تاج سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تاج سعید
پیدائش تاج محمد
16 ستمبر 1933(1933-09-16)ء
پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
وفات 23 اپریل 2002(2002-04-23)ء
پشاور، پاکستان
قلمی نام تاج سعید
پیشہ نقاد، شاعر، صحافی، مترجم
زبان اردو
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف شاعری، تنقید، ادارت، تدوین، ترجمہ
نمایاں کام کرشن نگر
خوشحال شناسی
سوچ سمندر
شہر ہفت رنگ
پشتو ادب کی مختصر تاریخ
احمد فراز: فن اور شخصیت

تاج سعید (پیدائش: 16 ستمبر، 1933ء - وفات: 23 اپریل، 2002ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان کے ممتاز نقاد، شاعر، صحافی اور مترجم تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

تاج سعید 16 ستمبر، 1933ء کو پشاور، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا اصل نام تاج محمد تھا تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں سوچ سمندر، رتوں کی صلیب، لیکھ اور شہر ہفت رنگ اور نثری کتابوں میں کرشن نگر، جہان فراق، پشتو ادب کی مختصر تاریخ، بنجارے کے خواب، احمد فراز: فن اور شخصیت، خوشحال شناسی، شکیل بدایونی: فن و شخصیت اور پشتو کے اردو تراجم شامل ہیں۔[3]

تاج سعید اردو کے کئی اہم جریدوں کے مدیراعلیٰ رہے جن میں قند مردان، ارژنگ پشاور اور جریدہ پشاور کے نام شامل ہیں۔[3]

تاج سعید کی اہلیہ زیتون بانو بھی اردو کی ممتاز افسانہ نگار ہیں۔[3][1]

تصانیف[ترمیم]

  • کرشن نگر
  • خوشحال شناسی (ترتیب بہ اشتراک زیتون بانو)
  • اُردو کے پریم گیت
  • دھڑکنیں (علاقائی افسانوں کے تراجم)
  • چہرہ نما ( مضامین)
  • ہم قلم
  • مرے خدا مرے دل(مجید امجد کی شعری تخلیقات کا انتخاب)
  • منتخب تحریریں (ترتیب بہ اشتراک جوہر میر)
  • سوچ سمندر (شاعری)، (33 نظمیں،29 غزلیں،14 دوھے، 21 گیت)
  • شہر ہفت رنگ (شاعری)
  • رتوں کی صلیب (شاعری)
  • جہان فراق
  • پشتو ادب کی مختصر تاریخ
  • بنجارے کے خواب
  • احمد فراز: فن اور شخصیت
  • خوشحال شناسی
  • شکیل بدایونی: فن و شخصیت

وفات[ترمیم]

تاج سعید 23 اپریل، 2002ء کو پشاور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ پشاور میں قبرستان نزد لوتھیہ میں سپردِ خاک ہوئے۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 219
  2. ^ ا ب تاج سعید، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  3. ^ ا ب پ ت ٹ عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 893