ریفلیزیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
wikipedia:How to read a taxoboxHow to read a taxobox
ریفلیزیا
ریفلیزیا کرائی کا پھول
ریفلیزیا کرائی کا پھول


قـواعـد اسـم بنـدی
ساحہ:
domain
حقیقی المرکزیہ
مملکہ:
kingdome
نباتات
شعبہ:
division
میگنولتات
‏Magnolio-phyta
جماعت:
class
Magnoliopsida
طبقہ:
order

Malpighiales
خاندان:
family
Rafflesiaceae
جنس:
genus
ریفلیزیا
ریفلیزیا

ریفلیزیا (Rafflesia) طفیلی پودوں کا ایک جنس ہے۔ اس میں پندرہ کے قریب انواع شامل ہیں۔ اس جنس کے پودے جنوب مشرقی ایشیا کے بارشی جنگلات میں پاۓ جاتے ہیں۔

اس جنس کو ایک انڈونیشیائی گائیڈ نے 1818ء میں دریافت کیا جو کہ ڈاکٹر جوزف آرنلڈ کے لیۓ کام کر رہا تھا۔ اس مہم کے رہنماء سر تھامس ریفلز تھے۔ ریفلز کے نام پر پودوں کی اس جنس کا نام ریفلیزیا رکھا گیا۔ سر تھامس ریفلز نے سنگاپور کی بنیاد بھی رکھی۔

اس جنس کے پودوں میں جڑ، تنا اور پتے نہیں ہوتے۔ طفیلی بیل کے اوپر پانچ پنکھڑیوں والا ایک پھول کھلتا ہے اس جنس کے پھول جسامت میں بہت بڑے ہوتے ہیں۔

ریفلیزیا جنس کا ایک پھول ریفلیزیا آرنلڈائی کو دنیا کا سب سے بڑا پھول گردانا جاتا ہے اس کا قطر 100 سنٹی میٹر اور وزن 10 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اس پھول کی بو سڑتے ہوۓ گوشت جیسی ہوتی ہے اس وجہ سے اسکا موازنہ ٹائٹان اروم / لوف جسیم سے کیا جاتا ہے۔

ان پھولوں کی جسامت انہیں جنگلی ماحول میں ممتاز بناتی ہے۔ ماہر فطرت ڈیوڈ ایٹن برا اپنی کتاب پودوں کی نجی زندگی Private Life of Plants میں ان کے جسیم ہونے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ طفیلی پودے ہونے کی وجہ سے اپنی افزائش کے لیۓ انہيں اپنے پلے سے تو کچھ نہیں لگانا پڑتا چنانچہ اپنے میزبان سے جتنی توانائی لے سکتے ہیں یہ لیتے ہیں اور دیو قامت ہو جاتے ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا پھول ریفلیزیا آرنلڈائی