اوّلی وراثہ الورم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ڈی این اے میں موجود کسی وراثے (اولی وراثہ الورم) میں ہونے والی کسی ترمیم، اور اس ترمیم سے بننے والے وراثہ الورم سے سرطان تک کے مراحل کا شکلیاتی اظہار۔ دائیں سے چھوتھے مقام پر موجود ایڈنین (A) کا قاعدہ (سرخ رنگ) ، سائٹوسین (C) کے قاعدے (نیلا رنگ) سے بدل جاتا ہے، ڈی این اے کے قواعد میں ایسی تبدیلی کو طفرہ یا mutation کہا جاتا ہے۔
  • یہ مضمون وراثیات (Genetics) سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی اساس میں DNA اور Gene کے نظریات پر قائم ہے۔

اولی وراثہ الورم (proto-oncogene) ایک طرح کی gene یعنی وراثہ کو کہا جاتا ہے جو کہ انسان اور دیگر جانداروں کے خلیات میں پایا جاتا ہے۔ معمول کے مطابق تو یہ وراثہ، خلیات میں اپنے روزمرہ کے افعال (مثلا خلیات کی تقسیم اور نشونما کا نظم و ضبط) انجام دیتا رہتا ہے لیکن اگر کبھی ڈی این اے کے قواعد کی ترتیب میں کوئی mutation یا ترمیم پیدا ہوجاۓ تو اسکی وجہ سے اسکی ساخت بھی تبدیل ہوجاتی ہے اور یہ تبدیل ہوکر ایک نیا وراثہ یا جین بنا سکتا ہے ، یوں اولی وراثہ الورم سے بننے والے اس نۓ وراثے (یا جین) کو ، وراثہ الورم یا onco-gene کہا جاتا ہے۔

DNA کی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والا یہ نیا وراثہ الورم یا onco-gene جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ ورم (onkos) پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضع کردینا ضروری ہوگا کہ طب میں اکثر ورم (tumor) کی اصطلاح سرطان کے متبادل استعمال کی جاتی ہے اور یہاں سے بات کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ وراثہ الورم ، ایک ایسا وراثہ ہوتا ہے کہ جو سرطان کا باعث بنتا ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

  • اولی وراثہ الورم یعنی proto-onco-gene تین الفاظ کا مرکب ہے
  1. اولی یعنی اول = proto
  2. وراثہ (وراثی خواص سے متعلق) = gene
  3. الورم (ورم کا، ورم سے متعلق) = onco

اسکے نام کے ساتھ اولی (proto) لگانے کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ وراثہ یا جین دراصل ابتداء سے موجود ہوتا ہے اور بعد میں اسکے ڈی این اے میں خرابی یا ترمیم کی وجہ سے ایک نیا وراثہ بنام ، وراثہ الورم (onco-gene) بنتا ہے۔ یعنی یوں کہـ لیں کہ اولی وراثہ الورم ، اول اور وراثہ الورم (onco-gene) دوئم مرحلے پر آتا ہے۔

پس منظری نکات[ترمیم]

  • علم طب و امراضیات میں سرطان اور ورم کی اصطلاحات بعض صورتوں میں ایک دوسرے کے متبادل استعمال کی جاتی ہیں اس مضمون میں ورم سے مراد سرطان ہی ہے۔ انکی علیحدہ علیحدہ تفصیل کیلیے انکے صفحات مخصوص ہیں۔
  • سرطان ، بنیادی طور پر ایک ایسا مرض ہے کہ جس میں خلیات اپنی تعداد میں بے قابو اضافہ کرنا شروع کردیتے ہیں اور یہ بے قابو اضافہ انکے DNA میں کسی نقص کی وجہ سے پیدا ہوا کرتا ہے اسی ليے سرطان کو ایک وراثی (genetic) مرض کہا جاتا ہے جو وراثوں یا (genes) میں ترامیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
  • اور خلیات میں سرطان جیسی تبدیلیاں پیدا کرنے والے وراثے یا جیـن کو ، وراثہ الورم یا onco-gene کہا جاتا ہے۔
  • یہ وراثات الورم (onco-genes) دراصل خلیات کے ڈی این اے میں پہلے سے موجود وراثات (genes) سے ہی نمودار ہوتے ہیں۔
  • اور پہلے سے موجود یہ وراثے یا جینز جو کہ وراثات الورم میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، اولی وراثات الورم یا proto-onco-genes کہلاتے ہیں۔

شکل کی وضاحت[ترمیم]

دائیں جانب موجود شکل میں عام خلیات سے سرطانی خلیات بننے تک کے مراحل کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس شکل میں جو اعداد 1 تا 4 دیے گۓ ہیں انکی تفصیل کچھ یوں ہے

  1. جسم کا ایک خلیہ ---- جس میں ایک مرکزہ (سرخ) اور اس مرکزے میں موجود DNA کو دکھایا گیا ہے۔ ہر ڈی این اے کا سالمہ پھر کئی چھوٹے قطعات سے ملکر بنتا ہے، ہر قطعہ کو ایک وراثہ یا gene کہا جاتا ہے اور یہ جسم میں ایک خاص طرح کا لحمیہ یا پروٹین تیار کرتا ہے۔
  2. ایک اولی وراثہ الورم کا بڑا کر کے دکھایا گیا منظر ---- ڈی این اے میں موجود ایک منتخب شدہ وراثے یا جین کو (چھوٹا چوکور خانہ) بڑا کر کہ اسکے چار قواعد A, G, C اور T کو الگ الگ رنگوں سے ظاہر کیا گیا ہے (بڑا چوکور خانہ)۔
  3. اولی وراثہ الورم کے کی ترتیب میں پیدا ہونے والا خلل ---- اولی وراثہ الورم میں دائیں سے چوتھے مقام پر موجود ایڈنین (A) کا قاعدہ ، ایک اور قاعدے سائٹوسین (C) سے تبدیل ہو جاتا ہے اس تبدیلی کو طب میں طفرہ mutation کہا جاتا ہے اور اس تبدیلی سے پیدا ہونے والا نیا وراثہ ، وراثہ الورم یا onco-gene کہلاتا ہے۔
  4. بے قابو خلیات کا مجموعہ یعنی سرطان یا ورم ---- جب طفرہ کی وجہ سے خلیات کے ڈی این اے میں وراثہ الورم پیدا ہوجاۓ تو خلیات کی تقسیم کا عمل بے قابو ہوجاتا ہے اور انکے اس بے لگام اضافے سے جسم میں ایک خلیات کا مجموعہ بن جاتا ہے ، اسی کو سرطان کہا جاتا ہے۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]