Factors Involved in Hybrid Dysgenesis. 11. Uppsala: Acta Universitatis Upsaliensis. p.9. ISBN 91-554-6147-6. http://urn.kb.se/resolve?urn=urn:nbn:se:uu:diva-4784. 
  49. ^ "Tigon—Encyclopædia Britannica Article". http://www.britannica.com/EBchecked/topic/595552/tigon۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2011. 
  50. ^ Heptner، V. G.; Sludskii، A. A. (1992). Mammals of the Soviet Union, Volume II, Part 2. Leiden u.a.: Brill. ISBN 90-04-08876-8. 
  51. ^ Schaller, p. 28.
  52. ^ Smuts، G. L.; Robinson, G.A.; Whyte, I.J. (1980). "Comparative growth of wild male and female lions (Panthera leo)". Journal of Zoology 190 (3): 365–373. doi:10.1111/j.1469-7998.1980.tb01433.x. http://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1111/j.1469-7998.1980.tb01433.x/abstract. 
  53. ^ Mazák, Vratislav (April 2004) Der Tiger, Westarp Wissenschaften, 5th ed., pp. 178 ff., ISBN 3-89432-759-6.
  54. ^ Wood, The Guinness Book of Animal Facts and Feats. Sterling Pub Co Inc (1983), ISBN 978-0-85112-235-9
  55. ^ Readhead, Harry (23 December 2015). "Scientists discover 'genderfluid' lioness who looks, acts and roars like a male". http://metro.co.uk/2015/12/23/scientists-discover-genderfluid-lioness-who-looks-acts-and-roars-like-a-male-5582846/۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 December 2015. 
  56. ^ Trivedi، Bijal P. (2005). "Are Maneless Tsavo Lions Prone to Male Pattern Baldness?". National Geographic. http://news.nationalgeographic.com/news/2002/04/0412_020412_TVtsavolions.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 July 2007. 
  57. ^ Trivedi، Bijal P. (22 August 2002). "Female Lions Prefer Dark-Maned Males, Study Finds". National Geographic News. National Geographic. http://news.nationalgeographic.com/news/2002/08/0822_020822_TVlion.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 September 2007. 
  58. ^ 58.0 58.1 West، Peyton M.; Packer, Craig (August 2002). "Sexual Selection, Temperature, and the Lion's Mane". Science 297 (5585): 1339–43. doi:10.1126/science.1073257. PMID 12193785. 
  59. ^ 59.0 59.1 Yamaguchi، Nobuyuki; Haddane, B. (2002). "The North African Barbary Lion and the Atlas Lion Project". International Zoo News 49: 465–81. 
  60. ^ Menon، Vivek (2003). A Field Guide to Indian Mammals. Delhi: Dorling Kindersley India. ISBN 0-14-302998-3. 
  61. ^ Schoe, Marjolein; Sogbohossou, Etotépé A.; Kaandorp, Jacques and de Iongh, Hans (2010) Progress Report – collaring operation Pendjari Lion Project, Benin. Funded by the Dutch Zoo Conservation Fund.
  62. ^ Munson، Linda (3 March 2006). "Contraception in felids". Theriogenology 66 (1): 126–34. doi:10.1016/j.theriogenology.2006.03.06. PMID 16626799. 
  63. ^ McBride، Chris (1977). The White Lions of Timbavati. Johannesburg: E. Stanton. ISBN 0-949997-32-3. 
  64. ^ Tucker، Linda (2003). Mystery of the White Lions—Children of the Sun God. Mapumulanga: Npenvu Press. ISBN 0-620-31409-5. 
  65. ^ Schaller, p. 122.
  66. ^ Schaller, pp. 120–21.
  67. ^ 67.0 67.1 67.2 Schaller, p. 33.
  68. ^ Schaller, p. 37.
  69. ^ Schaller, p. 39.
  70. ^ 70.0 70.1 70.2 Schaller, p. 44.
  71. ^ Milius، Susan (April 2002). "Biology: Maneless lions live one guy per pride". Society for Science & the Public 161 (16): 253. doi:10.1002/scin.5591611614. 
  72. ^ Schaller, p. 133.
  73. ^ Join the Pride. Lion Conservation Fund. Retrieved on 31 July 2013.
  74. ^ Heinsohn، R.; C. Packer (1995). "Complex cooperative strategies in group-territorial African lions". Science 269 (5228): 1260–62. doi:10.1126/science.7652573. PMID 7652573. 
  75. ^ Morell، V. (1995). "Cowardly lions confound cooperation theory". Science 269 (5228): 1216–17. doi:10.1126/science.7652566. PMID 7652566. 
  76. ^ Jahn، Gary C. (1996). "Lioness Leadership". Science 271 (5253): 1215. doi:10.1126/science.271.5253.1215a. PMID 17820922. 
  77. ^ 77.0 77.1 Schaller, p. 213.
  78. ^ >"Behavior and Diet". African Wildlife Foundation website. African Wildlife Foundation. 1996. http://www.awf.org/wildlife-conservation/lion۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 June 2014. 
  79. ^ Mills، Gus. "About lions—Ecology and behaviour". African Lion Working Group. http://www.african-lion.org/lions_e.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 July 2007. 
  80. ^ Schaller, p. 248.
  81. ^ Schaller, pp. 247–48.
  82. ^ Schaller, p. 237.
  83. ^ Schaller, p. 259.
  84. ^ Radloff, Frans G. T.; Du Toit, Johan T. (2004). "Large predators and their prey in a southern African savanna: a predator's size determines its prey size range". Journal of Animal Ecology 73: 410–423. doi:10.1111/j.0021-8790.2004.00817.x. 
  85. ^ Denis-Huot، Christine; Denis-Huot، Michel (2002). The Art of Being a Lion. Friedman/Fairfax. p.186. ISBN 88-8095-752-X. 
  86. ^ 86.0 86.1 Pienaar، U. de V. (1969). "Predator-prey relationships among the larger mammals of the Kruger National Park". Koedoe 12 (1). doi:10.4102/koedoe.v12i1.753. http://www.koedoe.co.za/index.php/koedoe/article/view/753. 
  87. ^ Douglas-Hamilton، Iain; Douglas-Hamilton، Oria (1975). Among the Elephants. 
  88. ^ Hayward، Matt W.; Kerley، Graham (2005). "Prey preferences of the lion (Panthera leo)". Journal of Zoology 267 (3): 309–22. doi:10.1017/S0952836905007508. 
  89. ^ Power، R. J.; Shem Compion، R. X. (2009). "Lion predation on elephants in the Savuti, Chobe National Park, Botswana". African Zoology 44 (1): 36–44. doi:10.3377/004.044.0104. 
  90. ^ Hayward، Matt W. (2006). "Prey preferences of the spotted hyaena (Crocuta crocuta) and degree of dietary overlap with the lion (Panthera leo)" (PDF). Journal of Zoology 270: 606–14. doi:10.1111/j.1469-7998.2006.00183. http://www.zbs.bialowieza.pl/g2/pdf/1598.pdf. 
  91. ^ 91.0 91.1 Kruuk، Hans (1972). "Interactions between Hyenas and other Carnivorous Animals". The Spotted Hyena: A Study of Predation and Social Behaviour. Chicago: The University of Chicago Press. ISBN 0-226-45508-4. 
  92. ^ Gittleman، John L.; Funk، Stephan M.; Macdonald، David W. et al۔، eds (2001). Carnivore Conservation (1 ed.). Cambridge University Press. ISBN 978-0-521-66232-1. 
  93. ^ Schaller, p. 272.
  94. ^ Schaller, pp. 273–274.
  95. ^ Joubert, Dereck and Joubert, Beverley. Eternal Enemies: Lions and Hyenas. [DVD]. National Geographic. 
  96. ^ Trinkel، Martina; Kastberger، Gerald (2005). "Competitive interactions between spotted hyenas and lions in the Etosha National Park, Namibia". African Journal of Ecology 43 (3): 220–24. doi:10.1111/j.1365-2028.2005.00574.x. 
  97. ^ O'Brien، Stephen J; Wildt، David E; Bush، Mitchell (1986). "The Cheetah in Genetic Peril" (PDF). Scientific American (254): 68–76. http://www.catsg.org/cheetah/05_library/5_3_publications/N_and_O/OBrien_et_al_1986_Cheetah_in_genetic_peril.pdf. 
  98. ^ Schaller, p. 293.
  99. ^ Woodroffe، Rosie; Ginsberg، Joshua R (1999). "Conserving the African wild dog Lycaon pictus. I. Diagnosing and treating causes of decline". Oryx 33 (2): 132–42. doi:10.1046/j.1365-3008.1999.00052.x. 
  100. ^ Schaller, p. 188.
  101. ^ "Crocodiles!". Nova. PBS. 28 April 1998. http://www.pbs.org/wgbh/nova/transcripts/2509crocs.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 November 2010. 
  102. ^ Guggisberg، Charles Albert Walter (1972). Crocodiles: Their Natural History, Folklore, and Conservation. Newton Abbot: David & Charles. p.195. ISBN 0-7153-5272-5. https://books.google.com/?id=92NuQgAACAAJ. 
  103. ^ Patterson، Bruce D. (2004). The Lions of Tsavo: Exploring the Legacy of Africa's Notorious Man-Eaters. McGraw-Hill. ISBN 0-07-136333-5. 
  104. ^ Patterson، Bruce D.; Neiburger, Ellis J.; Kasiki, Samuel M. (February 2003). "Tooth Breakage and Dental Disease as Causes of Carnivore–Human Conflicts". Journal of Mammalogy 84 (1): 190–96. doi:10.1644/1545-1542(2003)084<0190:TBADDA>2.0.CO;2. 
  105. ^ Peterhans، Julian C. Kerbis; Thomas Patrick Gnoske (2001). "The Science of Man-eating". Journal of East African Natural History 90 (1&2): 1–40. doi:10.2982/0012-8317(2001)90[1:TSOMAL]2.0.CO;2. http://www.man-eater.info/gpage6.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 July 2007. 
  106. ^ 106.0 106.1 Packer، C.; Ikanda, D.; Kissui, B.; Kushnir, H. (August 2005). "Conservation biology: lion attacks on humans in Tanzania". Nature 436 (7053): 927–28. doi:10.1038/436927a. PMID 16107828. 
  107. ^ Packer، C; Swanson A; Ikanda D; Kushnir H (July 2011). Rands، Sean A.. ed. "Fear of Darkness, the Full Moon and the Nocturnal Ecology of African Lions". PLoS ONE 6 (7): e22285. doi:10.1371/journal.pone.0022285. 
  108. ^ Frump، RR (2006). The Man-Eaters of Eden: Life and Death in Kruger National Park. The Lyons Press. ISBN 1-59228-892-8. 
  109. ^ Dickinson، Daniel (19 October 2004). "Toothache 'made lion eat humans'". BBC News. http://news.bbc.co.uk/2/hi/africa/3756180.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2011. 
  110. ^ Baldus، R (March 2006). "A man-eating lion (Panthera leo) from Tanzania with a toothache". European Journal of Wildlife Research 52 (1): 59–62. doi:10.1007/s10344-005-0008-0. 
  111. ^ Rushby، George G. (1965). No More the Tusker. London: W. H. Allen. 
  112. ^ Schaller, p. 29.
  113. ^ 113.0 113.1 Schaller, p. 174.
  114. ^ Asdell، Sydney A. (1993) [1964]. Patterns of mammalian reproduction. Ithaca: Cornell University Press. ISBN 978-0-8014-1753-5. 
  115. ^ Schaller, p. 142.
  116. ^ 116.0 116.1 116.2 Scott, p. 45.
  117. ^ Schaller, p. 143.
  118. ^ 118.0 118.1 Packer، C.; Pusey، A. E. (May 1983). "Adaptations of female lions to infanticide by incoming males". American Naturalist 121 (5): 716–28. doi:10.1086/284097. 
  119. ^ Macdonald، David (1984). The Encyclopedia of Mammals. New York: Facts on File. p.31. ISBN 0-87196-871-1. 
  120. ^ Scott, p. 46.
  121. ^ Crandall، Lee S. (1964). The management of wild animals in captivity. Chicago: University of Chicago Press. OCLC 557916. 
  122. ^ Scott, p. 68.
  123. ^ Bagemihl، Bruce (1999). Biological Exuberance: Animal Homosexuality and Natural Diversity. New York: St. Martin's Press. pp.302–05. ISBN 0-312-19239-8. 
  124. ^ Schaller, p. 183.
  125. ^ Schaller, pp. 188–89.
  126. ^ Schaller, pp. 189–90.
  127. ^ Schaller, p. 184.
  128. ^ Yeoman، Guy Henry; Walker, Jane Brotherton (1967). The ixodid ticks of Tanzania. London: Commonwealth Institute of Entomology. OCLC 955970. 
  129. ^ Sachs، R (1969). "Untersuchungen zur Artbestimmung und Differenzierung der Muskelfinnen ostafrikanischer Wildtiere [Differentiation and species determination of muscle-cysticerci in East African game animals]" (de میں). Zeitschrift für tropenmedizin und Parasitologie 20 (1): 39–50. PMID 5393325. 
  130. ^ Fosbrooke، Henry (1963). "The stomoxys plague in Ngorongoro". East African Wildlife Journal 1 (6): 124–26. doi:10.1111/j.1365-2028.1963.tb00190.x. 
  131. ^ Nkwame، Valentine M (9 September 2006). "King of the jungle in jeopardy". The Arusha Times. http://www.arushatimes.co.tz/2006/36/features_10.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 September 2007. 
  132. ^ Roelke-Parker، M. E.; Munson، Linda; Packer، Craig; Kock، Richard; Cleaveland، Sarah; Carpenter، Margaret; O'Brien، Stephen J.; Pospischil، Andreas et al۔ (February 1996). "A canine distemper epidemic in Serengeti lions (Panthera leo)". Nature 379 (6564): 441–45. doi:10.1038/379441a0. PMID 8559247. 
  133. ^ Schaller, p. 85.
  134. ^ Sparks، J (1967). "Allogrooming in primates:a review". in Desmond Morris. Primate Ethology. Chicago: Aldine. ISBN 0-297-74828-9.  (2007 edition: 0-202-30826-X)
  135. ^ Leyhausen، Paul (1960) (de میں). Verhaltensstudien an Katzen (2nd ed.). Berlin: Paul Parey. ISBN 3-489-71836-4. 
  136. ^ Schaller, pp. 85–88.
  137. ^ Schaller, pp. 88–91.
  138. ^ Schaller, pp. 92–102.
  139. ^ Ananthakrishnan، G.; Eklund، Robert; Peters، Gustav; Mabiza، Evans (2011). "An acoustic analysis of lion roars. II: Vocal tract characteristics". Speech, Music and Hearing Quarterly Progress and Status Report TMH-QPSR 51: 5. http://roberteklund.info/pdf/Ananthakrishnan_et_al_2011_LionRoars.pdf. 
  140. ^ Eklund، Robert; Peters، Gustav;; Ananthakrishnan، G; Mabiza، Evans (2011). "An acoustic analysis of lion roars. I: Data collection and spectrogram and waveform analyses". Speech, Music and Hearing Quarterly Progress and Status Report TMH-QPSR 51: 1. http://roberteklund.info/pdf/Eklund_et_al_2011_LionRoars.pdf. 
  141. ^ Schaller, pp. 103–113.
  142. ^ Miller، Brian (2000). Endangered animals: a reference guide to conflicting issues. Greenwood Publishing Group. ISBN 0-313-30816-0. 
  143. ^ Rudnai، Judith A. (1973). The social life of the lion. Wallingford: s.n.. ISBN 0-85200-053-7. 
  144. ^ "The Gir—Floristic". Asiatic Lion Information Centre. Wildlife Conservation Trust of India. 2006. http://www.asiaticlion.org/gir-floristic.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 September 2007. 
  145. ^ 145.0 145.1 Schaller, p. 5.
  146. ^ Heptner، V. G.; A. A. Sludskii (1989). Mammals of the Soviet Union: Volume 1, Part 2: Carnivora (Hyaenas and Cats). New York: Amerind. ISBN 90-04-08876-8. 
  147. ^ "Past and present distribution of the lion in North Africa and Southwest Asia.". Asiatic Lion Information Centre. 2001. Archived on 10 May 2008. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20080510060942/http://www.asiatic-lion.org/distrib.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 June 2006. 
  148. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام simba کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  149. ^ "Asiatic Lion—Population". Asiatic Lion Information Centre. Wildlife Conservation Trust of India. 2006. http://www.asiaticlion.org/population-gir-forests.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 September 2007. 
  150. ^ Desai، Darshan (23 June 2003). "The Mane Don't Fit". Outlook India Magazine. Outlookindia.com. http://www.outlookindia.com/article.aspx?220509۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 November 2010. 
  151. ^ Bauer، H.; Van Der Merwe، S. (2002). "The African lion database". Cat news 36: 41–53. 
  152. ^ Chardonnet، P. (2002). Conservation of African lion. Paris, France: International Foundation for the Conservation of Wildlife. http://conservationforce.org/pdf/conservationoftheafricanlion.pdf. 
  153. ^ "AWF Wildlife: Lion". African Wildlife Foundation. http://www.awf.org/content/wildlife/detail/lion۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2007. 
  154. ^ "NATURE. The Vanishing Lions". PBS. http://www.pbs.org/wnet/nature/episodes/the-vanishing-lions/introduction/545/۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2011. 
  155. ^ سانچہ:IUCN2010.4
  156. ^ Tumenta، P. N.; Kok، J. S.; van Rijssel، J. C.; Buij، R.; Croes، B. M.; Funston، P. J.; de Iongh، H. H.; de Haes، H. A. Udo (2009). "Threat of rapid extermination of the lion (Panthera leo leo) in Waza National Park, Northern Cameroon". African Journal of Ecology 48 (4): 1–7. doi:10.1111/j.1365-2028.2009.01181.x. 
  157. ^ "Winning with lions". The East African Magazine. http://www.theeastafrican.co.ke/magazine/-/434746/657312/-/15kjo9jz/-/index.html. 
  158. ^ Roach، John (16 July 2003). "Lions Vs. Farmers: Peace Possible?". National Geographic News. National Geographic. http://news.nationalgeographic.com/news/2003/07/0716_030716_lions.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 September 2007. 
  159. ^ Saberwal، Vasant K.; Gibbs، James P.; Chellam، Ravi; Johnsingh، A. J. T. (1 June 1994). "Lion‐Human Conflict in the Gir Forest, India". Conservation Biology (Blackwell Science Inc) 8 (2): 501–7. doi:10.1046/j.1523-1739.1994.08020501.x. ISSN 1523-1739. http://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1046/j.1523-1739.1994.08020501.x/abstract;jsessionid=FF3227E78A0339404CEBBA045818D361.f04t04۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 May 2014. 
  160. ^ Johnsingh، A. J. T. (2004). "WII in the Field: Is Kuno Wildlife Sanctuary ready to play second home to Asiatic lions?". Wildlife Institute of India Newsletter 11 (4). http://www.wii.gov.in/publications/newsletter/winter04/wii%20in%20field.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 November 2010. 
  161. ^ "Barbary Lion News". Archived on 17 December 2005. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20051217091555/http://www.bigcatrescue.org/barbary_lion_news.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 September 2007. 
  162. ^ de Courcy, p. 81
  163. ^ Dollinger، P; Geser، S. "Lion: In the Zoo (subpage)". Visit the Zoo. WAZA (World Association of Zoos and Aquariums). http://www.waza.org/en/zoo/visit-the-zoo/cats-1254385523/panthera-leo۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 April 2011. 
  164. ^ Aguiar، Eloise (August 2007). "Honolulu zoo's old lion roars no more". Honolulu Advertiser. http://the.honoluluadvertiser.com/article/2007/Aug/08/ln/hawaii708080394.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 September 2007. 
  165. ^ Frankham، Richard; Ballou، Jonathan; Briscoe، David (2009). Introduction to Conservation Genetics. Cambridge, England: Cambridge University Press. p.437. ISBN 0-521-70271-2. https://books.google.com/?id=vLZKnsCk89wC&pg=PA437۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 September 2010. 
  166. ^ Avise، J. C.; Hamrick، J. L. (31 January 1996). Conservation Genetics. Springer Science & Business Media. p.67. ISBN 9780412055812. "Furthermore, when Asiatic lions were inadvertently bred to African lion subspecies in North America, the fecundity, reproductive success, and spermatozoal development improved dramatically (Box 3.3; O'Brien et al., 1987b)." 
  167. ^ Smith، Vincent Arthur (1924). The Early History of India. Oxford: Clarendon Press. p.97. 
  168. ^ Wiedemann، Thomas (1995). Emperors and Gladiators. Routledge. p.60. ISBN 0-415-12164-7. 
  169. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, p. 17.
  170. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, pp. 19–21, 42.
  171. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, p. 20.
  172. ^ Owen، James (3 November 2005). "Medieval Lion Skulls Reveal Secrets of Tower of London "Zoo"". National Geographic Magazine. National Geographic. http://news.nationalgeographic.com/news/2005/11/1103_051103_tower_lions.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 September 2007. 
  173. ^ Blunt, p. 15.
  174. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, pp. 24–28.
  175. ^ Blunt, p. 16.
  176. ^ 176.0 176.1 Blunt, p. 17.
  177. ^ de Courcy, pp. 8–9.
  178. ^ Blunt, p. 32.
  179. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, p. 122.
  180. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, pp. 114, 117.
  181. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, p. 113.
  182. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, pp. 173, 180–83.
  183. ^ de Courcy, p. 69.
  184. ^ Hone، William (2004) [1825–1826]. "July". in Kyle Grimes. The Every-Day Book. University of Alabama at Birmingham. p.26. http://www.uab.edu/english/hone/etexts/edb/day-pages/207-july26.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 January 2011. 
  185. ^ Blaisdell، Warren H. (November 1997). "How A Lion Fight Caused England To Stop The Breeding Of Both Ring And Pit Bulldogs". American Bulldog Review 3 (4). http://www.american-bulldog.com/how_a_lion.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 September 2007. 
  186. ^ Baratay & Hardouin-Fugier, p. 187.
  187. ^ Feldman، David (1993). How Does Aspirin Find a Headache?. HarperCollins. ISBN 0-06-016923-0. 
  188. ^ Lions Save African Girl From Abductors | Fox News
  189. ^ BBC NEWS | Africa | Kidnapped girl 'rescued' by lions
  190. ^ 190.0 190.1 Garai، Jana (1973). The Book of Symbols. New York: Simon & Schuster. ISBN 0-671-21773-9. 
  191. ^ Aesop (2002). Gibbs، L. ed. Fables. Oxford World's Classics. Oxford: Oxford University Press. ISBN 0-19-284050-9. 
  192. ^ Martin Bailey Ice Age Lion Man is world’s earliest figurative sculpture The Art Newspaper, 31 January 2013, accessed 1 February 2013. Archived 8 مئی 2013 at the وے بیک مشین
  193. ^ Züchner, Christian (September 1998). Grotte Chauvet Archaeologically Dated. International Rock Art Congress IRAC ’98, Vila Real, Portugal. Retrieved 6 November 2010. 
  194. ^ Hogarth, C.; Butler, N. (2004). "Animal Symbolism (Africa)". in Walter, M. N.. Shamanism: An Encyclopedia of World Beliefs, Practices, and Culture, Volume 1. pp.3–6. ISBN 1-57607-645-8. 
  195. ^ Lynch, P. A. (2004). African Mythology A to Z. Infobase Publishing. p.63. ISBN 0-8160-4892-4. 
  196. ^ Graves، R (1955). "The First Labour: The Nemean Lion". Greek Myths. London: Penguin. pp.465–69. ISBN 0-14-001026-2. 
  197. ^ Cassin، Elena (1981). "Le roi et le lion" (French میں) (PDF). Revue de l'histoire des religions 298 (198–4): 355–401. doi:10.3406/rhr.1981.4828. http://www.persee.fr/web/revues/home/prescript/article/rhr_0035-1423_1981_num_198_4_4828۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 December 2009. 
  198. ^ Daniel 6
  199. ^ "Bhag-P". Srimadbhagavatam. 7.8.19–22. http://srimadbhagavatam.com/7/8/19-22/en1۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 November 2010. 
  200. ^ Bhag-P. Srimadbhagavatam. 1.3.18. http://srimadbhagavatam.com/1/3/18/en1. "In the fourteenth incarnation, the Lord appeared as Nrisimha and bifurcated the strong body of the atheist Hiranyakasipu with His nails, just as a carpenter pierces cane.". 
  201. ^ Singh، Khushwant (2004). A History of the Sikhs: 1469–1838. I. Oxford University Press. ISBN 0-19-567308-5. 
  202. ^ "Know India: State Emblem". National Portal of India. National Informatics Centre. 2005. Archived on 22 August 2007. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20070822111444/http://india.gov.in/knowindia/state_emblem.php۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 August 2007. 
  203. ^ "Article 6: The National Flag". Constitution. Government of Sri Lanka. 1978. http://www.priu.gov.lk/Cons/1978Constitution/Schedle_2_Amd.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2007. 
  204. ^ "National Flag". Government of Sri Lanka. Archived on 27 March 2008. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20080327112704/http://www.gov.lk/info/index.asp?mi=19&xp=52&xi=54&xl=3&o=0&t=۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2007. 
  205. ^ Ling، Li (May 2002). "The Two-Way Process in the Age of Globalization". Ex/Change (City University of Hong Kong) (4). Archived from the original on 6 April 2005. https://web.archive.org/web/20050406143133/http://www.cityu.edu.hk/ccs/Newsletter/newsletter4/Lion/Lion.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 September 2007. 
  206. ^ Lion Dance Club. MIT. http://scripts.mit.edu/~lion-dance/about.php. 
  207. ^ "Singapore". The American Heritage Dictionary of the English Language. Bartleby. 2000. Archived on 29 June 2008. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20080629044446/http://www.bartleby.com/61/46/S0424600.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 April 2006. 
  208. ^ "Early History". Singapore: Ministry of Information, Communications and the Arts. Archived on 12 April 2010. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=، you must also specify |archiveurl= . https://web.archive.org/web/20100412092432/http://app.www.sg/who/30/Early-Names.aspx۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 November 2010. 
  209. ^ "Arms of Margaret Norrie McCain". The Public Register of Arms, Flags and Badges. CA. http://archive.gg.ca/heraldry/pub-reg/project-pic.asp?lang=e&ProjectID=538&ProjectElementID=1883۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 June 2010. 
  210. ^ "Detroit Lions". 2001. http://www.detroitlions.com/index.cfm?homelink=y۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2007. 
  211. ^ "Chelsea centenary crest unveiled". BBC. 12 November 2004. http://news.bbc.co.uk/sport1/hi/football/teams/c/chelsea/4008257.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 January 2007. 
  212. ^ Lewis، Clive Staples (1950). The Lion, the Witch and the Wardrobe. HarperCollins. ISBN 0-06-023481-4. 
  213. ^ Baum، L. Frank; Hearn، Michael Patrick (1973). The Annotated Wizard of Oz. New York, NY: Clarkson N. Potter. p.148. ISBN 0-517-50086-8. 
  214. ^ "Advertising Mascots—Animals—Leo the MGM Lion (MGM Studios)". TV Acres. http://www.tvacres.com/adanimals_leolion.htm. 
  215. ^ Adamson، George (1969). Bwana Game: the life story of George Adamson. Fontana. ISBN 0-00-612145-4. 
  216. ^ Adamson، Joy (2000) [1960]. Born Free: A Lioness of Two Worlds. Pantheon. ISBN 0-375-71438-3. 
  217. ^ Schweizer، Peter (1998). Disney: The Mouse Betrayed. Washington D.C.: Regnery. pp.164–69. ISBN 0-89526-387-4. 
  218. ^ "King Leonardo and His Short Subjects (1960– )". Internet Movie Database. 2007. http://www.imdb.com/title/tt0053515۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 September 2007. 

حولاجاتی تحریر[ترمیم]

  • Baratay، Eric; Hardouin-Fugier، Elisabeth (2002). Zoo: a history of zoological gardens in the West. London: Reaktion Books. ISBN 1-86189-111-3. 
  • Blunt، Wilfred (1975). The Ark in the Park: The Zoo in the Nineteenth Century. London: Hamish Hamilton. ISBN 0-241-89331-3. 
  • de Courcy، Catherine (1995). The Zoo Story. Ringwood, Victoria: Penguin Books. ISBN 0-14-023919-7. 
  • Schaller، George B. (1972). The Serengeti lion: A study of predator-prey relations. Chicago: University of Chicago Press. ISBN 0-226-73639-3. 
  • Scott، Jonathon; Scott، Angela (2002). Big Cat Diary: Lion. Harper Collins. ISBN 0-00-714666-3. 

بیرونی روابط[ترمیم]