آغا سلیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آغا سلیم
معلومات شخصیت
پیدائش 7 اپریل 1935  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع شکارپور، سندھ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 اپریل 2016 (81 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار، شاعر، صحافی، مترجم، نشر کار، ڈراما نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی، اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

آغا سلیم (پیدائش: 7 اپریل 1935ء - وفات: 12 اپریل 2016ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے مشہور و معروف افسانہ نگار، ڈراما نویس، ناول نگار، مترجم، صحافی اور براڈکاسٹر تھے۔ وہ سندھی زبان کے ناول ہمہ اوست اور شاہ جو رسالو کا اردو ترجمہ رسالہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

آغا سلیم 7 اپریل، 1935ء کو ضلع شکارپور، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام آغا سلیم خالد تھا[2][3][4]۔ انہوں نے ملازمت کی ابتدا ریڈیو پاکستان سے بطور براڈ کاسٹر کی جہاں سے وہ اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔[3]

آغا سلیم سندھی نثر و نظم دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کے مقبول ناول اور افسانوں میں چند جا تمنائی، اونداھی دھرتی روشن ہتھ، دھرتی روشن آھی، روشنی جی تلاش، اٹپورو انسان،ہمہ اوست اور گناہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا ترجمہ رسالۂ شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے نام سے کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے Alexander's Conquest of Sindh نامی تحقیقی کتاب بھی تالیف کی۔ انہوں نے دو سندھی فلموں خون کے رشتے اور چاندنی کے اسکرپٹ بھی تحریر کیے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ وہ صحافت کے شعبے سے بھی منسلک رہے اور بعض اردو اور سندھی اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • ہمہ اوست (ناول)
  • رسالہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی (شاہ جو رسالو کا منظوم اردو ترجمہ)
  • دھرتی روشن آھی (افسانے)
  • روشنی جی تلاش (ناولٹ)
  • گناہ (افسانے)
  • اٹپورو انسان (افسانے)
  • اونداھی دھرتی روشن ہتھ (ناول)
  • درد جو شہر (افسانے)
  • Alexander's Conquest of Sindh

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے آغا سلیم کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز، صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا اور انہیں دو بار لطیف ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔[3]

وفات[ترمیم]

آغا سلیم 81 سال کی عمر میں 12 اپریل، 2016ء کو کراچی، پاکستان وفات پا گئے۔[2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]