بلگام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بارویں صدی عیسوی میں رٹہ حکومت نے بلگام شہرکو قائم کیا ،جو قریبی مقام سنودتی پر حکومت کرتے تھے۔ بچی راجہ نامی رٹہ افسر نے بلگام کے قلعے کی تعمیر 1204میں کی۔ دیوگیری کے یادوا سلطنت سے ہارنے سے پہلے تک یعنی 1210 تا 1250 بلگام رٹہ سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ پھر بلگام کچھ عرصہ تک دیوگیری کے یادوا کی حکومت میں رہا۔ اسکے بعد دہلی کیل خلجی اور وجئے نگر سلطنت 1300 اور 1336 میں حکومت کئے۔ تقریباً ایک صدی بعد یہ شہر ہیرے اور لکڑی کی تجارت کے لئے مشہور ہو گیا۔ بیدر پر حکومت کر رہی ، بہمنی سلطنت نے 1474 میں بلگام کے قلعہ پر قبضہ کیا ۔ بہمنی 1518 میں حکومت کے پانچ حصوں میں تقسیم ہونے پر بیجاپور میں عادل شاہی حکومت قائم ہوئی اور بلگام اب اسکا ایک حصّہ بن گیا۔ عادل شاہی نے اس قلعہ کو اسکی موجودہ ساخت دی۔ 1686 میں جب اورنگ زیب نے عادل شاہوں کو حکومت سے نکال باہر کیا تو بلگام مغل حکومت کا حصّہ ہو گیا۔ اورنگ زیب کی وفات )1707( کے بعد پعشوا نے اس پر قبضہ جما لیا۔ 1776 میں میسور کے حیدرعلی اس پر قابض ہوئے، لیکن پیشوا نے پھر اسے انگریزوں کی مدد سے دوبارہ حاصل کرلیا۔ 1818 میں انگریزوں نے پیشوا کو ہٹا کر انکی حکومت حاصل کر لی، بلگام بھی اسکا ایک حصّہ تھا۔ ڈسمبر 1924 ممہاتما گاندھی کی صدارت میں ہونے والے 39ویں انڈین نیشنل کانگریس کا 39واں اجلاس بلگام میں رکھا گیا۔بلگام میں انگریزوں نے فوجی لشکر رکھا، کیونکہ یہ گوآ کےباالکل قریب تھا، جہاں پر پرتگالیوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں کے جانے کے بعد اب بھی یہ فوجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ 1961 میں گوآ پر پرتگالیوں کے خلاف حملے کےلئے جواہر لعل نہرو نے اسے استعمال کیا۔ 1947 میں آزادی کے بعد یہ بمبئےریاست کا حصّہ بنا۔ 1956 میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تقسیم کے بعد یہ ریاست میسور کا حصّہ بنا، اور 1972 میں یہ ریاست کا نام بدل کر کرناٹک رکھا گیا۔

2006 میں ریاست کرناٹک نے بلگام کو ریاست کا دوسرا صدر مقام بنایا اور یہ طئے کیا کے یہاں پر سال میں کم سے کم 15 دن کا لیجسلیچر سیشن رکھا جائیگا۔

ڈاکٹرمشتا ق احمد ۔ آئی ۔ پٹیل