رؤف دینک تاش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رؤف دینک تاش

ترک قبرصی لیڈر ۔ 1924ء میں موضع کیتمہ نزد پافوس میں پیدا ہوئے ۔ والد جج تھے ۔ قبرص میں تعلیم پائی ۔ 1944ء میں وکالت شروع کی ۔ 1949ء میں اٹارنی جنرل آفس میں جونیئر کروان کونسل مقرر ہوئے اور چار سال بعد کراؤں کونسل بنا دیے گئے ۔ 1956ء میں سالیسٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1957ء میں فیڈریشن آف ٹرکش ایسوسی ایشنز کے چیرمین منتخب ہوئے۔ 1959ء میں ترک قبرصی وفد کے قائد کی حیثیت سے ایتھنز کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1960ء میں ٹرکش کمیونل چیمبر کے صدر منتخب ہوئے۔

1964ء میں لندن کانفرنس میں انھوں نےقبرصی ترکوں کے وفد کی قیادت کی ۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شریک ہوئے ۔ نیویارک سے واپس آئے تو آرچ بشپ میکایوس نے قبرص میں داخلے پر پابندی لگا دی ۔ اکتوبر 1967ء تک ترکی میں مقیم رہے۔ بعد ازاں خفیہ طور پر قبرص آئے تو یونانی قبرصی پولیس نے گرفتار کرکے نظر بند کردیا۔ عوامی دباؤ کے تحت 13 دن بعد رہا کرکے ترکی بھیج دیا۔ 13 اپریل 1968ء کو قبرص آنے کی اجازت ملی۔ وطن واپس آکر ترکش کمیونل چیمبر کی صدارت کے فرائض سنبھالے ۔ جون 1968ء میں قبرص کے ترک اور یونانی باشندوں کے درمیان مذاکرات میں ترکوں کی ترجمانی کی۔ 15 اگست 1974 ء کو قبرص کے شمالی حصے پر ترک فوجوں کا قبضہ ہوگیا تو دینک تاش نے اعلان کیا کہ قبرص کی تقسیم اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ فروری 1975ء میں قبرص کے ترکوں نے اپنی آزادی کا اعلان کیا ۔ 20 جون کے انتخابات میں رؤف دینک تاش کی قومی اتحاد پارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی اور دینک تاش اس مملکت کے صدر منتخب ہوئے۔