لگڑبھگا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
wikipedia:How to read a taxoboxHow to read a taxobox
لگڑبھگا (Hyena)
سلسلۂ رکاز: عَصرِ مایوسینی تا تاحال
لگڑبھگا
لگڑبھگا


قواعد اسم بندی
ساحہ:
domain
حقیقی المرکزیہ
مملکہ:
kingdome
حیوانات
جماعت:
class
پستانیہ
پستانیہ
طبقہ:
order

گوشت خور
خاندان:
family

لگڑخن
جنس:
genus


انواع

لگڑبھگا ایک گوشت خور پستانیہ جانور ہے۔ اس کے پائے جانے والے علاقوں میں افریقہ اور ایشیاء کے کچھ علاقے شامل ہیں جہاں اس کی درج ذیل چار اقسام پائی جاتی ہیں۔

  1. دھاریدار لگڑبھگا
  2. بھورا لگڑبھگا
  3. دھبے دار لگڑبھگا
  4. کرم خور لگڑبھگا

ارتقاء[ترمیم]

ایک قدیم دور کے لگڑبھگے کی کھوپڑی

لگڑبھگے پر کی جانے والی تحقیقات کے مطابق اس کا تعلق دوکروڑ ساٹھ لاکھ سال (26 ملین سال) قبل پائے جانے والے آباؤاجداد سے ہے جو آج کے جدید دور میں پائے جانے والے مشک بلاؤ کی مانند تھے۔ قدیم لگڑبھگوں کی دریافت کردہ باقیات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایک قسم یہاں دوکروڑ بیس لاکھ سال (22 ملین سال) قبل یوریشیا میں پائی جاتی تھی۔ کان اور جبڑے کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لگڑبھگا ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ لگڑبھگے کی یہ نوع کامیاب رہی اور اس کی نسل مزید مضبوط جبڑوں، پھرتیلی ٹانگوں اور نوکیلے دانتوں کے حامل پھلتی پھولتی چلی گئی۔ ڈیڑھ کروڑ سال قبل کتے سے ملتے جلتے لگڑبھگے بہت بڑھ گئے، جن کی تیس انواع شناخت کر لی گئی ہیں۔ تاہم آج کے جدید دور کے لگڑ بھگوں کی طرح یہ ہڈیاں نہیں چچوڑتے تھے لیکن بہت چست و چالاک اور بھیڑئیے کی طرح کے جانور تھے۔ کتوں کی طرح کے یہ لگڑبھگے بلیوں کی طرح کے پنجوں کے حامل تھے، جس کی مدد سے ان کی خوراک صرف فقاری جانوروں تک محدود نہ بھی بلکہ یہ بعض اوقات غیر فقاری جانور بھی بطور غذا استعمال کرسکتے تھے۔ [1]

قدیم دور کے لگڑبھگے کا خَد (نچلا جبڑا)

ستر لاکھ سال قبل یہ کتے نما لگڑبھگے شمالی امریکہ سے یوریشیا کی طرف ہجرت کرگئے۔ تاہم اسی کی ایک قسم جس کو کرم خور لگڑبھگا بھی کہا جاتا ہے، اس نے ماحول کے لحاظ سے اپنی خوراک میں تبدیلی یعنی گوشت خور سے کرم خور بن کر اپنی نسل کی بقاء کا سامان مہیا کیا۔ کچھ لگڑ بھگوں نے ہڈیوں کو چچوڑنا شروع کردیا تاکہ دیگر نوکیلے دانتوں والے جانوروں کے مقابلے سے احتراز کیا جاسکے، نتیجتاً ہڈیاں نہ چچوڑنے والے لگڑبھگے ایک الگ ہی نوع یا گروہ بن کر رہ گئے تاہم یہ گروہ بھی ستر لاکھ سال قبل ناپید ہوگیا، اتفاقاً یہ وہی زمانہ تھا جب ہڈیاں چچوڑنے والے لگڑ بھگوں کی انواع پھلنا پھولنا شروع ہوئیں۔ دوسرے نوکیلے دانت والے پستانیوں کے برعکس لگڑ بھگوں کی صرف ایک نوع شمالی امریکہ سے نکلنے میں کامیاب ہوسکی، جوکہ چیتے نما تھی لیکن وہ بھی پندرہ لاکھ سال قبل ناپید ہوگئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مکڈدونلڈ، ڈیوڈ (1992). مخملی پنجہ. pp. 256. ISBN 0-563-20844-9.