محمود احمدی نژاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمود احمدی‌نژاد


چھٹے صدر ایران
برقرار
برسر منصب 
3 اگست 2005
نائب صدر پرویز داؤدی
محمد رضا رحیمی
Supreme Leader آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای
پیشرو محمد خاتمی

مئیر تہران
در منصب
20 جون 2003 – 3 اگست 2005
نائب علی سعیدلو
پیشرو محمد حسن مالکمدنی
جانشین محمد -باغر غالباف

در منصب
1 مئی 1993 – 28 جون 1997
پیشرو حسین طاہری (مشرقی آذربائیجان)
جانشین جاوید نگاراندہ

پیدائش 28 اکتوبر 1956 (1956-10-28) ‏(58)
آرادان, پہلوی خاندان (ایران)
سیاسی جماعت Alliance of Builders of Islamic Iran
(2003–تا حال)
دیگر سیاسی
الحاقات
جامعه اسلامی مهندسین (1990–2005)
ازواج اعظم فراحی (1981–تا حال)[1]
بچے مہدی
علی رضا
فاطمے
سکونت سعدآباد محل (سرکاری)
گیشا (ذاتی)
مادر علمی جامعہ علم و صنعت ایران
پیشہ مہندس مدنی
مذہب اثنا عشریہ شیعہ
دستخط محمود احمدی نژاد کا نمونۂ دستخط
موقع جال Official website

موجودہ ایرانی صدر۔ 28 اکتوبر 1956ء کو گامسر کے قریب ایک گاؤں میں ایک لوہار کے گھر پیدا پیدا ہوئے۔ عمر ایک سال کی تھی جب خاندان نے تہران کی طرف نقل مکانی کی۔ انقلاب ایران میں پاسداران سے وابستہ رہے۔ ان پر امریکہ سفارت خانے پر حملہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

تہران کی شہرداری[ترمیم]

2003ء میں تہران کے شہردار بنے۔ میئر کی نامزدگی سے پہلے بہت کم لوگ ان کے نام سے واقف تھے۔جب تہران کا میئر نامزد کیا گیا تو انہوں نے اپنے پیشرو اصلاح پسند میئر کی طرف سے کی جانے والی بہت سے تبدیلیوں کو ختم کر دیا۔ محمود احمدی نژاد نے شہر میں مغربی طرز کے ’فاسٹ فوڈ‘ ریستوران ختم کر دیے اور بلدیہ کے مرد ملازمین کے لیے لمبے بازوؤں والی قمیضیں پہننے اور داڑھیاں رکھنے کے احکامات جاری کیے۔ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی نے احمدی نژاد کے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ عام حالات میں شہر کا میئر کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کرتا تھا۔

احمدی نژاد نے ایک اشتہاری مہم پر بھی پابندی لگا دی جس میں فٹ بال کے برطانوی کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم کو دکھایا گیا تھا۔ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں کسی بھی اشتہاری مہم میں مغرب سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کو نہیں دکھایا جا سکتا۔

محمود احمدی نژاد دارالحکومت تہران کے میئر ہونے کے باوجود ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے رہے اور میئر کی سرکاری رہائش گاہ استعمال نہیں کی۔ انہوں نے سرکاری گاڑی بھی استعمال نہیں کی۔

صدارتی انتخاب[ترمیم]

جب انہوں نے 2005ء میں صدارت کا انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تب بھی وہ ایران کی قومی سیاست میں کوئی جانا مانا نام نہیں تھے۔لیکن صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں انہوں نے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کے بعد سب سے زیادہ ووٹ لے کر مبصرین کو حیران کر دیا اور یوں دوسرے مرحلے میں وہ ہاشمی رفسنجانی کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے۔صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں کوئی امیدوار مقررہ پچاس فیصد ووٹ لینے میں ناکام رہا تھا جس کے بعد پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ ووٹنگ ہوئی۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں احمدی نژاد نے باسٹھ فیصد جب کے ان کے مد مقابل سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے چھتیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔انتخابات جیتنے کے بعد محمود احمدی نژاد نے انقلابِ ایران کی اسلامی اقدار اور ایران کو تیل سے حاصل ہونے والی دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیا۔

ایران کے غریب صوبوں میں احمدی نژاد کے حق میں بھاری تعداد میں ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ احمدی نژاد نے ایران کے پسے ہوئے اور معاشی طور پر پسماندہ طبقوں کی معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔انتخابی مہم کے دوران انہوں نے ملک سے بدعنوانیوں اور کرپشن کو ختم کرنے اور زوال پذیر مغربیت سے بھی نجات دلانے کے وعدے کیے تاہم ان کے مدمقابل ہاشمی رفسنجانی اصلاحات اور مغربی ممالک اور امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کی بات کرتے رہے۔

صدر بننے کے بعد امریکی مخالفت کا شدت سے سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ایٹمی پروگرام پر بھی عالمی اعتراض کی وجہ سے مسلسل ان پر دباؤ بڑھتا رہا۔ لیکن ان حالات میں بھی انہوں نے حالات کا مقابلہ کیا۔ اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات نے کئی دفعہ عالمی سطح پر متنازع حیثیت حاصل کی۔ احمدی نژاد امریکی اور مغربی دنیا میں جتنے غیر مقبول ہیں اتنے ہی اپنے عوام میں وہ ہردلعزیزرہے ہیں۔ کیونکہ ان کا انتخاب ہی امریکہ دشمنی کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

دوبارہ انتخاب[ترمیم]

12 جون 2009 میں ہونے والے انتخابات میں احمد نژاد نے واضح اکثریت حاصل کی اور دوسری مرتبہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی میں نچلے اور غریب طبقے کے عوام نے کافی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مخالف امیدوار موسوی نے ان پر دھاھندلی کے بھی الزامات لگائے۔

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]