دی لارڈ آف دی رنگز (فلمی سلسلہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یہ مضمون 2001 تا 2003 میں بننے والی فلمی سلسلے پر ہے۔ کتب کے بارے میں جاننے کیلئے دی لارڈ آف دی رنگز دیکھیئے۔
دی لارڈ آف دی رنگز
دی لارڈ آف دی رنگز (فلمی سلسلہ).jpg
ہدایات پیٹر جیکسن
تخلیق پیٹر جیکسن
بیری اؤسبورن
فرین والش
مارک اورڈیسکی
موسیقی ھاورڈ شور
عکسبندی اینڈرو لیزنی
تقسیم کاری نیو لائن سنیما
نمائش 2001–2003
وقت دورانیہ 558 منٹ
ملک نیوزی لینڈ
امریکہ
زبان انگریزی
میزانیہ 285 ملین ڈالر

دی لارڈ آف دی رنگز (انگریزی: The Lord of the Rings) ایک سہ المیہ فلمی سلسلہ ہے جو کہ جے آر آر ٹولکین کی لکھی کُتب پر مبنی ہے۔ یہ سلسلہ تین مُختلف فِلموں پر مُشتمل ہے اور اِسکے ہدایتکار پیٹر جیکسن ہیں۔ اِن فِلموں میں دی فیلوشپ آف دی رنگز (2001)، دی ٹو ٹاورز (2002) اور دی ریٹرن آف دی کنگ (2003) شامل ہیں۔ اِن فِلموں کی تقسیم کاری نیو لائن سنیما نے کی۔

فلمی دنیا کا یہ ایک اولوالعزم اور بڑے پیمانے کا منصوبہ تھا۔ اِن فِلموں کا کُل میزانیہ 285 ملین ڈالر تھا اور اِس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے میں 8 سال لگ گئے۔ تینوں فلموں کو بیک وقت پیٹر جیکسن کے آبائی ملک نیوزی لینڈ میں فلمایا گیا۔ فلمائی گئی کہانیاں کتابوں کی کہانیوں سے با احترام مشابہت رکھتی تھیں، اگرچہ کتابوں کے کچھ حصّے فلم کی حتمی تخلیق سے نظر انداز اور ترک کر دئے گئے تھے۔

اِن فلموں کی کہانی ایک فرضی وسطی زمین پر مبنی ہے جہاں آدمی، ہابٹ، بونے، ائلف اور اس طرح کی دیگر جادوئی مخلوقات شانہ بشانہ ایک دھرتی پر رہتے ہیں۔ فلم کے عنوان پر مبنی کردار دراصل اِس کہانی کا مرکزی حریف ہے جسکا نام لارڈ ساؤرن ہے۔ اِسکی موت کے بعد اِسکی طلسمی انگوٹھی ایک فروڈو بیگنز نامی ہابٹ کے ہاتھ پڑھ جاتی ہے۔ یہ کہانی اِسی ہابٹ کے سفر کو بیان کرتی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اِس وسطی زمین کی شیطانی طاقتوں سے یہ ننھا ہابٹ اپنے دوستوں سمیت لڑتا ہے۔

عالمی فلمی دنیا میں اِن فلموں کو زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ ہالی وڈ میں 2001 تا 2004 انعقاد کردہ سالانہ اکیڈمی ایوارڈز کی تقریبات میں اِن فلموں کو 30 اعزازات کے لیے نمائندگیاں حاصل ہوئیں جن میں سے یہ کُل 17 اعزازات جیت بھی گئیں۔ اِن اعزازات میں دی ریٹرن آف دی کنگ کو ہی محض 11 اکیڈمی ایوارڈ اعزازات حاصل ہوئے۔ اِس طرح بین-ہر اور ٹائٹینک کے شانہ بشانہ یہ فلم اُن فلموں کی فہرست میں شامل ہو گئی جن کو گیارہ (11) یا زائد اعزازات حاصل ہوئے۔ اس سہ المیہ فلمی سلسلہ کو اسکے اختراعی بصری اثرات (visual effects) کیلئے خوب سراہا گیا۔

فلم کو بنانے کا منصوبہ[ترمیم]

ہدایتکار پیٹر جیکسن کا پہلی مرتبہ دی لارڈ آف دی رنگز کی ناول سے تعارف 1978 میں رؤلف بخشی کی متحرک کارٹون فلم دی لارڈ آف دی رنگز دیکھنے کے بعد ہوا۔ جیکسن چاہتے تھے کہ اِس فلم کو دیکھنے کے بعد وہ ناول کے بارے میں بھی جان سکیں۔ سترہ سال کی عمر میں اُنہوں نے ویلنگٹن سے آکلینڈ جاتے ہوئے 12 گھنٹے کی ریل کے سفر میں پوری کتاب پڑھ ڈالی۔

جب 1995 میں جیکسن نے اپنی فلم دی فرائٹنرز پر کام ختم کیا تو اُنہوں نے پہلی مرتبہ دی لارڈ آف دی رنگز پر کام کرنے کا سوچا۔ وہ یہ سوچ کر بھی حیران ہوا کرتے تھے کہ آج تک کسی نے اِس کہانی کو فلمایا کیوں نہیں۔

طرحبندِ پیداوار[ترمیم]

جیکسن اپنے وسطی زمین کے مخصوص نظریے کو تکمیل تک لانے کیلئے ایک نئی اور حقیقت پر مبنی دنیا کو ایجاد کرنا چاہتے تھے۔ رینڈی کوک کے مطابق جیکسن کا یہ نظریہ دو اور تخلیق کاروں، رے ہیری‏ہاؤسن اور ڈیوڈ لین، کے کاموں سے کافی مشابہت رکھتا تھا۔ چنانچہ، اِس نظریے کو فلمانے کیلئے نیوزی لینڈ کی فوج نے جیکسن کیلئے ایک مخصوص علاقے کو تیار کرنا شروع کر دیا جس کو ہابٹن کا نام دیا گیا۔ عموماً جہاں فلموں میں سیٹ کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے، وہاں مقامی فوج نے اس علاقہ کو اصلی پیڑ پودوں سے بھی سجایا اور اِن کے گرد ایک گاؤں کو بھی فروغ دیا۔ اژدہات کو بھی اس طرح بنایا گیا کہ ان کے پر اصلی چڑیا کے پروں کی مانند کام کر سکتے تھے۔ اِن تین فلموں میں استعمال ہونے والے زرہ بکتروں کی کل تعداد 48،000 تھی اور ساتھ میں 500 کمان اور 10،000 تیر بھی ویٹا ورکشاپ کی زیر نظر بنائے گئے۔

ستارے[ترمیم]

کردار فلم
دی فیلوشپ آف دی رنگز دی ٹو ٹاورز دی ریٹرن آف دی کنگ

مرکزی کرداروں کی رفاقت

ایراگورن ویگو مورٹینسین
فروڈو بیگنز ایلاائیجہ ووڈز
بورومیر شان بین
میریاڑوک برینڈیبک (میری) ڈومینک موناھیں
سیموائز گامجی شان آسٹن
گینڈالف ایئن مکیلین
گیملی جان ریز-ڈیویز
لیگولاس اورلانڈو بلوم
پیریگرین ٹوک (پیپن) بیلی بوائڈ

تاریخی کردار

ڈیئاگول تھوماس رابنز
ائلینڈیل پیٹر مکنزی
گل-گیلیڈ مارک فرگیؤسن
ایزیلڈور ھیری سنکلیئر ھیری سنکلیئر