ہواوے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہواوے ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ
مقامی نام
华为技术有限公司
نجی کمپنی، ملازم-ملکیتی کمپنی
صنعت مواصلاتی آلہ
نیٹ ورکنگ آلہ
صارفی الیکٹرانکس
قیام 1987؛ 32 برس قبل (1987)
صدر مقام شینزین، گوانگڈونگ، عوامی جمہوریہ چین
علاقہ خدمت
عالمگیر
کلیدی افراد
Liang Hua (بورڈ کے صدر نشین)
رین زینفی (سی ای او اور بانی)
منگ وانزو (نائب صدر، سی ایف او)
Zhou Daiqi (پارٹی کمیٹی سیکریٹری)
Guo Ping (Rotating chairman of the board)
Xu Zhijun (Rotating chairman of the Board)
Hu Houkun (Rotating chairman of the Board)
مصنوعات موبائل اور بروڈبینڈ نیٹ ورک، مشاورتی اور انتظامی خدمات، ملٹی میڈیا ٹیکنالوجی، اسمارٹ فون، ٹیبلٹ کمپیوٹر، ڈونگل
آمدنی Increase2.svg CN¥603.621 بلین امریکی ڈالر92.549 بلین (2017ء)[1]
Increase2.svg CN¥56.384 بلین امریکی ڈالر8.645 بلین (2017ء)[1]
Increase2.svg CN¥47.455 بلین امریکی ڈالر7.276 بلین (2017ء)[1]
کل اثاثے Increase2.svg CN¥505.225 بلین امریکی ڈالر77.462 بلین (2017ء)[1]
کل ایکوئٹی Increase2.svg CN¥175.616 بلین امریکی ڈالر26.926 بلین (2017ء)[1]
مالک
  • ہواوے انویسٹمنٹ اینڈ ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (1987ء – تاحال)[2]
ملازمین کی تعداد
تخمیناً 180,000 (2017ء)
ذیلی ادارے ہائی سلیکون
آنر
ویب سائٹ huawei.com

ہواوے ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (/ˈhwɑːˌw/؛ آسان چینی: 华为; روایتی چینی: 華為; پینین: اس آڈیو کے متعلق Huáwéi) ایک چینی کثیر القومی کمپنی ہے جو مواصلاتی آلات اور صارفی الیکٹرانکس تیار کرتی ہے۔ کمپنی کا صدر دفتر شینزین میں واقع ہے۔

پیپلز لبریشن آرمی کے ایک سابق ملٹری انجینئر، رین زینفی نے 1987ء میں ہواوے کی بنیاد رکھی۔ اپنے قیام کے وقت، ہواوے کی توجہ فون کے سوئچ بنانے پر مرکوز تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ کار مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر، چین کے اندر اور باہر اداروں کو آپریشنل اور |مشاورتی خدمات اور آلات فراہم کرنے، اور بازارِ صارفین کے لیے مواصلاتی آلات تیار کرنے تک پھیلتا گیا۔ ستمبر 2017ء میں ہواوے کے ملازمین کی تعداد 170,000 سے زائد تھی، جن میں سے 76,000 ملازمین تحقیق و تعمیر (R&D) میں مشغول تھے۔ ہواوے کے تحقیقی ادارے چین، ریاست ہائے متحدہ، کینیڈا، مملکت متحدہ، پاکستان، فن لینڈ، فرانس، بیلجیم، جرمنی، کولمبیا، سوئیڈن، آئرلینڈ، بھارت، روس، اسرائیل اور ترکی میں موجود ہیں۔ 2017ء کے مطابق، کمپنی تحقیق و تعمیر میں 13.8 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکی ہے، جبکہ 2013ء میں یہ رقم 5 بلین امریکی ڈالر تھی۔

ہواوے اپنی مصنوعات اور خدمات 170 ممالک میں پیش کرتی ہے، اور اس کے 1,500 سے زائد نیٹ ورکس کی رسائی دنیا کی ایک تہائی آبادی تک ہے۔ ہواوے نے 2012ء میں ایریکسن کو پیچھے چھوڑ دیا جو دنیا کی سب سے بڑی مواصلاتی آلات بنانے والی کمپنی تھی۔ 2018ء میں ہواوے نے ایپل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، سیمسنگ الکٹرونکس کے بعد اسمارٹ فون بنانے والی دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا مقام اپنے نام کرلیا۔ فورچیون گلوبل 500 کی فہرست میں اسے 72واں درجہ حاصل ہے۔ دسمبر 2018ء میں ہواوے کی رپورٹ کے مطابق اس کی سالانہ آمدن (2017ء کے مقابلے میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ) 2018ء میں 108.5 بلین امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ کمپنی نے اپنی تاریخ میں پہلی بار 100 بلین امریکی ڈالر سالانہ آمدنی کا سنگِ میل عبور کیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے باوجود، ہواوے کو بعض الزامات کی وجہ سے چند خطوں میں مشکلات کا سامنا ہے، جن میں مرکزی کردار ریاست ہائے متحدہ کی حکومت کا ہے۔ ہواوے پر الزام ہے کہ اس کے مواصلاتی ڈھانچوں کے آلات میں ایسا پچھلا دروازہ ہوسکتا ہے جس کے ذریعے چین کے سرکاری ادارے ناجائز نگہداری کے قابل ہوسکیں (اس ضمن میں، خصوصاً، کمپنی کے بانی کا ماضی میں پیپلز لبریشن آرمی سے تعلق کا حوالہ دیا جاتا ہے)۔ سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات کے باعث 5 جی وائرلیس نیٹ ورک کی ڈویلپمنٹ میں ہواوے کو رکاوٹوں کا سامنا ہے اور حکومتی اداروں کی طرف سے کمپنی سے آلات کی خریداری اور ہواوے یا اس کی ساتھی چینی مواصلاتی کمپنی زیڈ ٹی ای کی تیار کردہ مصنوعات استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ کئی بڑی امریکی وائرلیس نیٹ ورک فراہم کنندہ کمپنیوں، بشمول خوردہ فروش بیسٹ بائے نے اوائل-2018ء میں ہواوے کی مصنوعات ہٹانا شروع کردی ہیں اور اسے مذکورہ مارکیٹوں سے باہر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی مصنوعات دیگر کمپنیوں کی مصنوعات سے بڑھ کر سائبر سکیورٹی کا خطرہ نہیں اور جاسوسی کے امریکی الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

یکم دسمبر 2018ء کو، ریاست ہائے متحدہ کی درخواست پر کینیڈا میں ہواوے کی نائب صدر نشین اور چیف فنانشل افسر منگ وانزو کو گرفتار کرلیا گیا[3] اور ان پر ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ "Huawei's 2017 Annual Report: Solid Performance and Lasting Value for Customers" (انگریزی زبان میں)۔ ہواوے۔ 30 مارچ 2018ء۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت); Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  2. ڈین اسٹرمف، من جونگ کم، یفان وینگ (25 دسمبر 2018ء)۔ "How Huawei Took Over the World" (انگریزی زبان میں)۔ دی وال اسٹریٹ جرنل۔ Unknown parameter |trans_title= ignored (معاونت); Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  3. ایوا اونٹیوروس (23 دسمبر 2018ء)۔ "ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ کا آغاز؟"۔ بی بی سی اردو۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)