اوتو فون بسمارک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اوتو فون بسمارک
(جرمن میں: Otto von Bismarck خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
BismarckArbeitszimmer1886.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اپریل 1815[1][2][3][4][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 جولا‎ئی 1898 (83 سال)[1][2][3][4][5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the Kingdom of Prussia (1701-1750).svg مملکت پرشیا
Flag of Prussia (1892-1918).svg پروشیا
Flag of the German Empire.svg جرمن سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ گوٹنجن (10 مئی 1832–11 ستمبر 1833)[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تخصص تعلیم legal science  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار،  مفسرِ قانون،  ریاست کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان جرمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  فرانسیسی،  جرمن[8]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل مفسرِ قانون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فرانسیسی جرمن جنگ 1870-71  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
RUS Imperial Order of Saint Andrew ribbon.svg آرڈر آف سینٹ اینڈریو
D-PRU Pour le Merite 1 BAR.svg پور لی میرٹ
آرڈر آف میرٹ فار آرٹس اینڈ سائنس
Ord.Aquilanera.png آرڈر آف دا بلیک ایگل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Otto vonBismarck Signature.svg 
یادگار بسمارک، ہیمبرگ

اوتو فون بسمارک جرمن تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور سیاست دان جسے جدید جرمنی کا بانی کہا جاتا ہے۔ صوبہ پروشیا کے ایک ممتاز زمیندار گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ انتظامی امور کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ اس کے باوجود 1862ء میں قیصر جرمنی فریڈرک ولیم کی پیشکش پر قلم دان وزارت سنبھال تو وہ کام کیا جو جرمن تاریخ میں کسی نے انجام نہیں دیا تھا۔ 1815ء سے جرمنی کی اڑتیس ریاستوں کو متحد کرنے کی جو تحریک چل رہی تھی اسے بسمارک نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس کے لیے اس نے ہر قسم کے حربے کو روا رکھا۔ ضرورت پڑی تو لشکر کشی بھی کی۔ طبعاً جنگ پسند نہ تھا۔ بسمارک کی اصل ڈپلومیسی یہ تھی که یورپ کی کم از کم پانچ بڑی طاقتیں فرانس، روس، برطانیه، اٹلی اور آسٹریا اس کی حلیف بنی رهیں خارجہ حکمت علمی میں صلح و سلامتی کی راہ پر گامزن رہا۔ بڑا ہوش مند سیاست دان تھا۔ صلح دامن کو سیاست کی شطرنج کے مہرے خیال کرتا تھا۔ اور ایک کی بجائے دوسرا مہرا اس وقت استعمال کرتا تھا۔ جب اس پر آشکار ہوجاتا تھا کہ حصول مطلب کے لیے اس کا استعمال ضروری ہے۔ کم و بیش 28 برس وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہا۔ 18 مارچ 1890ء کو قیصر ولیم دوم کی معزولی پر عہدے سے دست بردار ہو کر آبائی گاؤں چلا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12014643j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Otto-von-Bismarck — بنام: Otto von Bismarck — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6tq6b38 — بنام: Otto von Bismarck — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/otto-von-bismarck — بنام: Otto von Bismarck — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  6. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=20797 — بنام: Otto von Bismarck — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. https://www.uni-goettingen.de/de/graf-otto-von-bismarck-1815-bis-1898/62594.html
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12014643j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ