گیلوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • لفظ گیلوئے کا فرانسیسی تلفظ "گیل‌وا" (Gal-wa) ہے۔
گیلوئے
Galois.jpg
تاریخ پدائیش 25 اکتوبر ء1811
وفات 31 مئی ء1832

اواریستے گیلوئے (Evariste Galois) اگرچہ قریباً بیس برس ہی جیا مگر عظیم ریاضی دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

فرانس میں پیدا ہؤا۔ باپ سکول ماسٹر تھا۔ گیلوئےکا باپ اپنے شہر کا مئیر بھی بنا۔ ماں بھی پڑھی لکھی تھی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ 1823ء میں بورڈنگ سکول میں داخل ہؤا۔ ڈسپلن کی سختی تھی۔ فرانس میں انقلاب اور سیاسی انتشار کا زمانہ تھا۔ سیاسی طور پر عوام لبرل اور رپبلکن میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک بادشاہ جاتا تھا، دوسرا آتا تھا۔ سکول میں بھی سیاسی ماحول تھا۔ طالب علم سیاسی لڑائیوں میں حصہ لیتے تھے۔ سکول کے پرنسپل سے گیلوئے کے شدید سیاسی اختلافات تھے۔گیلوئے کو ریاضی کا چسکا لگ گیا، مگر دوسرے مضامین میں کمزور تھا۔

ریسرچ[ترمیم]

ریاضی میں اس وقت درجہ پانچ کی مساوات کے حل جاننے کی کوشش ہو رہی تھی۔ یہ تو معلوم تھا کہ اس مساوات کا کوئی عام حل نہیں جو عددی سر کو استعمال کرتے ہوئے لکھا جا سکے۔ گیلوئے نے اس مسلئہ پر حملہ کیا۔ یہ جاننے کے لیے کہ کن صورتوں میں مساوات کا حل لکھا جا سکتا ہے، گیلوئے نے ریاضی کی ایک نئی شاخ "گروہ نظریہ" دریافت کر ڈالی۔ اس نظریہ کی بعد میں متناظر (symmetry) کے حوالے سے بہت سے شعبہ جات میں کام آیا۔ گیلوئے نے تحقیقی مقالہ لکھ کر فرانس کی اکادمی سائنس کو بھیجا۔ مشہور ریاضیدان کاشی (Cauchy) نے اکادمی کے سامنے پیش کیا۔ منصف مقرر ہوئے۔ مشہور سائنسدان جوزف فورئیہ (Fourier) مقالہ گھر لے گیا، جہاں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح مقالہ گم گیا اور گیلوا کو ابتدائی شہرت حاصل نہ ہو سکی جو اس کا حق تھا۔ کاشی بھی بھول گیا۔

اعلٰی تعلیم[ترمیم]

گیلوئے کا مئیر باپ نے کسی سیاسی سکینڈل میں پھنس کر خودکشی کر لی۔ اسی وقت گیلوئے کو فرانس کی سب سے اچھی یونیوسٹی میں داخلے کا امتحان دینا ، وقت سے ایک سال پہلے ہی سوجھا۔ گیلوئے کو ریاضی کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔ امتحان میں فیل کر دیا گیا۔ دوسرے برس پھر کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ چنانچہ نمبر 2 یونیوسٹی میں داخل ہونا پڑا۔ گیلوئے کے کچھ دوسرے تحقیقی مقالات شائع ہوئے۔ سیاست میں سرگرمی کی وجہ سے گیلوئے کو جیل کی ہؤا بھی کھانا پڑی۔ گیلوئے کا بڑا تحقیقی مقالہ پھر اکادمی میں پیش ہؤا۔ اس بار مشہور ریاضی دان پوئےسن (Poisson) کو جج مقرر کیا گیا۔ مگر پوئےسن کو کچھ پلے نہیں پڑا اور یوں گیلوئے کو زندگی میں شہرت حاصل نہ ہو سکی۔

موت[ترمیم]

1832ء میں گیلوئے کو ایک لڑکی سے لگن ہو گئی، مگر بات بگڑ گئ۔ لڑکی کے کچھ اعزا نے گیلوئے پر لڑکی کی توہین (بے عزتی) کا الزام لگایا، اور گیلوئے کو duel کے لیے للکارا۔ گیلوئے کو فی زمانہ یہ لڑائی قبول کرنا پڑی۔ گیلوئے کو اپنی موت کا یقین تھا۔ ساری رات وہ اپنی ریاضی کی تحقیقات زیادہ واضح کر کے لکھتا رہا۔ ایک جگہ وہ صفحے کے حاشیہ پر لکھتا ہے، کہ "میرے پاس وقت نہیں ہے۔" صبح (30 مئی 1832) دنگل تھا۔ حملہ آور دو تھے، اور گیلوئے کی اپنی رپبلکن پارٹی کے ممبران تھے۔ گولی گیلوئے کے پیٹ سے ہوتی ہوئی پیٹھ میں دھنس گئی۔ قاتل فرار ہو گئے۔ کوئی راہ گزر مسافر گیلوئے کو اٹھا کر ہسپتال لے گیا، جہاں دوسرے دن زخم کی تاب نہ لاتے ہوئےگیلوئے تقریباً بیس برس کی عمر میں چل بسا۔ پوسٹ مارٹم میں ڈاکٹر نے سر کھول کر بھیجہ (دماغ) نکال کر دیکھا کہ اتنے بڑے جینیس کا دماغ کیسا ہوتا ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Mario Livio, The equation that could not be solved, Simon & Schuster Trade, 2005