حسابان کا بنیادی قضیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Topics in Calculus

Fundamental theorem
Limits of functions
Continuity
Mean value theorem

حسابان کا بنیادی قضیہ رشتہ بتاتا ہے حسابان کے دو مرکزی عالجوں کے درمیان: تفریقی اور تکامل۔ قضیہ کا پہلا حصہ بتاتا ہے کہ کہ غیرواضح تکامل[1] کو تفریق کے زریعہ الٹایا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ اسلئے بھی اہم ہے کیونکہ یہ استمری دالہ کے مشتق شکن کے وجود کی ضمانت دیتا ہے۔ [2]

دوسرا حصہ کسی دالہ کے لامتناہی مشتق شکنوں کی مدد سے دالہ کے واضح تکامل کی شمارندی کرنے کی سبیل فراہم کرتا ہے۔ اطلاقیہ میں یہ حصہ اسلئے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ واضح تکامل کی شمارندی نمایاً آسان بناتا ہے۔

پہلی بار ثبوت کے ساتھ ابتدائی ہئیت میں یہ قضیہ جیمز گریگری نے شائع کیا۔ [3] اس کے بعد اسحاق بارو، اور بالآخر حسابان کی ترقی کے ساتھ لائبنز اور نیوٹن نے پیش کیا۔

طبیعیاتی وجدان[ترمیم]

وجدانی طور پر، اس قضیہ کا سادہ بیان ہے کہ مقدار میں وقت (یا کسی اور مقدار) کے ساتھ صغاریہ تبدیلیوں کا حاصل جمع برابر ہوتا ہے مقدار میں خالص تبدیلی کے۔

سیدھی لکیر میں سفر کرتے ذرہ کے مقام x کو وقت t کے دالہ کے طور پر x(t) لکھا جاتا ہے، یعنی وقت t پر ذرہ کا مقام x(t) ہے۔ اس دالہ کا مشتق برابر ہے مقام میں صغاریہ تبدیلی dx جو وقت کے صغاریہ وقفہ dt میں رونما ہوتی ہے (مشتق خود بھی وقت کا تابع ہے)۔ اس ہٹاو میں تبدیلی فی "وقت میں تبدیلی" ذرہ کی سمتار v ہے۔ لائیبنز کی علامت میں:

\frac{dx}{dt} = v(t).

یعنی سمتار v مشتق ہے مقام x(t) کا۔

اس مساوات کو نئی مرتب سے لکھ کر، پتہ چلتا ہے کہ

dx = v(t)\,dt.

اوپر کی منطق سے، x میں تبدیلی (یا Δx) حاصل جمع ہے صغاریہ تبدیلیوں dx کی۔ یہ مشتق اور وقت کے صغاریہ حاصل اضراب کی حاصل جمع کے برابر بھی ہے۔ یہ لامتناہی حاصل جمعائی ہے "تکامل": لہذا تکامل عالج اصل دالہ کو اس کے مشتق سے حاصل کرنے کو ممکن بناتا ہے۔ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے ہے کہ یہ عمل الٹا بھی چلتا ہے؛ تکامل کے نتیجہ کو تفریق کر کے اصل دالہ کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔


رسمی بیانات[ترمیم]

حسابان کے بنیادی قضیہ کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ مشتق شکن کے مشتق سے معاملہ کرتا ہے، اور دوسرا حصہ مشتق شکن اور واضح تکامل کے رشتہ سے معاملہ کرتا ہے۔

پہلا حصہ[ترمیم]

اس حصہ کو بعض اوقات حسابان کا پہلا بنیادی قضیہ کہا جتا ہے۔ [4]

حقیقی قدر دالہ F بند وقفہ [ab] پر تعریف ہوتی ہے، وقفہ [ab] میں تمام x کے لیے، یوں

F(x) = \int_a^x f(t)\, dt\,,

جہاں ƒ حقیقی قدر استمری دالہ ہے وقفہ [ab] پر۔ پھر F استمری ہو گی وقفہ [ab] پر، اور کھلے وقفہ (ab) پر تفریقی، اور مزید

F'(x) = f(x)\,

وقفہ (ab) میں تمام x کے لیے۔

دوسرا حصہ[ترمیم]

اس حصہ کو بعض اوقات حسابان کا دوسرا بنیادی قضیہ کہا جاتا ہے۔[5]

چلو بند وقفہ [ab] پر ƒ حقیقی-قدر دالہ ہو جو اپنا مشتق شکن F رکھتا ہو وقفہ [ab] پر،

f(x) = F'(x).\

اگر ƒ وقفہ [ab] پر قابلِ تکامل ہو تو

\int_a^b f(x)\,dx\, = F(b) - F(a).

یہاں دالہ ƒ کے استمری ہونے کی شرط نہیں۔

جب مشتق شکن F وجود رکھتا ہو، تو ƒ کے لامتناہی مشتق‌شکن ہوتے ہیں، جو F میں تعسّفی دائم جمع کرنے سے حاصل ہوتے ہیں (جو تفریق میں گُم جاتا ہے)۔ قضیہ کے پہلے حصہ کی رُو سے ƒ کے مشتق شکن ہمیشہ وجود رکھتے ہیں جب ƒ استمری ہو۔


  1. ^ More exactly, the theorem deals with definite integration with variable upper limit and arbitrarily selected lower limit. This particular kind of definite integration allows us to compute one of the infinitely many antiderivatives of a function (except for those which do not have a zero). Hence, it is almost equivalent to indefinite integration, defined by most authors as an operation which yields any one of the possible antiderivatives of a function, including those without a zero.
  2. ^ Spivak, Michael (1980), Calculus (2nd ed.), Houstan, Texas: Publish or Perish Inc. 
  3. ^ See, e.g., Marlow Anderson, Victor J. Katz, Robin J. Wilson, Sherlock Holmes in Babylon and Other Tales of Mathematical History, Mathematical Association of America, 2004, p. 114.
  4. ^ Apostol 1967, §5.1
  5. ^ Apostol 1967, §5.3