بورس یلسن
پیدائش: یکم فروری 1931
انتقال: 23 اپریل 2007ء
جمہوریہ روس کے پہلے صدر۔دسمبر سنہ انیس سو اکنانوے میں انہوں نے سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کے استعفے کے بعد ملک کے پہلے جمہوری صدر کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے انیس سو ترانوے میں پارلیمان میں سخت گیر موقف کے حامل اراکین کے خلاف فتح حاصل کی۔عالمی سطح پر جمہوریت کے محافظ کے طور پر ان کی ستائش کی گئی۔
بورس یلسن کے کیرئر کا اہم موڑ وہ تھا جب انہوں نے میخائل گورباچوف کی بورس یلسن نے انیس سو نوے میں کمیونسٹ پارٹی سے استعفیٰ دیا اور انیس سو اکانوے میں روس کے صدر بنے۔ اسی سال انہوں نے گورباچوف سے اقتدار اپنے ہاتھ لیا اور قیمتوں پرکنٹرول کو ختم کردیا۔ انہوں نے نج کاری کی پالیسی بھی شروع کر دی۔
انیس سو ترانوے میں روس خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ گیا اور صدر بورس یلسن کے حکم سے ٹینکوں سے پارلیمان کی عمارت پر گولے داغے گئے۔
دسمبر انیس سو چورانوے میں انہوں نے چیچنیا میں فوج کشی کا حکم دیا اور دو برس بعد وہ روسی پارلیمان کے دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔انیس سو ننانوے میں انہوں نے خود کو اقتدار سے علیحدہ کر لیا اور موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ اس وقت ان کی مقبولیت بہت کم ہو چکی تھی اور ملک معاشی طور پر مسائل کا شکار تھا۔دل کے عارضے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔
| ویکیمیڈیا العام میں بورس یلسن سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |