اختر عثمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اختر عثمان ایک مشہور شاعر،محقق اور نقاد ہیں .وہ 4اپریل 1969 کو پیدا ہوئے .وہ کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور ان میں بہت کچھ لکھ بھی چکے ہیں .خصوصًا اردو، فارسی، پنجابی، پوٹھوہاری اور ہندی زبانوں کو انہوں نے وسیله اظهار بنایا ہے۔ اختر عثمان کے بہت سے شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں اپنی اپنی صلیب، کچھ بچا لائے ہیں، ستارہ ساز اور ابد تاب شامل ہیں۔ مرثیہ کہنے میں اختر عثمان اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔  [حوالہ درکار]

نمونه اشعار اردو[ترمیم]

عجیب حالتِ دل ہو گئی رہائی کے وقت
کلیدِ قفلِ قفس کھو گئی رہائی کے وقت

بڑے رفیق تھے، پر با وفا تھی تنہائی
جو اپنے ساتھ ہی گھر کو گئی رہائی کے وقت

تمام رات رہائی کا انتظار کیا
نصیب جاگے، سحر سو گئی رہائی کے وقت

مزاجِ تیرگی سے ہم پہ یہ مآل کھلا
گلے ملی تو ہمیں رو گئی رہائی کے وقت

دمِ رہائی ہمیں کوئی غم نہ تھا اختر
مگر وہ بزمِ طرب جو گئی رہائی کے وقت

نمونه اشعار فارسی[ترمیم]

طرزی نوشتہ ام کہ ربودن نمی شود
از دیگران بہ باغ سرودن نمی شود

روغن ز خون کشید و بہ انداخت بر خسک
کاین آتش از شرار فزودن نمی شود

یارا! بیا، ز لحظہ تابندہ بگذریم
در کشت ہست باز نمودن نمی شود

کاریست، کار بخیہ کہ تا زیست ماندہ پس
آہستہ رو بہ سوزنی، زودن نمی شود

با اشکِ تیز تیز ز سنگی تراشمت
با من خدا مشو کہ ستودن نمی شود

طبعم کہ ھیچ کار ندارد بہ آن سخن
بر لوح دل چو سلک شہودن نمی شود

آن زلف پیچدار بدستم کہ می رسد
این عقدہ ای ز غیر کشودن نمی شود

آھنگ وار زی سر باغی گُل گمان
گہ گہ مژہ بزن کہ غنودن نمی شود

مزید دیکھیے[ترمیم]

پاکستانی فارسی گو شعرا