اثیم خیرآبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اثیم خیرآبادی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1900  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کانپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 6 اپریل 1972 (72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

اثیم خیرآبادی (جنوری 1900ء6 اپریل 1972ء) کانپور، بھارت کے ایک اردو شاعر تھے۔ ان کا اصل نام سید امیر احمد ہے۔ لیکن قلمی نام اثیم خیرآبادی سے مشہور ہیں۔[1]

سوانح[ترمیم]

اثیم خیرآبادی جنوری 1900ء میں خیرآباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام وسیم خیرآبادی تھا۔ اثیم سے بڑی ایک بہن وارث فاطمہ تھی اور ایک چھوٹا بھائی سید خلیل احمد خیرآبادی تھا۔ اثیم نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور جب استعداد قابل لحاظ ہو گئی تو مدرسیہ نیازیہ، خیرآباد بھیج دیے گئے۔ مدرسیہ نیازیہ میں اُن کا دل پسند موضوع فقہ تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد منبع الطب کالج، لکھنؤ میں داخلہ لے لیا۔ دو سال تک اِس کالج سے تعلیم حاصل کرتے رہے۔اِن کے والد نے اِنہیں اِس کالج سے ہٹا کر واپس خیرآباد ساتھ لے گئے۔ دوبارہ لکھنؤ آئے اور 1937ء میں طب کی تعلیم درجہ اَول میں مکمل کرلی۔ خیرآباد آئے اور یونانی دواخانہ کے نام اپنا مطب قائم کیا۔ خود نسخہ بہت کم لکھتے تھے۔ زیادہ تر مشہور مقامی حکیم انوار حسین صاحب کے نسخے اِن کے پاس آتے رہتے تھے جس سے اچھا خاصا کام چلتا رہا۔ کچھ مدت بعد یہ مطب بند ہو گیا۔

جب اثیم کے والد وسیم خیرآبادی مولوی سبحان اللہ خان کی دعوت پر گورکھپور گئے تو اثیم بھی ساتھ گئے۔ گورکھپور مرکز شعر وسخن بنا ہوا تھا۔ اثیم گورکھپور میں کسی مقامی کالج یا اسکول میں اردو اور فارسی کے مدرس مقرر ہو گئے۔ اِسی زمانے میں وہ تحفہ خوشتر اور گلچین کے معاونِ مدیر بھی رہے۔ گورکھپور کے حالات خراب ہوئے تو واپس صوبہ بہار چلے آئے لیکن زیادہ عرصہ بہار میں ٹھہر نہ سکے اور حیدرآباد دکن چلے گئے۔ 1949ء میں واپس خیرآباد آئے اور 1950ء سے 1951ء تک مدرسہ نیازیہ، خیرآباد میں فارسی کے مدرس کی حیثیت سے پڑھاتے رہے۔ جولائی 1955ء سے فروری 1960ء تک مدرسہ اشاعت العلوم، خیرآباد میں بھی پڑھاتے رہے۔ خیرآباد سے اُس زمانے میں جمال الدین اسیرآبادی کی اِدارت میں ایک رسالہ ’’کارروان‘‘ شائع ہوتا تھا۔ اثیم اُس کے ادارہ تحریر میں شامل ہو گئے۔ دو سال بعد 1962ء میں کانپور چلے گئے اور مدرسہ احسن المدارس سے وابستہ ہو گئے۔ کانپور کے رسالہ جھلک کی ادارت بھی کی۔ آخری عمر میں کانپور میں گزر بسر ہوئی، کبھی کبھار ادبی سرگرمیوں کے لیے خیرآباد آتے رہتے تھے۔[2]

وفات[ترمیم]

1972ء میں چھٹیاں گزارنے خیرآباد آئے اور یہاں اپنے بچوں کے اصرار پر کانپور واپسی ملتوی کردی۔ خیرآباد میں قیام کے عرصے میں بیمار ہو گئے۔ بخار مہینوں رہا، بخار کے عارضے بعد اسہال میں مبتلا ہو گئے اور علاج معالجے کے باوجود شفا نہ ہو سکی۔ 6 اپریل 1972ء کو صبح سوا گیارہ بجے خیرآباد میں انتقال کرگئے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.bio-bibliography.com/authors/view/5096
  2. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 2، صفحہ 43/44 مطبوعہ دہلی
  3. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 2، صفحہ 45۔ مطبوعہ دہلی