سبیالامریان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سبیالامریان Maria Sibylla Merian
پیدائش 2 اپریل 1647 (1647-04-02)
فرینکفرٹ, سلطنت روما
وفات 13 جنوری 1717 (عمر 69 سال)
ایمسٹرڈیم, ہالینڈ
پیشہ سائنسی خاکہ نگار, حشرات دان
وجہِ شہرت عقلیت پسند,دستاویز برائے تتلی دور حیات , سائنسی خاکہ نگاری

سبیالامریان Maria Sibylla Merian جرمن نژاد خاتون (پیدائش 2 اپریل 1647 (1647-04-02) ،وفات 13 جنوری 1717 (عمر 69 سال) ) اپنے دور کی عظیم نقاش و عقلیت پسند خاتون ۔ جنہیں حشرات و نباتات پر ماہرانہ تحقیق کی وجہ سے دنیائے سائنس میں خاص مقام حاصل ہے ۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

مریان سنہ 1647 عیسوی میں فرینکفرٹ ، جرمنی میں کندہ کاری سے وابستہ سوئس گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ تین سال کی عمر میں ان کے والد چل بسے جس کے کچھ عرصے بعد ان کی ماں نے ایک مصورسے شادی کر لی ۔

انہوں نے 13 سال کی عمر میں پہلی بار حشرات اور نباتات کی تحقیقاتی انداز سے تصاویر بنانی شروع کی ۔ 1665 میں میریان نے جوہن اینڈریس گراف سے شادی کی ۔ شادی کے بعد پہلے بچے کی پیدائش کے بعد بھی مریان نے نباتاتی خاکہ نگاری جاری رکھی بلکہ ساتھ ساتھ ہی بڑے گھرانے کی لڑکیوں کو اس کی تعلیم بھی دینے لگیں ۔ اس کے بدلے میں ملنے والی آمدنی سے ان کے حالات بدلے اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے قابل ہوئیں ۔

سبیالامریان

کارہائے نمایاں[ترمیم]

وہ نہ صرف پھولوں کی نقاشی کرتی تھیں بلکہ اسے پڑھاتی بھی تھیں ۔

کندہ کاری کے فن سے خاندانی طور پر وابستہ ہونے کی وجہ سے رفتہ رفتہ وہ اس میں دلچسپی لینےلگیں، شروع میں تتلیوں کے مسحور کن زندگی کےچکرکا گہرا مطالعہ کیا اوربعدازاں اسےایک مضمون کی شکل میں متعارف کرایا۔ [1]

1699ء میں شہر ایمسٹرڈم کی انتظامیہ نے انہيں سرینام (Suriname)جنوبی امریکہ میں تحقیقاتی سفر کے لیے تعاون کی پیشکش کی ۔ جسے انہوں نے قبول کیا ۔ اس سفر میں ان کی بیٹی بھی ان کے ساتھ تھیں ۔

سرینام کا یہ سفر انہوں نے 52 سال کی عمرمیں جہاں انہوں نے بہت سے نئےاقسام کے حشرات الارض دیکھے اورمتاثر ہوئیں ۔ انہوں نے ان میں سے بیشتراقسام کوہالینڈ کی قومی تاریخی ذخیرے کیلئے درآمد بھی کیا۔ مریان نے دو سال تک سرینام میں سائنسی خدمات انجام دیں ۔[2] دوسال بعد ایمسٹرڈیم لوٹنے پرانہوں نےحشرات الارض پر اپنےزندگی بھرکےمطالعے پرمبنی کتاب مرتب کرنا شروع کی جوکہ 1705میں شائع ہوئی۔ جس کا نام تھا Metamorphosis Insectorum Surinamensium

جنوبی امریکہ کے دورے کےدوران انہوں نے ڈچ کالونیوں کا سفربھی کیا اور بہت سے مقامی جانوروں اورپودوں کی تصاویر بنائیں۔انہوں نےمقامی لوگوں اورکالے غلاموں کےساتھ ڈچ زمین داروں کےناروا سلوک پرسخت تنقید بھی کی۔

مریان کی کتاب Metamorphosis insectorum Surinamensium سے ایک خاکہ

اعزازات[ترمیم]

  • بیسویں صدی کے اواخر میں ان کے کام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جرمنی کے 500 جرمن مارک نوٹ کے ڈیزائن میں ان کی تصویر کو شامل کیا گیا ۔ (گو کہ اب جرمنی کی کرنسی یورو ہے )
  • ان کی تصویر کو اعشاریہ 4 جرمن مارک (DM)کی قیمت کے ڈاک ٹکٹ پر بھی چھاپا گیا جو کہ17 ستمبر 1987 کو جاری ہوا ۔
  • جرمنی میں کئی تعلیمی ادارے ان کے نام سے موسوم ہيں ۔
  • 2005 میں ایک عظیم تحقیقاتی ادارہ ماریہ ایس مریان کے نام سے وارن موند جرمنی میں قائم کیا گیا ۔
  • 2 اپریل 2013 کو مشہور سرچ انجن” گوگل” نے سبیالامریان کی 366 ویں سالگرہ کے موقعے پر اپنے صفحہ اول پرڈوڈل کے ذریعےانہیں خدمات کےصلےمیں خراج تحسین پیش کیا ۔

آخری ایام[ترمیم]

اپنی کتاب کی اشاعت کے 10 سال بعد وہ فالج کا شکارہوکرجزوی معذورہوگئیں تاہم 1717ء میں ان کاانتقال ہوگیا۔ان کی موت کے دوسال بعد ان کی بیٹی نےان کےکام کے نمونوں کوشائع کیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

کتاب Metamorphosis insectorum Surinamensium سے تصاویر

حوالہ جات[ترمیم]