لکیری آزادی

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

ایک متغیر \ tکے دالہ کو ہم \ f(t) لکھتے ہیں۔ اگر ایسے دائم اعداد \ a, \, b ہوں، جن کی مدد سے دالہ \ f(t) کو دوسرے دالہ \ g(t), h(t) کے لکیری (راست) تولیف کے طور پر لکھا جا سکے

\  f(t)=a \, g(t) + b \, h(t)

تو دالہ \ f(t) کو باقی دالہ \ g(t), \, h(t) پر لکیری منحصر (آزاد نہیں) کہا جاتا ہے۔ اگر دالہ \ f(t) کو اس صورت میں نہ لکھا جا سکے، تو دالہ \ f(t) کو باقی دالہ \ g(t), \, h(t) سے "لکیری آزاد" کہا جائے گا۔

اگر دالہ \  \{f_n(t)\}, n=0,1,\cdots میں سے کسی بھی دالہ کو باقی ماندہ دالہ کے راست تولیف (جوڑ) کے طور پر نہ لکھا جا سکتا ہو، تو ان دالہ کو باہمی لکیری آزاد کہا جائے گا۔


فہرست

[ترمیم] سمتیہ کی لکیری آزادی

سمتیہ مجموعہ v0,v1,...,vn − 1 کے لکیری تولیف کی اس مساوات

\alpha_0 v_0 +  \alpha_1 v_1+... + \alpha_{n-1} v_{n-1} = \mathbf{0}

کا ایک حل یہ ہے

\alpha_0 =0, \, \alpha_1 =0, ..., \alpha_{n-1} =0

اگر یہی واحد ممکن حل ہو تو سمتیہ مجموعہ لکیری آزاد کہلائے گا۔ اگر اس کے علاوہ بھی کوئی حل ممکن ہو تو سمتیہ مجموعہ لکیری غیر آزاد ہو گا۔ غیر آزادی کی صورت میں ان میں سے کسی بھی سمتیہ کو باقی ماندہ سمتیہ کے لکیری تولیف کے طور پر لکھنا ممکن ہو جائے گا۔

[ترمیم] میٹرکس کی قطاریں اور ستون

یہی اصول کسی میٹرکس کی قطاروں (اور ستونوں) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی میڑکس کی کوئی قطار باقی ماندہ قطاروں کے لکیری تولیف پر لکھی جا سکے تو یہ قطار باقی قطاروں پر لکیری منحصر ہو گی (بدیگر "لکیری آزاد" کہلائے گی)۔ اگر کسی میٹرکس کی کوئی بھی قطار باقی ماندہ قطاروں سےلکیری تولیف کے ذریعہ حاصل نہ کی جا سکتی ہو، تو قطاروں کو باہمی لکیری آزاد کہا جائے گا۔

میٹرکس A کے تمام ستونوں کے باہمی لکیری آزاد ہونے کے لیے لازمی ہے کہ مساوات AX = 0 کا واحد ممکن حل X = 0 ہو۔ یعنی

AX=\mathbf{0} \,\, \Rightarrow  X=\mathbf{0}

اگر صفر سمتیہ کے علاوہ بھی کوئی حل ہو، تو ستون باہمی لکیری آزاد نہیں ہونگے۔ اسی طرح میٹرکس کی تمام قطاروں کے باہمی لکیری آزاد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ

A^tY=\mathbf{0} \,\, \Rightarrow  Y=\mathbf{0}

جہاں At میٹرکس A کے پلٹ کو ظاہر کرتا ہے۔

[ترمیم] اور دیکھو

[ترمیم] بیرونی ربط

E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیۓ     ریاضی علامات