عبدالرحمٰن الغافقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عبدالرحمٰن الغافقی (انتقال: 732ء) بنو امیہ کے ایک جرنیل اور اندلس کے گورنر تھے جن کی زیر قیادت اموی افواج نے فرانس پر حملہ کیا اور 10 اکتوبر 732ء میں جنگ ٹورس میں شکست کھائی۔ اس شکست کے نتیجے میں مغربی یورپ میں اسلام کی پیش قدمی ہمیشہ کے لیے رک گئی۔

عبدالرحمٰن کا تعلق یمنی قبیلے غافق سے تھا جو پہلے افریقیہ (موجودہ تیونس) اور بعد ازاں المغرب (موجودہ مراکش) میں قیام پذیر ہوا۔

721ء میں جنگ ٹولوس میں السمح ابن ملک کی ہلاکت کے بعد عبدالرحمٰن نے مشرقی اندلس کی قیادت سنبھالی۔ تاہم عنبسہ بن سحیم الکلبی کی تقرری کے بعد وہ قیادت سے دسبردار ہو گئے۔ 726ء میں عنبسہ کی ہلاکت کے بعد متعدد کمانڈروں نے قیادت سنبھالی لیکن کسی کا دور طویل نہ رہا بالآخر 730ء میں خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے عبدالرحمٰن کو الاندلس کا گورنر/کمانڈر مقرر کیا۔

انہوں نے فرانس پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور کوہ پائیرینیس عبور کرکے بورڈیکس پر قبضہ کر لیا لیکن ان کی فتوحات زیادہ عرصے تک برقرار نہ رہ سکیں اور 732ء میں ٹورس کے مقام پر ہونے والی جنگ میں انہیں چارلس مارٹیل کی زیر قیادت فرانسیسیوں سے شکست ہو گئی۔ اس جنگ میں عبدالرحمٰن بھی کام آئے۔

مسلم اور یورپی دونوں مورخین اس امر پر متفق ہیں کہ جنگ ٹورس (بلاط الشہداء) میں اموی لشکر کو شکست نہ ہوتی تو تمام عیسائی یورپ مسلمانوں کے زیر نگیں ہوتا اور تاریخ بالکل تبدیل ہو جاتی۔ اس شکست کے بعد مسلمانوں نے کبھی فرانسیسی علاقوں پر چڑھائی نہیں کی اور چارلس کی فتح تاریخ عالم کی فیصلہ کن ترین فتوحات میں شامل ہے جس نے مغربی یورپ کو اسلام کے بڑھتے ہوئے طوفان سے بچایا۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ برطانیکا