مندرجات کا رخ کریں

ژونگر نسل کشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

زونگر نسل کشی (  : ' ' ) چنگ خاندان کے ذریعہ منگول زونگر لوگوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام تھا۔ [1] کیان لونگ شہنشاہ نے سنہ 1755ء میں چنگ حکمرانی کے خلاف زونگر رہنما امرسانہ کی بغاوت کے بعد نسل کشی کا حکم دیا، اس سے پہلے چنگ خاندان نے پہلی بار امرسانہ کی حمایت سے زونگر خانات کو فتح کیا۔ نسل کشی کا ارتکاب چنگ فوج کے مانچو جرنیلوں نے کیا تھا، جس کی حمایت ترک نخلستان کے باشندوں نے کی تھی (جو اب ایغور کے نام سے مشہور ہیں) جنھوں نے زونگر حکمرانی کے خلاف بغاوت کی۔

زونگر خانات Dzungar Khanate کئی تبتی بدھ مت اوریت منگول قبائل کا ایک کنفیڈریشن تھا جو 17ویں صدی کے اوائل میں ابھرا اور یہ ایشیا کی آخری عظیم خانہ بدوش سلطنت تھی۔ کچھ اسکالرز کا اندازہ ہے کہ زونگر کی آبادی کا تقریباً 80فیصد یا تقریباً 500,000 سے 800,000 افراد، 1755-1757 میں چنگ کی فتح کے دوران یا اس کے بعد جنگ اور بیماری کے امتزاج سے ہلاک ہوئے۔ [2] [3] زونگاریا کی مقامی آبادی کا صفایا کرنے کے بعد، چنگ حکومت نے اس علاقے کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے مانچو علمبرداروں کے ساتھ مل کر ہان, ہوئی، ایغور اور سائبے کے لوگوں کو زونگاریا میں ریاستی کھیتوں پر دوبارہ آباد کیا۔

چنگ کی زنگاروں پر فتح

[ترمیم]

پس منظر

[ترمیم]
زنگر رہنما امرسانہ

چنگ خاندان نے زونگر۔چنگ جنگ میں زونگاروں Dzungars کے خلاف جنگ کی۔ زنگار لوگ دیوارِ چین کے مغربی سرے سے موجودہ مشرقی قازقستان تک اور موجودہ شمالی کرغزستان سے لے کر جنوبی سائبیریا (جن میں سے زیادہ تر موجودہ سنکیانگ میں واقع ہے) تک پھیلے ہوئے علاقے میں رہتے تھے۔ وہ چین کے لیے خطرہ بننے والی آخری خانہ بدوش سلطنت تھی، جو انھوں نے 17ویں صدی کے اوائل سے لے کر 18ویں صدی کے وسط تک کی۔ [4]

اس وقت کے دوران، زونگروں نے مقامی طور پر بنائے گئے بارود کے ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد وسطی یوریشیا میں 'فوجی انقلاب' کے مقامی مظہر کا آغاز کیا۔ انھوں نے ایک مخلوط زرعی-چراگاہوں والی معیشت کے ساتھ ساتھ اپنی زمینوں پر کان کنی اور مینوفیکچرنگ صنعتیں بھی لگائیں۔ مزید برآں، زنگروں نے علاقے میں اوریات زبان کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سلطنت کے قوانین اور پالیسیوں کا ایک وسیع نظام نافذ کیا۔

سنہ 1680ء کی دہائی میں شروع ہونے والے غیر نتیجہ خیز فوجی تنازعات کے ایک سلسلے کے بعد، سنہ 1750ء کی دہائی کے آخر میں مانچو جنگجوئوں کی زیرقیادت چنگ خاندان (1644–1911) نے زونگروں کو محکوم بنالیا۔ کلارک نے استدلال کیا ہے کہ 1757-58 میں چنگ مہم "نہ صرف زونگر ریاست کی بلکہ ایک قوم کے طور پر زونگروں کی مکمل تباہی کے لیے تھی"۔ [2] سنہ 1755ء میں کیان لونگ شہنشاہ نے چنگ افواج کو زونگروں پر فتح حاصل کرنے کے بعد، اصل میں زونگر خانات کو چار خانوں کی سربراہی میں چار قبیلوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس میں خویت قبیلے کا خان زونگر لیڈر امرسانہ کو بنانا بھی شامل تھا۔ [5]

مگر امرسانہ نے چنگ کے انتظام کو مسترد کر دیا اور بغاوت کر دی کیونکہ وہ ایک متحد زونگر قوم کا رہنما بننا چاہتا تھا۔ غصے میں آکر کیان لونگ شہنشاہ نے پوری زنگر قوم اور نام کے خاتمے کے احکامات جاری کر دیے کہ منگول اور مانچو جنگجو، زنگر خواتین اور بچوں کو غلاموں کے طور پر وصول کریں گے اور باقی زنگر مار دیے جائیں۔ [5]

بیرونی منگول خالخا شہزادہ چنگنجاو نے امرسانہ کے ساتھ مل کر سنہ 1755ء میں چنگ سلطنت کے خلاف بغاوت کی سازش کی۔ چنگنجاو نے پھر سنہ 1756ء میں چنگ حکومت کے خلاف بیرونی منگولیا میں اپنی بغاوت شروع کی، لیکن اسے سنہ 1757ء میں چنگ فوجوں نے کچل دیا۔ چنگنجاو اور اس کے پورے خاندان کو بغاوت کے خاتمے کے بعد چنگ نے پھانسی دے دی تھی۔ منچو کے آٹھ دستوں کو پھر چنگ کیان لونگ شہنشاہ نے زونگاروں کو فتح کرنے کا حکم دیا۔ [6]

نسل کشی کی پالیسی

[ترمیم]
کیان لونگ شہنشاہ

کیان لونگ شہنشاہ نے مندرجہ ذیل احکامات جاری کیے، جیسا کہ پیٹر سی پرڈیو نے ترجمہ کیا: [7]

"ان باغیوں پر کوئی رحم نہ کیا جائے۔ صرف بوڑھے اور کمزور لوگوں کو چھوڑ دیا جائے۔ ہماری پچھلی فوجی مہم کافی نرم تھی۔ اگر ہم نے پہلے کی طرح نرمی دکھائی، تو جیسے ہماری فوج وہاں سے نکلے گی، ہماری مشکلات بڑھ جائیں گی۔

اگر کوئی باغی پکڑا جائے اور اس کے لوگ اطاعت پر راضی ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ خود ہماری صفوں میں آئے، ہمارے سالار کو سجدہ کرے اور اطاعت کی درخواست کرے۔ اگر وہ اپنی جگہ کسی اور کو بھیجے تو ضرور یہ اس کی چال ہوگی۔ سینگونجاو سے کہو کہ وہ ان عیار زونگاروں کو قتل کر دے۔ جو وہ کہتے ہیں اس پر ہرگز یقین نہ کیا جائے"

زونگر نسل کشی میں ہونے والی اموات کا تخمینہ 600,000 یا اس سے زیادہ زنگروں میں سے 70 اور 80 فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے، جو سنہ 1755ء اور 1758ء کے درمیان بیماریوں اور جنگوں سے تباہ ہو گئے، [8] [9] جیسے مائیکل کلارک نے بیان کیا ہے کہ "مکمل تباہی نہ صرف زونگر ریاست بلکہ زونگروں کی بطور عوام بھی۔" [10] [11] [2] چنگ اسکالر وی یوآن (1794–1857) کے مطابق، چنگ کی فتح سے قبل زونگر کی آبادی 200,000 گھرانوں میں 600,000 کے لگ بھگ تھی۔ [11]

وی یوآن نے لکھا کہ تقریباً 40 فیصد زونگر گھرانوں کو چیچک نے ہلاک کیا، 20 فیصد روس یا قازق قبائل کی طرف بھاگ گئے اور 30 فیصد مانچو دستوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ کئی ہزار لی کے لیے، ہتھیار ڈالنے والوں کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ [11] روسی اکاؤنٹس کے مطابق، مانچو کی فوجوں نے زونگروں کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو ذبح کر دیا تھا۔ [12] زونگاریا Dzungaria کی آبادی کئی نسلوں تک بحال نہیں ہوئی۔ [13]

زنگروں Dzungars کی تباہی کو نسل کشی کی ایک واضح پالیسی سے منسوب کیا گیا ہے، جسے کیان لونگ Qianlong شہنشاہ کی طرف سے "نسل کشی" کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو دو سال تک جاری رہی۔ [14][صفحہ درکار][ صفحہ ] اس نے زونگر آبادی کی اکثریت کے قتل عام اور بقیہ کو غلام بنانے یا ملک بدر کرنے کا حکم دیا، جس کے نتیجے میں زونگاروں کی تباہی ہوئی۔ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا انسائیکلوپیڈیا زنگروں کے خلاف کیان لونگ شہنشاہ کے اقدامات کو نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے بارے میں اقوام متحدہ کے کنونشن کی تعریف کے تحت نسل کشی کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے۔ [15]

شہنشاہ نے اپنے نسل کشی کے حکم اور کنفیوشس ازم کے پرامن اصولوں کو برقرار رکھنے کے درمیان کوئی تنازع نہیں دیکھا۔ اس نے زونگروں کو وحشی اور غیر انسانی کے طور پر پیش کرکے اپنے موقف کی حمایت کی۔ کیان لونگ شہنشاہ نے اعلان کیا کہ "وحشیوں کو ختم کرنا اندرون ملک استحکام لانے کا طریقہ ہے" اور یہ کہ زونگاروں نے "تہذیب سے منہ موڑ لیا" اور "آسمانوں نے شہنشاہ کا ساتھ دیا،" ان کی تباہی میں۔ [16]

زونگار سپاہیوں کی گرفتاری اور سزائے موت
الی جنگجوئوں کے ہتھیار ڈالنے کا منظر
ہتھیار ڈالنے والے زونگار جنگجوئوں کی دستاویزات اور پینٹنگ۔ زیادہ تر ہتھیار ڈالنے والوں کو بعد میں قتل کردیا گیا۔

اس کے کمانڈر اس کے احکامات پر عمل درآمد کرنے سے گریزاں تھے، جسے اس نے بار بار جیاؤ (ختم کردو) کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے کئی بار دہرایا۔ کمانڈروں ہداہا اور اگوئی کو صرف زونگر کی زمینوں پر قبضہ کرنے، لیکن لوگوں کو فرار کا مقع دینے پر سزا دی گئی۔ جرنیلوں جاہوئی اور شوہدے کو باغیوں کو ختم کرنے میں خاطر خواہ جوش نہ دکھانے پر سزا دی گئی۔ دیگر، جیسے ٹانگکیلو، کو قتل عام میں حصہ لینے پر انعام دیا گیا۔ [7] [17] کیان لونگ نے واضح طور پر خالخا منگولوں کو حکم دیا کہ "نوجوانوں اور مضبوط لوگوں کو لے جائو اور ان کا قتل عام کرو۔" بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو تو بچا لیا گیا لیکن وہ اپنے سابقہ ناموں اور لقبوں کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ [18]

وفادار خالخوں نے زونگر خویت خواتین کو چیبوڈینگزابو سے غلاموں کے طور پر حاصل کیا اور بھوکے زونگروں کو خوراک سے محروم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ مانچو دستے اور وفادار منگولوں نے زونگر خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو غلاموں کے طور پر حاصل کیا اور ان کی زونگر شناخت مٹا ڈالی۔ [7] [19] مارک لیوین، ایک مورخ جس کی حالیہ تحقیقی دلچسپی نسل کشی پر مرکوز ہے، بیان کرتا ہے کہ زونگروں کا خاتمہ " اٹھارویں صدی کی نسل کشی کے ہم معنی تھا۔" [20]

خواجہ ایمن کا چنگ کے ساتھ اتحاد

[ترمیم]

زنگروں نے، آفاقی کھوجا کی طرف سے حملہ کرنے کی دعوت دیے جانے کے بعد، التیشہر کو فتح کرنے کے دوران، ایغوروں کو محکوم بنالیا تھا۔ زنگاروں کی طرف سے اویغوروں پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے تھے، ٹیکس جمع کرنے والوں کو، ایغوروں کی طرف سے خواتین بطور تحفہ فراہم کی جاتی تھیں۔ ٹیکس کی رقم تسلی بخش نہ ہونے پر اویغور خواتین کو ٹیکس جمع کرنے والوں نے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ [21]

ترفان اور ہامی نخلستان کو زونگر مخالف اویغور باغیوں نے چنگ حکمرانوں کو بطور جاگیر پیش کیا اور زونگر حکومت کو ختم کرنے کے لیے چنگ سے مدد کی درخواست کی۔ ایمن کھوجا جیسے اویغور لیڈروں کو چنگ اشرافیہ کے اندر خطابات سے نوازا گیا اور ان ایغوروں نے زونگر مخالف مہم کے دوران چنگ فوجی دستوں کو رسد کی فراہمی میں مدد کی۔ [22] [23] چنگ نے زونگروں کے خلاف اپنی مہم میں خواجہ ایمن کو ملازم رکھا اور اسے تارم طاس کے مسلمانوں کے ساتھ ایک ثالث کے طور پر استعمال کیا، تاکہ انھیں یہ اطلاع دی جا سکے کہ چنگ صرف اوریاتوں (زونگروں) کو قتل کرنا چاہتا ہیں اور وہ مسلمانوں چھوڑ دیں گے۔ انھیں قائل کرنے کے لیے کہ وہ خود زونگروں کو قتل کر دیں اور چنگ کا ساتھ دیں، چنگ نے سوانگ ارپٹن کے ہاتھوں انھیں اپنے سابق زونگر حکمرانوں کے مسلمانوں کے خلاف سلوک کو یاد دلایا۔ [24]

زنگاروں کی چنگ کی فتح کے دوران چنگ کی طرف سے امین کھوجا کے ترفانی ترک مسلمانوں کو اوریات بطور غلام دیے گئے۔

  1. Ondřej Klimeš (8 January 2015)۔ Struggle by the Pen: The Uyghur Discourse of Nation and National Interest, c.1900-1949۔ BRILL۔ صفحہ: 27–۔ ISBN 978-90-04-28809-6 
  2. ^ ا ب پ Clarke 2004, p. 37.
  3. "Archived copy" (PDF)۔ 06 جولا‎ئی 2011 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 فروری 2013 
  4. Perdue 2005. Chapters 3–7 describe the rise and fall of the Dzungar Khanate and its relations with other Mongol tribes, the Qing dynasty, and the Russian empire.
  5. ^ ا ب Millward 2007, p. 95.
  6. L. J. Newby (2005)۔ The Empire And the Khanate: A Political History of Qing Relations With Khoqand C1760-1860۔ BRILL۔ صفحہ: 15–۔ ISBN 90-04-14550-8 
  7. ^ ا ب پ Perdue 2009, pp. 283–.
  8. Wen-Djang Chu (1966)۔ The Moslem Rebellion in Northwest China 1862–1878۔ Mouton & co.۔ صفحہ: 1 
  9. Powers & Templeman 2012, p. 537.
  10. Clarke 2004, pp. 3, 7.
  11. ^ ا ب پ Perdue 2009, p. 285.
  12. Perdue 2009, pp. 284–.
  13. Tyler 2004, p. 55.
  14. Perdue 2005.
  15. Shelton 2005, p. 1183.
  16. Nan, Mampilly & Bartoli 2011a, p. 219.
  17. James A. Millward (2007)۔ Eurasian Crossroads: A History of Xinjiang۔ Columbia University Press۔ صفحہ: 95–۔ ISBN 978-0-231-13924-3 
  18. Perdue 2005, p. 283.
  19. Crowe 2014, p. 31.
  20. Levene 2008, p. 188.
  21. Ahmad Hasan Dani، Vadim Mikhaĭlovich Masson، UNESCO (1 January 2003)۔ History of Civilizations of Central Asia: Development in contrast : from the sixteenth to the mid-nineteenth century۔ UNESCO۔ صفحہ: 197–۔ ISBN 978-92-3-103876-1 
  22. Kim 2008, p. 134.
  23. Kim 2008, p. 49.
  24. Kim 2008, p. 139.