بد نیتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بد نیتی (انگریزی: Bad faith) دماغ میں دہری سوچ رکھنے یا دل میں دو رُخا پن رکھنے کا نام ہے۔ بد نیتی میں تصنع اور دھوکے جیسے عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔[1] اس میں دوسروں کا بالارادہ دھوکا یا خود سے دھوکا جیسی قباحتیں شامل ہو سکتی ہیں

ایک بد نیت شخس لازمًا کسی طرح کے برے عمل کا اپنے دل میں ارادہ کرتا ہے۔ اس کے ظاہر و باطن عمومًا ایک دوسرے کی ضد ہوا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شخص کسی طرح کے دھوکے اور تلبیس شخصی کا ہمیشہ اپنے دل میں ارادہ کر کے رکھتا ہے۔ بد نیت لوگوں میں خوف خدا یا تقوے کا عنصر یا تو ایک سرے سے ہوتا ہی نہیں یا پھر اس کی حیثیت محض اوپری دکھاوے سے زیادہ کچھ اور نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں اخلاص قلب بھی مفقود ہوتا ہے۔ ظاہری کام کے پیچھے دنیوی نام و نمود کی طلب ہوتی ہے۔

بد نیتی حسن نیت کی طرح افراد پر ہی نہیں بلکہ اس کا اطلاق حکومتوں اور ادارہ جات پر بھی ہوتا ہے، اگر چیکہ یہ ادارے بذات خود غیر جان دار ہیں اور ان کی کار فرمائی افراد کی محرکات پر مبنی ہوتی ہے۔

حکومت پر بد نیتی کا الزام[ترمیم]

پاکستان جیسے ملک میں اکثر حکومتیں رشوت، بد عنوانی، بے قاعدگی اور دیگر دھاندلیوں کی جانب مائل تصور کی جاتی رہی ہیں۔ ایک بڑی تبدیلی کے طور عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی شفافیت اور ایمان داری سے اٹوٹ وابستگی کا ہمیشہ سے عہد کرتی آئی ہے۔ تاہم اکتوبر 2019ء میں ملک کے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی درخواستوں کو غیر سنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے سے متعلق درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلی فیصلے میں الیکشن کمیشن نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی درخواستیں غیرسنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی ہیں لہذا انہیں مسترد کیا گیا ہے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "of two hearts ... a sustained form of deception which consists in entertaining or pretending to entertain one set of feelings, and acting as if influenced by another; bad faith", Webster's Dictionary, 1913
  2. پی ٹی آئی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی بدنیتی سامنے آگئی، الیکشن کمیشن نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا