کینیتھ اینڈرسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کینیتھ اینڈرسن (پیدائش 1910، وفات اگست 1974) ایک پیشہ ور انگریز شکاری تھے جنہوں نے ہندوستان/بھارت میں بے شمار آدم خور درندوں کو ہلاک کیا۔

پس منظر[ترمیم]

کینیتھ اینڈرسن سکاٹش النسل تھے اور ان کا خاندان چھ پشتوں سے ہندوستان میں آباد ہے۔ ان کے والد ڈوگلس سٹیورٹ اینڈرسن پونا میں فوج میں سپرنٹنڈنٹ تھے اور فوجیوں میں تنخواہ کی تقسیم کا کرتے تھے۔ انہیں اعزازی طور پر کیپٹن کا عہدہ ملا ہوا تھا۔ کینیتھ اینڈرسن کے والد کے پاس رائفل تھی اور اکثر آبی پرندوں کا شکار کرتے تھے۔ اگرچہ ان کے والد نے کبھی آدم خور درندوں کا شکار نہیں کیا لیکن کینیتھ اینڈرسن کو شکاری بنانے میں ان کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

اینڈرسن نے بشپ کاٹن بوائز سکول سے تعلیم کا آغاز کیا اور بعد ازاں بنگلور میں سینٹ جوزف کالج میں زیر تعلیم رہے۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں بنگلور کی برطانوی جہاز ساز فیکٹری میں منصوبہ بندی کا فیکٹری مینجر بنا دیا گیا۔ کرناٹکا، حیدرآباد اور تامل ناڈو میں ان کی تقریباً 200 ایکڑ جتنی زمین تھی جس کے بارے انہوں نے اپنی کتب میں کئی جگہ ذکر کیا ہے۔ ان کا بیٹا ڈونلڈ اینڈرسن 1937 میں پیدا ہوا اور اسے بھی شکار کا گہرا شغف ہے۔

بطور پیشہ ور شکاری[ترمیم]

کینیتھ اینڈرسن کو بچپن سے جنگل اور جنگل کے جانوروں سے گہری محبت تھی اور اسی وجہ سے وہ درندوں کے شکار کی طرف مائل ہوئے اور آخرکار انہی شکاروں کی حقیقی کہانیاں بھی لکھیں۔ وہ اکثر جنگلوں میں خالی ہاتھ چلے جاتے تھے اور وہاں وقت گذار کر اور فطرت کا مطالعہ کر کے سکون پاتے تھے۔ بطور شکاری انہوں نے بہت سارے آدم خور درندوں کا پیچھا کر کے انہیں ہلاک کیا۔ ان کے شکار کردہ مشہور آدم خور اور انسانوں کو ہلاک کرنے والے درندوں میں میسور کا ریچھ، گملاپور کا تیندوا، یلاگری کا تیندوا، جولاگری کی شیرنی، سیگور کا شیر اور منداچی پالم کا شیر قابل ذکر ہیں۔

سرکاری طور پر انہوں نے 1939 سے 1966 کے درمیان 8 آدم خور تیندوے بشمول ایک مادہ اور 7 نر اور سات آدم خور شیر جن میں دو مادہ اور 5 نر شامل ہیں، ہلاک کئے۔ غیر سرکاری طور پر ان کے شکار کردہ آدم خور شیروں کی تعداد 15 سے 20 کے درمیان اور آدم خور تیندوؤں کی تعداد 18 سے 20 کے درمیان ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی پاگل ہاتھی بھی مارے ہیں۔

شمالی ہندوستان کے مشہور شکاری جم کاربٹ نے شوالک، گڑھوال، کماؤں اور شمالی مدھیہ پردیش میں آدم خور مارے تھے جبکہ کینیتھ اینڈرسن نے جنوبی ہندوستان بشمول اندھرا پردیش، تامل ناڈو، کرناٹکا، شمالی ملبار اور کیرالہ میں شکار کیا تھا۔

ان کے پالتو مقامی کتے کا نام نپر تھا جو انہوں نے اپنی شکاری مہمات کے دوران خریدا تھا۔ اپنی کتب میں بہت جگہ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ پائپ پینے کے شوقین ہیں۔

مشاغل[ترمیم]

ان کے لکھنے کا انداز سادہ، تعارفی اور جذب کرنے والا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر جنگلی جانوروں سے اپنی مڈبھیڑ کے بارے لکھا ہے۔ ان کی زیادہ تر کہانیاں تیندوؤں اور شیروں بالخصوص آدم خوروں کے شکار سے متعلق ہیں تاہم انہوں نے ساتھ ہی ساتھ خطرناک ہاتھیوں، بھینسوں اور ریچھوں سے بھی اپنے مقابلوں کے بارے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نسبتاً کم اہم جنگلی جانوروں جیسا کہ جنگلی کتے، لگڑبگڑ اور سانپوں کے بارے بھی لکھا ہے۔ انہوں نے ان جانوروں کی عادات و خصائل کے بارے ہرممکن طور پر تفصیل بتانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے ہندوستانی جنگلوں میں آباد مقامی قبائل اور ان کے لوگوں کے بارے بھی قیمتی معلومات دی ہیں۔ ان کے دور میں ہندوستان کے جنگل انتہائی گھنے اور جنگلی جانوروں سے بھرے ہوتے تھے اور وہاں سڑکوں کی حالت انتہائی بری ہونے کے ساتھ ساتھ مواصلات اور صحتِ عامہ کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ انہوں نے اپنی کتب میں ان جنگلی قبائل کی عادات، ان کے رہن سہن اور روز مرہ زندگی کے بارے بھی لکھا ہے۔

ہندوستان کی جنگلی حیات کے بارے لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے جادو ٹونے کے بارے بھی معلومات کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات بھی بیان کئے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی ریاستوں میں انہوں نے بہت سے قبائل کو آدم خور درندوں سے بچایا ہے۔ وہ کناڈا کے ساتھ ساتھ تامل بھی بول سکتے تھے۔ ان کے پاس کافی عرصے تک سٹڈ بیکر کار تھی اور اعشاریہ 405 بور کی ونچسٹر رائفل انہیں بہت عزیز تھی۔ شکاری ہونے کے علاوہ انہوں نے جنوبی ہندوستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے بھی بہت کام کیا۔ آخر میں انہوں نے رائفل کی بجائے کیمرے سے جانوروں کا "شکار" شروع کر دیا تھا۔

کتب[ترمیم]

کینیتھ اینڈرسن کی کتب کافی مقبول ہیں اور ان کی کتب کے دو مجموعے حال ہی میں شائع ہوئے ہیں۔ ذیل میں ان کی کتب کی فہرست دی گئی ہے:

• Nine Maneaters And One Rogue (1954)

• The Black Panther of Sivanipalli and Other Adventures of the Indian Jungle (1959)

• Jungles Long Ago

• Man Eaters and Jungle Killers

• Tiger Roars

• Tales from the Indian Jungle

• This is the Jungle

• The Call of the Man Eater

جنگل میں رہن سہن اور بچاؤ کے علاوہ انہوں نے ہندوستان اور یہاں رہنے والے افراد اور جنگلوں کے بارے اپنی محبت کا بھی ذکر کیا ہے۔ متبادل طریقہ علاج پر وہ یقین رکھتے تھے اور ان کے ساتھ ہمیشہ ان کا دیسی ادویات کا ڈبہ رہتا تھا جس میں مختلف جڑی بوٹیاں ہوتی تھیں۔ انہوں نے انگریزی طریقہ علاج کو سختی سے رد کر دیا تھا اور اگست 1974 میں سرطان کے مرض سے 64 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی آخری کتاب Jungles Long Ago ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔