اسقاط (حمل)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
  • اس مضمون میں اسقاط حمل سے متعلق صرف طبی معلومات پر توجہ دی گئ ہے اسکے مذہبی اور اخلاقی پہلوؤں کے لیۓ الگ صفحات درکار ہیں۔
ایک اسقاط شدہ انسانی حمیل (fetus) جو کیمیائی طریقے پر محفوظ کیا جاچکا ہے۔ (حمیل عموما نو ہفتہ کے بعد سے پیدا ہونے تک ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو کہا جاتا ہے)۔

اسقاط کو انگریزی میں abortion کہا جاتا ہے اور سے مراد ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے دوران رحم مادر (uterus) میں موجود بچہ (جو کہ جنین (embryo) یا حمیل (fetus) کے مراحل میں ہوسکتا ہے) رحم سے خارج ہوجاتا ہے جو کہ بچے کی موت کا باعث بنتا ہے (اور یا پھر خود بچے کی موت کے باعث بھی ہوسکتا ہے)۔ اسکا مکمل طبی نام اسقاط حمل ہے کیونکہ اسقاط کا لفظ دیگر مفہوم میں بھی ادا کیا جاتا ہے۔ اسقاط کا عمل ازخود یعنی قدرتی طور پر مائل بھی ہوسکتا ہے اور یا پھر انسانی مداخلت کا پیدا کردہ بھی، اسی بنیاد پر اسکو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
1- مختاری اسقاط (spontaneous abortion) ---- یعنی خود بخود (کسی بھی طبی وجہ سے) ہوجانے والا اسقاط۔ اسکو گرنا (miscarriage) بھی کہا جاتا ہے
2- مائلی اسقاط (induced abortion) ---- یعنی انسان کی مداخلت سے اور جراحی یا کیمیائی طریقوں کے زریعے مائل کیا جانے والا اسقاط

طبی تعریف[ترمیم]

قیام حمل (conception) کے نتیجے میں رحم کے اندر بننے والے حصیلہ یا (product) یعنی بچے کا (جو کہ جنین (embryo) یا ناقابل حیات (nonviable) حمیل (fetus) کے مراحل میں ہوسکتا ہے) قبل از وقت خارج ہوجانا یا نکل جانا اسقاط کہلاتا ہے۔

آسان بیان[ترمیم]

طبیعی اور اوسطاً ایک حمل کی مدت 38 (اگر پچھلے حیض یا ماہواری کے روزِ اول سے گنا جاۓ تو 40) ہفتے ہوتی ہے اور اسکے مکمل ہونے پر بچہ ماں کے پیٹ یا رحم سے باہر آجاتا ہے ۔ اگر کسی بھی (طبیعی یا غیرطبیعی) وجہ سے بچہ قبل از وقت (premature) حمل کی مدت کے 28 ویں ہفتے سے پہلے باہر آجاۓ یا پیدا ہوجاۓ تو ایسی صورت میں اسکا زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا اور اسی صورت حال یا بچے کے قبل از وقت نکل کر ضائع ہوجانے کو ہی اسقاط یا حمل کا گر جانا کہا جاتا ہے۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]