بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے میجر عمران رضا کا لکھا ہوانغمہ2014 پشاور اسکول حملہ کے پس منظر میں اردو زبان میں لکھا جانے والا گیت، یہ گیت سانحہ کے کچھ ہفتوں بعد تک پاکستانی ٹی وی چینلز پر مسلسل پیش کیا جاتا رہا،[1] جو اپنے جملوں اور جذباتی پس منظر کی وجہ سے کافی مقبول ہوا۔

شاعری[ترمیم]

بتا کیا پوچھتا ہے وہ کتابوں میں ملوں گا میں
کیے ماں سے ہیں جو میں نے کہ وعدوں میں ملوں گا میں
میں آنے والا کل ہوں وہ مجھے کیوں آج مارے گا
یہ اس کا وہم ہوگا کہ وہ ایسے خواب مارے گا
تمہارا خون ہوں ناں اس لیے اچھا لڑا ہوں میں
بتا آیا ہوں دشمن کو کہ اس سے تو بڑا ہوں میں
میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے
وہ جب آتے ہوئے مجھ کو گلے تم نے لگایا تھا
امان اللہ کہا مجھ کو، میرا بیٹا بلایا تھا
خدا کے امن کی راہ میں کہاں سے آگیا تھا وہ
جہاں تم چومتی تھیں ماں وہاں تک آگیا تھا وہ
میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے
مجھے جانا پڑا ہے پر میرا بھائی کرے گا اب
میں جتنا نہ پڑھا وہ سب میرا بھائی پڑھے گا اب
ابھی بابا بھی باقی ہیں، کہاں تک جا سکو گے تم
ابھی وعدہ رہا تم سے، یہاں نہ آسکو گے تم
میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتا ہے
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے

                              شاعر۔ میجر عمران رضا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/بڑا-دشمن-بنا-پھرتا-ہے-وہ۔۔۔ مستقبل، فرخ سہیل گوئندی، کالم بڑا دشمن بنا پھرتا ہے