مندرجات کا رخ کریں

باغ عدن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
باغ عدن
 

شہر قیامت ،  آخرت   ویکی ڈیٹا پر  (P276) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الأحداث الهامة موروثی گناہ   ویکی ڈیٹا پر  (P793) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
التقسيم درخت حیات (کتاب مقدس) ،  حور ،  غلمان و ولدان   ویکی ڈیٹا پر  (P527) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر  (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابراہیمی مذاہب میں باغ عدن (انگریزی: Garden of Eden) (توراتی عبرانی: גַּן־עֵדֶן‏) یا خدا کا باغ (توراتی عبرانی: גַּן־יְהֹוֶה‏ اور توراتی عبرانی: גַן־אֱלֹהִים‏) بائبل کی فردوس ہے جسے کتاب پیدائش 2-3 اور کتاب حزقی ایل 28 اور 31 میں بیان کیا گیا ہے۔ [1][2]

"عدن" کا لغوی پس منظر

[ترمیم]

لفظ "عدن" تمام سامی زبانوں میں مشترک طور پر لذت، ٹھہراؤ، دائمی سکون یا ہمیشگی کے مفہوم میں آتا ہے — چاہے وہ عربی، آرامی، سریانی، عبرانی ہو یا پھر اکدی (بابل و آشوری زبان) یا حمیری (قدیم یمنی زبان) ہو۔

اسی وجہ سے قرآن و دیگر الہامی کتب میں "جناتِ عدن" کا تذکرہ خاص معنوی گہرائی رکھتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشگی، نعمت، امن اور لذت کا مقام ہے — وہ مقام جہاں انسان پہلی بار اُتارا گیا اور اہلِ ایمان کو واپس لے جایا جائے گا۔

جناتِ عدن کا مفہوم اور تذکرہ

[ترمیم]

"جنت" کا مطلب ہے سرسبز و شاداب باغ اور اسی سے لفظ "جنینہ" نکلا ہے، یعنی ایک خوبصورت باغ جس میں پھل دار درخت، سرسبز مناظر اور میٹھا پانی موجود ہو۔ جبکہ "عدن" کے معنی ہیں: ہمیشگی، ٹھہراؤ یا خلود۔ پس "جنات عدن" کا مطلب ہوا: ہمیشہ رہنے والے باغات یا لذت و حلاوت سے بھرپور باغات۔

قرآنِ کریم میں ذکر

[ترمیم]

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ مَن تَزَكَّىٰ" (سورۃ طٰہٰ، آیت 76) "یہ عدن کے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اُس شخص کے لیے جو پاکیزگی اختیار کرے۔"

تینوں الہامی مذاہب میں مقامِ عدن

[ترمیم]

اسلام، یہودیت اور عیسائیت — تینوں الہامی مذاہب کی کتب میں "عدن" کا ذکر موجود ہے۔

اہلِ کتاب کی معتبر تحریروں کے مطابق: یہ وہ جگہ ہے جہاں پہلا انسانی جوڑا یعنی آدم و حوّا کو تخلیق کے بعد رکھا گیا۔ عہدِ قدیم (سفرِ تکوین، باب 2، آیت 8-9) میں یہ الفاظ ہیں:

” "خداوند خدا نے عدن میں ایک باغ لگایا، جو مشرق میں تھا اور اُس میں آدم کو رکھا جسے اُس نے بنایا تھا۔

پھر خداوند نے زمین سے ہر وہ درخت اُگایا جو دیکھنے میں دلکش اور کھانے میں خوش ذائقہ تھا اور ساتھ ہی زندگی کا درخت اور نیکی و بدی کی پہچان کا درخت بھی وسطِ باغ میں تھا۔"[3][4][5]

“

حواشی

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Bruce Manning Metzger؛ Michael D Coogan (2004)۔ The Oxford Guide To People And Places Of The Bible۔ Oxford University Press۔ ص 62۔ ISBN:978-0-19-517610-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-22
  2. ↑ Cohen 2011, pp. 228–229
  3. ↑ H5731 Eden– The same as H5730 (masculine); Eden= "pleasure" ... the first habitat of man after the creation; site unknown آرکائیو شدہ 2017-03-27 بذریعہ وے بیک مشین
  4. ↑ Brook Wilensky-Lanford (2012)۔ Paradise Lust: Searching for the Garden of Eden۔ Grove Press۔ 10 ديسمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  5. ↑ Jean Delumeau؛ Matthew O'Connell (2000)۔ History of Paradise: The Garden of Eden in Myth and Tradition۔ University of Illinois Press۔ ص 276۔ 9 نوفمبر 2019 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)

کتابیات

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]