مختاراں مائی
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مختاراں مائی (اصل نام 'مختاراں بی بی') کو پنجاب کے گاؤن میرانوالہ کی پنچائیت کے حکم پر 2002ء میں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ افراد کو اس الزام میں موت کی سزا سنائی۔ عدالت عالیہ لاہور نے عدم ثبوت کی بناء پر پانچ ملزمان کو رہا کر دیا اور ایک کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ بعد میں عدالت اعظمی نے اس فیصلہ کو برقرار رکھا۔[1] واضح رہے کہ رہا ہونے والے پانچ افراد اب تک سات سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ عدالت کے فیصلہ پر پاکستان کی "انسانی حقوق" انجمان نے مایوسی کا اظہار کیا۔[2]
مختاراں کے زنا کا شکار ہونے کے بعد اس واقعہ کے خلاف مختلف تنظیموں نے انصاف کے لیے مہم چلائی اور مختاراں کو مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کوشش پر سراہا گیا۔ مغربی ممالک نے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے نام پر مختاراں مائی کی زبردست پذیرائی کی۔
- ^ "مختاراں مائی فیصلہ، پانچ ملزمان رہا، ایک کو عمر قید". بی بی سی موقع جال. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110421_mukhtarah_mai_rwa.shtml. Retrieved 22 April 2011.
- ^ برون وِن کرَّن (30 اپریل 2011ء). "Mukhtaran Mai: the other side of the story". دی نیوز. http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=44406&Cat=9. Retrieved 1 July 2011.