لوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لوری کوئی بھی گیت جو عورتیں بچوں کو سلانے یا روتے ہوئے بچے کو خوش کرنے کے لیے آہستہ آہستہ گاتی ہیں۔ لوری کی تاريخ کے متعلق، اب تک کی تحقیقات کے مطابق، چار ہزار قبل مسیح میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ لوری برصغیر میں لوک گیتوں کی طرح رائج رہی ہے۔ جس کی ایک ادبی اور مذہی حثییت بھی ہے جیسے جھولنا جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و ثنا کی جاتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

لوری کی تاریخی شہادت جو اب تک دریافت ہوئی ہے، وہ لوری کو دو ہزار قبل مسیح کے دور تک لے جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق دنیا میں پہلی بار لوری بچوں کو سلانے کے لیے ہی گائی گئی تھی اور دو ہزار قبل مسیح میں یہ لوری مٹی کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر تحریر کی گئی تھی جو کھدائی کے دوران ملا ہے۔ اس ٹکڑے کو لندن کے برٹش میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ ہتھیلی میں سما جانے والے مٹی کے اس ٹکڑے پر موجود تحریر ’كيونيفارم سکرپٹ‘ میں ہے جسے لکھائی کی ابتدائی اشکال میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس لوری کو جہاں تک پڑھا جا سکا ہے اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ:

جب ایک بچہ روتا ہے تو گھروں کا خدا ناراض ہو جاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ خطرناک ہوتا ہے۔[1]

لوری کے موضوعات[ترمیم]

لوری کے مضوعات مختلف ادوار میں تھوڑی بہت تبدیلی سے گزرے ہیں۔ کچھ ممالک میں لوری کے اندر خوف اور ڈر کا عنصر غالب ہوتا ہے، جن میں بچے کو کسی ان دیکھی مخلوق یا جنگلی جانور سے ڈرایا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال کنیا کی لوریاں ہیں، جن میں بچوں کو لگڑبھگے سے ڈرایا جاتا ہے۔جو قدیم ترین لوری مانی جاتی ہے اس میں بھی بچے کو دیوتا سے ڈرایا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کی لوری میں عام طور پر بچے کے لیے محبت اور دعا کے الفاظ ملتے ہیں، جبکہ کچھ ایسی لوریاں بھی ہوتی ہیں جن میں الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ صرف آواز ہوتی ہے جیسے اُوں ہُوں ‘ اُوں ہُوں یا آہا آہا وغیرہ۔

اقسام[ترمیم]

نمونہ[ترمیم]

تو ہے پھول میرے گلشن کا تو ہے چاند میرے آنگن کا
غم نہ کبھی تیرے پاس آئے ٰعمر میری تجھے لگ جائے
تیرے بدلے میں جیون بھر تیرا ہر اک دکھ جھیلوں
ٰمیں اپنی سب خوشیاں دے کر تیرے سارے غم لے لوں
خوشیوں میں تو لہرائے ٰعمر میری تجھے لگ جائے

[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]