کتھاکلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کتھاکلی ہندوستانی کلاسیکی رقصوں کی بڑی قسم ہے۔ [1] جنوبی ہندوستان میں کیرل کی سرزمین کئی کلاسیکی رقص و سرود کی جائے پیدائش ہے ان میں سے کتھاکلی کی اساطیری اہمیت اور تاریخی قدامت کو اعتبار کا درجہ حاصل ہے۔[2][3][4] کتھاکلی جنوبی ہند کے عہد عتیق کے متنوع مذہبی ڈرامائی اصناف کی آمیزش سے تیار ایک رزمیہ رقص ہے، اس میں رقاص مختلف مدارؤں کی مدد سے اور جسم کے و حرکت و عمل اور ہاتھ پاؤں کے اشاروں سے انسانی جذبات کے مختلف کیفیتوں کا اظہار کرتا ہے اس رقص میں چہروں کے تاثرات کے ساتھ ہاتھوں کی مدراؤں کی بھی اہمیت ہے۔[2][3][4] لیکن یہاں مدراؤں کی کوئی علاحدہ شناخت نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ مدرائیں من جملہ عمل رقص کا حصہ ہیں۔ اس رقص کے مجموعی حرکت سے ہی مدراؤں کی معنوی پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ بھرت ناٹیم کی طرح کتھاکلی میں بھی نرت، نرتیہ اور ناٹیہ یعنی خالص رقص، تاثرات اور ڈرامائی عناصر کے امتزاج ایک جلوہ بن جاتا ہے۔ موسیقی اس کا لازمی جز ہے۔ رقص کا آہنگ موسیقی کے آہنگ سے جذب ہوجاتا ہے۔ آہنگ و دھن دونوں کی وحدت اس رقص کو جمالیاتی کیفیتوں کے عروج پر لا کھڑا کرتی ہے۔[5] کتھاکلی سنسکرت کے دو لفظوں کتھا اور کلی سے مل کر بنا ہے کتھا کا مطلب ہے داستان، کہانی اور کلی کا مفہوم ہے فن اور اظہار فن اس طرح کتھاکلی کا مطلب ہوا اساطیری داستانوں اور کہانیوں کے اظہار کا فن چوں کہ کتھاکلی میں ہندوستانی اسطوری کہانیوں کو بنیاد بناکر ہی موسیقی کی مدد سے رقص کا پیکر عطا کیا جاتا ہے اس لیے اس تخلیقی آرٹ کو کتھاکلی کے نام سے منسوب کیا جانے لگا۔[6][7]

کتھاکلی میں فن کاروں کے لباس و زیورات ناٹیہ شاستر کے اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔[8] اس رقص کے کرداروں کو مختلف ناموں سے پکارا بھی جاتا ہے۔

کتھاکلی میں کرداروں کے لباس و پوشاک گرچہ بہت زیادہ مختلف نہیں ہوتے تاہم کہانی کے کرداروں کو بنیاد بناکر انہیں مخصوص وضع و قطع اور مختلف آرائش و زیبائش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ کرداروں کی شناخت ان کے مخصوص لباس اور سج سجاوٹ کی وجہ سے بآسانی ہو سکے۔ یوں تو کتھاکلی کی جڑیں ناٹیہ شاستر سے جا ملتی ہیں[8] تاہم فن کی حیثیت سے اس کی ابتدا اولاً کیرل کے ہندو مندروں میں ہوئی[9] اور عہد بہ عہد لوک ناچوں کے شانہ بہ شانہ ارتقا کے کئی منازل طے کرکے موجودہ صورت میں جنوبی ہندوستان کا مقبول عام رقص ہے۔

بھرت ناٹیہ کا آغاز و ارتقا چونکہ شاہی درباروں میں ہوا اس لیے اداکاری، آہنگ و دھن اور ملبوسات سبھی میں نزاکت ونرمی ہوتی ہے۔ لیکن کتھاکلی میں نرمی و نزاکت کی بجائے مردانہ جاہ و جلال اور شان وشوکت جیسے اوصاف ہوتے ہیں۔ کتھاکلی میں اصل مدرائیں ہوتی ہیں مدراؤں کا استعمال جس طرح سے اس میں کیا جاتا ہے وہ کسی اور رقص میں نہیں کیا جاتا۔ اس میں مختلف قسم کے انسانی احساسات وجذبات اور ذہنی کیفیات کا اظہار جسم کی متحرک کیفیتوں اور چہروں کے تاثرات سے ہوتا ہے۔ کتھاکلی میں صرف ہاتھ کے بے شمار معنی خیز اشارے اور کنایے ہیں جسم کے کسی بھی حصے کی ذرا سی حرکت سے مدرا بدل جاتی ہے۔ پاؤں کی حرکت وعمل، پاؤں کو کم تھکانے کی خواہش اور کسی بھی جانب آزادانہ حرکت کی آزادی اس رقص کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ جن کا گہرا رشتہ جنگ اور جنگ کے طور طریقوں، تربیتوں سے ہے۔ رفتہ رفتہ آریوں کی بہت سی کہانیاں اس رقص میں شامل ہوئیں۔ مہابھارت، راماین، شیو پران اور بھاگوت پران کی کہانیاں اس رقص میں پیش ہونے لگیں۔[10][11] موسیقی جو گاتے ہیں رقاص انہیں رقص میں پیش کرتے ہیں۔ رومانی فضاؤں کی تشکیل کے ساتھ یہ رقص خطر ناک خونی جنگی مناظر کو بھی پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین فن کار اس رقص میں کم ہی حصہ لیتی ہیں۔ کتھاکلی کے فنکار مختلف قسم کے رنگوں سے میک اپ بنا کر رنگ برنگے ملبوسات زیب تن ہوکر جب منچ پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ناظرین حیرت زدہ ہوکر انہیں دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ کتھاکلی کی انہیں خصوصیات کی وجہ سے معروف آفاقی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے کتھاکلی رقص کو خوب سراہا تھا۔

کتھاکلی میں نین ابھینے یعنی آنکھوں کے اشاروں، تاثرات اور ڈرامائی عمل کو بہت زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔ مختلف انسانی جذبات و احساسات کا اظہار و ابلاغ کا کام نگاہوں کی حرکت وعمل سے انجام دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاتھوں کی حرکتوں اور آنکھوں کے عمل کے خوب صورت امتزاج سے اس رقص کی جمالیات سامنے آتی ہے۔ اس رقص میں آنکھوں کی آٹھ آدائیں اور نگاہوں کی نو حرکتیں مکھ ابھینے کی بنیاد بنتی ہیں۔ رسوں کے اعلا ترین اظہار کے لیے کتھاکلی کا فن نہایت موزوں ہے۔ کتھاکلی میں یوں تو کئی سو مدرائیں ہیں لیکن فن کاروں نے چوبیس مدراؤں میں ان تمام مدراؤں کا رس نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس رقص کے ذریعہ کائنات کی بنیادی طاقت کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ کتھاکلی نے رقص کو ڈراما بنا دیا ہے۔ ایسا ڈراما جو اپنی پیچیدگیوں کا حسن رکھتا ہے۔ یہ رقص جمال و جلال کے اظہار کا ایک انوکھا فن ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Williams، Drid (2004). "In the Shadow of Hollywood Orientalism: Authentic East Indian Dancing". Visual Anthropology (Routledge) 17 (1): 69–98. doi:10.1080/08949460490274013. http://jashm.press.illinois.edu/12.3/12-3IntheShadow_Williams78-99.pdf. 
  2. ^ ا ب James G. Lochtefeld۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: A-M۔ The Rosen Publishing Group۔ صفحہ 359۔ آئی ایس بی این 978-0-8239-3179-8۔
  3. ^ ا ب Peter J. Claus؛ Sarah Diamond؛ Margaret Ann Mills۔ South Asian Folklore: An Encyclopedia۔ Routledge۔ صفحات 332–333۔ آئی ایس بی این 978-0-415-93919-5۔
  4. ^ ا ب Phillip B. Zarrilli۔ Kathakali Dance-drama: Where Gods and Demons Come to Play۔ Routledge۔ صفحات xi, 17–19۔ آئی ایس بی این 978-0-415-13109-4۔
  5. Peter J. Claus؛ Sarah Diamond؛ Margaret Ann Mills۔ South Asian Folklore: An Encyclopedia : Afghanistan, Bangladesh, India, Nepal, Pakistan, Sri Lanka۔ Routledge۔ صفحات 57, 332–333۔ آئی ایس بی این 978-0-415-93919-5۔
  6. James G. Lochtefeld۔ The Illustrated Encyclopedia of Hinduism: A-M۔ The Rosen Publishing Group۔ صفحات 358–359۔ آئی ایس بی این 978-0-8239-3179-8۔
  7. Constance Jones؛ James D. Ryan۔ Encyclopedia of Hinduism۔ Infobase Publishing۔ صفحہ 230۔ آئی ایس بی این 978-0-8160-7564-5۔
  8. ^ ا ب Phillip B. Zarrilli۔ Kathakali Dance-drama: Where Gods and Demons Come to Play۔ Routledge۔ صفحات 25–29, 37, 49–56, 68, 88–94, 133–134۔ آئی ایس بی این 978-0-415-13109-4۔
  9. Phillip B. Zarrilli۔ Kathakali Dance-drama: Where Gods and Demons Come to Play۔ Routledge۔ صفحات xi, 3۔ آئی ایس بی این 978-0-415-13109-4۔
  10. Phillip B. Zarrilli۔ Kathakali Dance-drama: Where Gods and Demons Come to Play۔ Routledge۔ صفحہ 3۔ آئی ایس بی این 978-0-415-13109-4۔, Quote: "Like most traditional modes of storytelling and performance in India, Kathakali plays enact one or more episodes from regional versions of the pan-Indian religious epics (Ramayana and Mahabharata) and Puranas."
  11. Kevin J. Wetmore, Jr.؛ Siyuan Liu؛ Erin B. Mee (8 مئی 2014)۔ Modern Asian Theatre and Performance 1900-2000۔ Bloomsbury Academic۔ صفحات 196–197۔ آئی ایس بی این 978-1-4081-7720-4۔