سائیلیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اس صفحہ کا متن درست نظر نہ آنے کی صورت میں اس صفحہ کو موزیلا فائرفاکس Firefox80x15.png ویب براؤزر سے ملاحظہ فرمائیں۔


سائیلیب
Scilab logo small.gif

آپریٹنگ نظام

لینکس، ونڈوز، OS/X، BSD

ویب سائیٹ

www.scilab.org

لاسنس

آزاد مصدر، وقف لاسنس


سائیلیب ایک سافٹ وئیر پیکج ہے، جو کہ ریاضی، سائنس، اور انجنیرنگ کے میدانوں میں کمپوٹنگ کے لیے لازم و ملزوم کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ آزاد مصدر ہے، اور خاص و عام کیلئے وقف، یعنی بغیر قیمت یا اجرت کے دستیاب ہے۔ عام پروگرامنگ زبانوں کے برعکس اس میں "کھلے ڈُلے" ا نداز میں کمپوٹنگ کی جاتی ہے۔ اسے کے علاوہ اس میں ایک سکرپٹنگ زبان میں پروگرام بھی لکھے جا سکتے ہیں۔ ڈیٹا کو پلاٹ کر کے مختلف روپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ طاقتور ٹول باکس پہلے سے موجود ہیں جن کی مدد سے مختلف میدانوں کے مسائل بآسانی حل کیے جا سکتے ہیں۔ قارئین کو سائیلیب کا ذائقہ دینے کیلئے ہم اس میں کمپوٹنگ کے ابتدائی گُر بتاتے ہیں۔ سائیلیب میں متغیر کو پہلے سے متعین کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کی قسم بتانا ہوتا ہے۔ مثلاً
Scilab command window.png


--> a = 2 * %pi  
a= 
6.28318 
--> a = a + 10; 
--> a 
a = 
16.28318 

اگر سطر کے بعد ; نہ لگایا جائے، تو جواب خود بخود دکھائی دیتا ہے۔ وگرنہ آپ متغیر کا نام دے کر اس کی قیمت معلوم کر سکتے ہو۔ سائیلیب میں اعداد کو میٹرکس کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ قطاروں کو ; سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم تین قطاروں اور چار ستونوں کی میٹرکس لکھتے ہیں:


--> C = [  0    11    -2    1   ; 1   12    -3   0   ; -1    10    3    7  ]  ; 
--> C 

C = \begin{bmatrix}
0 &  11 &  -2  & 1 \\
1  & 12 & -3   & 0 \\
 -1&   10 & 3 &  7
\end{bmatrix}


اس میٹرکس کو دو نکتہ اوزار..، جو جاری رکھنے کے معٰنی میں استعمال ہوتا ہے، کے زریعہ بھی لکھا جا سکتا تھا:

--> C = [0    11   -2    1     .. 
-->          1    12    -3   0    .. 
-->         -1    10   3   7  ]   ; 

عام طور پر ریاضی میں میٹرکس کی قطاروں اور ستونوں کا شمار صفر (0) سے شروع کرتے ہیں، مگر سائیلیب میں یہ شمار ایک (1) سے شروع ہوتا ہے۔ میٹرکس کے کسی جُز کو اس کے قطار اور ستون کے زریعہ مخاطب کیا جا سکتا ہے، جیسے:

--> C(2,3) 
ans =
-3.  
--> C(2,3)=100 
C = 

C = \begin{bmatrix}
0 &  11 &  -2  & 1 \\
1  & 12 & 100   & 0 \\
 -1&   10 & 3 &  7
\end{bmatrix}  

میٹرکس کا سائیز دیکھنے کیلئے یوں کرتے ہیں (یہاں میٹرکس C کا سائیز 3 \times 4 ہے):

--> size(C) 
ans = 
3.    4. 
-->  length(C) 
ans =
12. 

میٹرکس کی لمبائی length() ستونوں کے رُخ ناپی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے 100 میٹرکس C کا آٹھواں جُز ہے:

--> find(C==100)  
ans = 
8.  
--> find(C==1) 
ans =
2.    10. 

کولن : کا اوزار، دو اعداد کے حدود میں اعداد پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:

--> 1:7 
ans=
\begin{matrix}
1 & 2 & 3 & 4 & 5 & 6 & 7
\end{matrix} 
--> 7:-1:1 
ans=
\begin{matrix}
7 & 6 & 5 & 4 & 3 & 2 & 1
\end{matrix}
--> 0:2:8 
ans=
\begin{matrix}
0 & 2 &  4  & 6 & 8
\end{matrix} 

اس لیے میٹرکس C کے دوسرے ستون کو : اوزار کے استعمال سے یوں مخاطب کریں گے:

-->// دوسرے ستون کو مخاطب  
--> C(:,2) 
ans = 

\begin{matrix}
  11.  \\
 12.  \\
  10. 
\end{matrix}  
-->// دوسری قطار کو مخاطب  
--> C(2,:) 
ans = 

\begin{matrix}
1. & 12. & 100. & 0.
\end{matrix}  

میٹرکس کا رخ بدلنے کو transpose کہتے ہیں، یعنی ستونوں اور قطاروں کا باہمی تبادلہ۔ اس کے لیے ' کا اوزار ہے۔

--> B = [1:3;  4:6] 
B = 
\begin{bmatrix}
1 & 2 &  3 \\
4  & 5 & 6
\end{bmatrix} 
--> B' 
ans = 
\begin{bmatrix}
1   & 4 \\
2  & 5  \\
3 & 6
\end{bmatrix}

سائیلیب کی سکرپٹنگ زبان میں آسانی سے پروگرام لکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر ہمیں ایک سے لے کر دس تک نمبروں کا مربع لے کر ان سب کو جمع کرنا ہے تو یوں سکرپٹ لکھا جا سکتا ہے:

--> v = [1:10] ;  
--> s = 0 ; 
--> for k=1:10 
--> s = s + v(k) * v(k) ;    
--> end  
--> s 
s = 
385 

یہ سکرپٹ عام پروگرامنگ زبانوں کی طرح ہے۔ مگر میٹرکس کی زبان میں اس کے زیادہ آسان طریقے ہیں، جو سائیلیب میں فوقیت پاتے ہیں۔ دیکھو:

--> v=[1:10] ;  
--> v2 = v .^ 2 ;  
v2 = 
\begin{bmatrix}
1 & 4 & 9 & 16 & 25 & 36 & 49 & 64 & 81 & 100
\end{bmatrix}  
--> sum(v2) 
ans = 
385 

اوپر مربع کے اوزار ^ سے پہلے ڈاٹ . ڈالنے سے مراد ہے کہ میٹرکس کے ہر عنصر کا علیحدہ علیحدہ مربع نکالا جائے۔ اس سے بھی آسان طریقہ " میٹرکس ضرب" کے زریعہ ہے:

--> v=[1:10] ;  
--> v 
ans =
 \begin{bmatrix}
1 & 2 & 3 & 4 & 5 & 6 & 7 & 8 & 9 & 10
\end{bmatrix} 
--> v' 
ans = 
\begin{bmatrix}
1 \\ 2 \\ 3 \\ 4 \\ 5 \\ 6 \\ 7 \\ 8 \\ 9 \\ 10
\end{bmatrix} 
--> v * v' 
ans = 
385 

عام طور پر کسی بھی اوزار سے پہلے ڈاٹ ڈالنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ میٹرکس کے ہر عنصر پر علیحدہ علیحدہ عمل کیا جائے۔ مثلاً، نیچے پہلی ضرب میٹرکس کے ہر عنصر کی اپنے ہم منصب عنصر سے ضرب ہے۔ جبکہ دوسری صورت " میٹرکس ضرب" ہے:


A=\begin{bmatrix}
1 & 2  \\
3  & 4
\end{bmatrix}

A   .*  A =\begin{bmatrix}
1 & 4  \\
9  & 16
\end{bmatrix}
\,\,,\,
A * A =\begin{bmatrix}
7 & 10  \\
15  & 22
\end{bmatrix}

سائیلیب اعداد کو مختلط (کمپلکس) تصور کرتی ہے۔ مختلط نمبر یوں لکھتے ہیں:

--> x = 7 + 5 * %i  
x = 
7 + 5.i 
--> sqrt(-64) 
ans = 
   8.i  

اب ہم ایک سائین (sine) لہر کا ایک وقفہ بناتے ہیں، اور اس کو پلاٹ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس لہر کا "جزر اوسط مربع" نکالتے ہیں:

Scilab plt1.png

--> t=[0: .001: 1] ;  
--> x = sin(2 * %pi  .* t) ;  
--> plot(t, x) ; 
--> sqrt( x * x' / length(x) ) 
ans = 
0.7067535 

مفید کلیہ کو فنکشن کی صورت لکھا جا سکتا ہے، جسے بعد میں بآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مستطیل منشور (rectangular prism) کی چھ سطحوں کا رقبہ یوں تعریف کیا جا سکتا ہے:

--> function y=surfaceArea(a,b,c)
--> y=2*(a*b+a*c+b*c);
--> endfunction

اور اسے ایسے استعمال کیا جا سکتا ہے (مستطیل منشور جسی کی لمبائی، چوڑائ، اور گہرائ، 3، 4، اور 5 ہے کی تمام سطحوں کا رقبہ 94 ہو گا):

--> S=surfaceArea(3, 4, 5)
--> S = 
--> 94.

کسی موضوع پر مدد درکار ہو تو

Scilab help browser.png
--> help

مدد کا براؤزر کھل جائے گا۔

تاریخ[ترمیم]

سائیلیب پر ایک اعتراض یہ تھا کہ اس کا اجازہ مکمل طور پر آزاد نہیں۔ چنانچہ 2008 میں سائیلب نے اپنا اجازہ GNU کر دیا۔ اس کے ساتھ اخراجہ 5 جاری ہوا جس کا سطح البین جاوا میں ہے۔ اس تبدیلی پر سب خوش نہ تھے۔ چند اساتذہ اکرام نے روایتی سطح البین جو GTK پر مبنی ہے کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے scicoslab منصوبہ کا آغاز کر دیا۔[1]


اور دیکھو[ترمیم]

سانچہ:ویکی کتب

بیرونی روابط و حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ SciCosLab