اکیسویں صدی میں قصاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیشتر اسلامی ممالک میں کچھ شرعی قوانین نافذ ہیں جن میں قصاص بھی شامل ہے۔ ذیل میں قانون قصاص کے اطلاق کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

سعودی عرب[ترمیم]

سعودی عرب میں اگر کوئی سڑک حادثہ میں ہلاک ہو جائے تو خواہ یہ سہواً ہی ہوا ہو، متاثر فرد کا خاندان قصاص کے ذریعہ اس ڈرائیور سے عمر بھر کی کمائی رکھوا کر اسے کنگال کر دیتا ہے۔

پاکستان[ترمیم]

پاکستان میں کچھ شرعی قانون محمد ضیاالحق کی صدارت کے دوران تعزیرات پاکستان میں شامل کیے گئے مگر یہ متوازی قانون کے طور پر شامل کیے گئے کہ چاہا تو شرعی قانون استعمال کر لیا اور چاہا تو برطانوی قانون۔ اس میں قصاص کا قانون بھی شامل ہے۔ قصاص کے قانون کو غلط استعمال کرنے کے متعدد واقعات ہوئے جس میں :

عدالت اعظمی میں منصف اعظم افتخار چودھری نے قصاص قانون کے اس استعمال پر برہمی کا اظہار کیا،[1] اور نواز شریف کی پارلیمان کو اس سلسلہ میں قانون سازی کا مشورہ دیا۔

اس کے برعکس کچھ واقعات میں مبینہ طور پر قصاص کے غلط استعمال سے کسی فرد کو سزا دینا:

  • مرزا طاہر حسین، جس نے اپنے اوپر جنسی حملہ کرنے والے کو حملہ آور کی پستول سے قتل کر دیا اور مقتول کے خاندان نے قصاص کے قانون کے تحت اسے معاف کرنے سے انکار کر دیا۔ (18 سال بعد پرویز مشرف نے عالمی دباؤ پر اسے ماروائے عدالت رہا کر دیا)۔[2]
  1. "سپریم کورٹ میں قصاص مقدمے کی سماعت"۔ بی بی سی۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Pardoned Briton released from Pakistani jail"۔ انڈپنڈنٹ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔