ہیلن کیلر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہیلن کیلر
(انگریزی میں: Helen Adams Keller ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Helen Keller circa 1920 - restored.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Helen Adams Keller ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 27 جون 1880[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 جون 1968 (88 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایسٹن، کنیکٹیکٹ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات مرض  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن واشنگٹن قومی کیتھیڈرل  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا[8]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت سوشلسٹ پارٹی آف امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ریڈکلف کالج
ہارورڈ یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنفہ،  مضمون نگار،  سیاسی کارکن،  ٹریڈ یونین پسند،  جنگ مخالف کارکن،  ماہرِ لسانیات،  آپ بیتی نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[9]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل مضمون  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
لیبر ہال آف ہانر (2010)
Presidential Medal of Freedom (ribbon).png صدارتی تمغا آزادی  (1964)
Chevalier-legion-dhonneur-empire-1804.jpg لیجن آف آنر  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Helen keller signature.svg
 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ہیلن کیلر 1880 میں امریکا کے ایک قصبہ میں پیدا ہوئی۔ دو سال کی عمر تک ہیلن ایک عام بچی ہی تھی مگر فروری 1882ء میں ننھی ھیلن کیلر بڑی خطرناک طور سے بیمار ہو گئی-اس بیماری نے اس سے اس کے دیکھنے اور سننے کی صلا حیت چھین لی-ہیلن کے والدین کے لیے یقینا یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا مگر انہوں نے اسے جلد ہی قبول کر لیا اور فیصلہ کر لیا کہ ننھی ہیلن کے لیے وہ جو اچھے سے اچھا اور بہتر سے بہتر کر سکے‘ وہ ضرور کریں گے۔ ہیلن کیلر جب سات برس کی ہوئی تو اسے مس سلیون کی شاگردی میں دے دیا گیا۔ مس سلیون نے اپنی اس شاگردہ کو بڑی محنت سے پڑھایا۔ وہ ہیلن کا ہاتھ پانی میں ڈالتی اور اس کا ہا تھ پکڑ کر اسے ریت پر پا نی لکھنا سکھاتی۔ بے شک یہ ایک نہا یت مشکل کام تھا مگر مس سلیون نے ہمت نہ ہاری اور آہستہ آہستہ ہیلن کیلر کو لکھنا سکھایا۔ ہیلن جب آٹھ برس کی ہوئی تو اسے نابینا بچوں کے اسکول میں داخل کرادیا گیا۔ دو سال کی عمر سے ہی بہری اور نا بینا ہو جا نے والی ہیلن کیلر اس وقت تک بولنا تقریبا بھول ہی چکی تھی۔ نا بینا بچوں کے لیے بنائے جانے والے اس اسکول میں ہیلن کی استانیوں نے اس پر بڑی محنت کی۔ وہ اس کے ہاتھ اس کے اپنے ہونٹوں پر رکھتیں اور پھر آہستہ آہستہ اسے کوئی لفظ بولنا سکھایا جا تا۔ ہیلن نے اس سے ملتی جلتی کئی مشقیں کیں اور بالآخر تقریبا دس سال کی عمر میں اس نے پھر سے بولنا شروع کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/118561103  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119095608 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Helen-Keller — بنام: Helen Keller — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cv4gp4 — بنام: Helen Keller — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=567 — بنام: Helen Adams Keller — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/71906 — بنام: Helen Keller — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب بنام: Helen Keller — FemBio ID: http://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=15384 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Банк данных о выдающихся женщинах
  8. ناشر: Alexander Street Press
  9. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119095608 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ