ژو دے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ژو دے
(چینی میں: 朱德 ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Zhu De.jpg
 

مناصب
نائب صدر عوامی جمہوریہ چین   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
27 ستمبر 1954  – 27 اپریل 1959 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
سونگ چنگ لنگ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
نائب چیئرمین کیمونسٹ پارٹی چین   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
28 ستمبر 1956  – 1 اگست 1966 
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قومی عوامی کانگرس (2 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
28 اپریل 1959  – 6 جولا‎ئی 1976 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
سونگ چنگ لنگ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 1886[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 6 جولا‎ئی 1976 (90 سال)[2][3][4][1][5]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیجنگ[3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of China (1889–1912).svg چنگ سلطنت (1 دسمبر 1886–1912)
Flag of the Republic of China.svg جمہوریہ چین (1912–1949)
Flag of the People's Republic of China.svg عوامی جمہوریہ چین (1949–6 جولا‎ئی 1976)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت کیمونسٹ پارٹی چین  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ گوٹنجن  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان چینی زبان[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری عوامی جمہوریہ چین  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ قومی انقلابی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں لانگ مارچ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی حالات[ترمیم]

ژو دے چین کے صوبہ چیوان کے ایک دیہات نائی لنگ میں 1886ء میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین زمیندار تھے اور ان کا شمار چین کے مشہور سرمایہ داروں میں ہوتا تھا۔ ژو دے نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوجی تربیت حاصل کرنے ینان فوجی اکیڈمی میں داخلہ لے لیا۔ فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد ژو دے نے فوج میں شمولیت اختیار کر لی اور اسے فوج میں لفٹنٹ کا عہدہ ملا۔

بغاوت[ترمیم]

جب مانچو خاندان کے خلاف انقلاب کی آگ پھیلی تو اس وقت ژو دے نے باغیوں کا ساتھ دیا۔ اس نے اپنی فوج کو باغیوں اور انقلابیوں کے ساتھ کر دیا۔ اس حرکت سے انقلابی ژو دے کے جذبہ حب الوطنی سے بہت متاثر ہوئے۔ انقلاب کے بعد جب یان شی کائی نے اپنی شاہی کے آغاز کرنے کی کوشش کی تو اس وقت بھی ژو دے نے پھر علم بغاوت بلند کیا اور وقت مطمعن ہوا جب یہ دور جبر و مطلق العنانی ختم ہوا۔

عیش پرست افیونی[ترمیم]

ژو دے ابتدا میں اپنے اجداد کی تقلید کر رہا تھا۔ وہ انتہائی سخت گیر اور جابر تھا۔ اس کے ساتھ عیش و عشرت کا دیوانہ اور افیون کا بڑا رسیا تھا۔ اس نے نو شادیاں کر رکھی تھی۔ اس عیش پرستی اور افیون سے ژو دے کو نجات دلانے میں اس کے ذوق مطالعہ نے بہت مدد کی۔ وہ افیون کے پینک میں بھی مطالعہ کے لیے وقت نکال لیتا تھا۔ اس وسیع مطالعہ نے ژو دے کو چین کی حقیقت سے روشناس کرایا۔ آخر 1920ء کا وہ دن آیا جب ژو دے شنگھائی چلا گیا۔ شنگھائی میں اس کی ملاقات اشتمالی محبان وطن سے ہوئی۔ ان ساتھیوں نے ژو دے کو اپنا نصب العین، اپنے داعیات اور اپنا پروگرام بتایا اور ساتھ میں ژو دے کو مجبور کیا کہ اگر وہ قوم کا خادم بننا چاہتا ہے تو افیون چھوڑ دے۔ ژو دے نے افیون چھوڑنے کی قسم کھا لی اور پیمان پر پابند رہا۔ ایک پرانی عادت کو چھوڑنے کی وجہ سے اس کا برا حال ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا کہ وہ مر جائے گا لیکن اس نے اپنی خواہش پر فتح پا لی تھی۔ چالیس سال کی عمر میں ایک پرانی عادت کو چھوڑنا ژو دے کے انقلابی خیالات میں ایک مہم کا کام کیا۔

بیرونی ممالک کے دورے[ترمیم]

افیون کی عادت چھوڑنے کے بعد ژو دے جرمنی چلا گیا۔ یہاں پر اس کی ملاقات ان چینی طالب علموں سے ہوئی جو اشتمالی مسلک کے پیرو تھے۔ ان اشتمالی دوستوں نے ژو دے کو مارکس اور اینگلز کی تصانیف مطالعے کے لیے دیں۔ اس کا ذوق مطالعہ اور یرولٹاری انقلاب نے اس کو اشتمالی بنا دیا۔ اس نے انقلاب روس اور مارکسیت کا گہرا مطالعہ کیا۔ جرمنی میں اس کی حثیت ایک معمولی سپاہی کی سی تھی۔ اس کے بعد ژو دے فرانس چلا گیا۔ یہاں پر بھی اشتمالی چینی طالب علموں نے اس کے ارادوں کو شہ دی۔ فرانس کے بعد ژو دے روس چلا گیا۔ یہاں اس نے ماسکو میں مشرق کے محنت کرنے والوں کی جامعہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں جامعہ میں اس نے کارل مارکس، اینگلز لینن اور ٹرانسکی کے خیالات کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔

بغاوت[ترمیم]

1925ء میں ژو دے واپس شنگھائی لوٹا۔ شنگھائی میں اس نے جنرل چوپی تھے کی فوج میں شمولیت اختئار کر لی۔ جنرل نے ژو دے کو نانچانگ کے محکمہ حفاظت عامہ کا صدر بنا دیا۔ اس دوران ژو دے نے ایک چھوٹی سی فوج تیار کی جس کو جدید تربیت دلائی نیز کومنتانگ کی نویں فوج سے اپنا تعلق بھی جوڑ لیا۔ اسی اثناء میں چیانگ کائی شیک کی قومی فوج اور اشتمالیوں کی فوج میں تصادم ہو گیا۔ یہ موقع ژو دے کے لیے انتہائی پریشان کن تھا کیونکہ ژو دے اشتمالی تھا اور جنرل چوپی تھے کے ماتحت تھا۔ اس تصادم میں اشتمالیوں کی مدد کرنا اس کا فرض تھا لیکن اس کے لیے اس کو اپنے فوجی فرائض اور اپنے کمانڈر کی حکم عدولی کرنا پڑتی۔ بالآخر یکم اگست 1927ء کو ژو دے نے اپنے کمانڈر کے خلاف بغاوت کر کے اشتمالیوں کے ساتھ مل کر قومی فوج کے سامنے شمشیر بکف میدان میں چلا آیا۔ اس بغاوت میں نویں فوج کا ایک بڑا حصہ بھی اشتمالیوں کے ساتھ ہو گیا۔ اشتمالیوں نے ان خدمات کے صلہ میں ژو دے کو صدر مشیر سیاسی مقرر کر دیا گیا۔ چیانگ کائی شیک کو جتنا خطرہ ژو دے سے تھا اور کسی اشتمالی سے نہ تھا۔ چیانگ نے ژو دے کو گرفتار کرنے کا ایک منصوبہ بھی بنایا۔ کانگ کائی شیک کے ساتھی ایک رات اچانک ژو دے کی رہائش گاہ پر حملہ آور ہوئے اور مکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ چند آدمی مسلح ہو کر اس کی خوابگاہ کے اندر آئے۔ ژو دے اس وقت تک جاگ چکا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ دشمن اس پر گولی چلانا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ میں ژو دے کا باورچی ہو وہ خود اندر ہے۔ مگر دشمنوں نے اس کی آواز پہچان کر اس کو گرفتار کر لیا۔ ایک دشمن اس پر گولی چلانا ہی چاہتا تھا کہ ژو دے نے اچانک ایک خفیہ ہتھیار کے ذریعے اس شخص پر وار کر دیا اور برق رفتاری سے مکان سے فرار ہو کر جان بچا لی۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6j39thw — بنام: Zhu De — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. فصل: 16 — مصنف: Philip Short — عنوان : Mao: A Life — صفحہ: 624 — ناشر: هوڈر و اسٹاؤٹن — ISBN 978-0-340-60624-7
  3. ^ ا ب http://www.britannica.com/EBchecked/topic/657001/Zhu-De
  4. ^ ا ب http://www.chinadaily.com.cn/china/pla2010/2010-07/29/content_11068610.htm
  5. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000002276 — بنام: Chu Teh — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12210864f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. مشاہیر چین مولف میر عابد علی خان صفحہ 113 تا 118