کتب خانہ پرگامم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یہ ایک عظیم کتب خانہ تھا جو اپنے متنوع مطالعاتی مواد کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا تھا۔ جس سے علم کا ایک نیا روشن باب طلوع ہوا۔

تاریخ[ترمیم]

اس کی بنیاد ایک صاحب ثروت اور مخیر شخصایٹالڈز197ق-م نے ایشاۓ کوچک میں ّپرگاممکے مقام پر رکھی۔ یہ کتب خانہ، کتب خانہ اسکندریہکے ہم پلہ تھا۔یومینس دوم (Eumenes-II)کے عہد میں اس کتب خانے کو ہر لحاظ سے ترقی دی گی۔اسی حکمت عملی کو اس کے جانشینون نے اپنا کر اپنی روایتی علم دوستی کا ثبوت دیا۔ارسطوکے کتب خانے کا ایک بڑا حصہ بھی اس کتب خانے میں شامل تھا۔

ذخیرہ کتب[ترمیم]

پرگامم شہر علم و فن اور کتابوں کی سرپرستی کے لیے اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ مصریوں کو قرطاس مصری کی درآمد پر روم کے لیے پابندی عا‏ئد کرنا پڑی تاکہ کتابوں کی نقل نویسی اور ان کی تجارت میں بے پناہ اصافہ کی حوصلہ شکنی ہو۔ جس کے نتیجے میں چرمی کاغذکی رنگی ہوئی کھال کو تحریری موادکے پر کاغذکی جگہ استعمال ہوا۔ یہ چرمی کاغذ، قرطاس مصری کے مقابلے میں دیرپا، نرم اور ہموار سطح کی وجہ سے زیادہ مقبول تحریری مواد ثابت ہوا۔چوتھی صدی میں چرمی کاغذ قرطاس مصری پر سبقت لے گیا۔زرتشتی مذہب کی مقدس کتابژنداوستابھی اسی چرمی کاغذ پر سنہری روشناہی سے لکھی گئی۔یہ کتب خانہ بھی نینوا،بابلاوراسکندریہکے کتب خانوں سے کسی طرح کم اہمیت کا حامل نہیں تھا۔

تنظیم[ترمیم]

اس کتب خانے میں تصنیف و تالیف کا کام اتنی سرگرمی سے جاری رہا کہ بطلیموسسوم نے قرطاس مصری کی برآمدروم کے لیے بند کر دی۔ کتب خانہ اسکندریہکے قرطاس مصری پر کیٹلاگ کی طرز پر یہاں پر چرمی کاغذ پر ایک مربوط اور جامع کیٹلاگ مرتب کیا گیا تھا۔ اور کتابوں کو علم وار تقسیم کے ذریعے الگ الگ رکھا جاتا تھا۔ جب ایٹالسسوم نے اپنی سلطنت 133 ق-م میں قیصر روم کے حوالہ کی تو مشہور رومی مورخپلوٹارکقیصر روم کے ایک دوست کے حوالہ سے بیان کرتا ہےکہ

انطونینےقلوپطرہکو پرگامم کے کتب خانے کے ذخیرے میں سے نوازتو ان کی تعداد دو لاکھ جلدوں پر مشتمل تھی۔

عملہ[ترمیم]

کتب خانہ کے عملہ میں مہتمم کتب خانہ کے علاوہ منشی، کاتب، جلدساز اور صفائی کرنے والا شامل تھا۔ تصنیف و تالیف اور تراجم کے لیے نامور علماء کی خدمات بھی اس کتب خانے کو حاصل تھیں۔