تبادلۂ خیال:اردو ویکیپیڈیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

Untitled[ترمیم]

اس کو تو جدید کر دیں بھائی۔۔۔--عبید رضا 20:18, 29 اپریل 2014 (م ع و)

  • انگریزی ویکی میں اردو ویکی صفحہ پر، اردو ویکی کی شروعات 2004 جنوری بتائی گئی ہے۔ لیکن اردو ویکی پر یعنی اس صفحہ پر شروعات، مارچ 2004 بتائی گئی ہے۔ کونسی تاریخ درست ہے؟ احمد نثار (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:16, 25 جنوری 2015 (م ع و)

نہیں پتہ نیشنل ایکویلٹی پارٹی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:17، 16 ستمبر 2020ء (م ع و)

publication on media[ترمیم]

Are there any publication on media about this wiki?--Kaiyr (تبادلۂ خیالشراکتیں) 08:58, 22 اگست 2014 (م ع و)

There is no such particular publication division. But plenty of News coverage can be seen both in Pakistan and India. احمد نثار (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:21, 25 جنوری 2015 (م ع و)

18:25 - 29 دسمبر 2015ء پر لاکھ پورا ہوا تھا۔علی نقی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 12:10, 30 دسمبر 2015 (م ع و)

سیاحت[ترمیم]

فضاء گٹ۔ سوات کا اہم سیاحتی مقام ہے۔ دریائے سوات کے کنارے واقع یہ خوبصورت مقام مینگورہ شہر سے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں ہر وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ فضاء گٹ کے ساتھ ہی بائی پاس کے نام سے مشہور سیاحتی علاقہ بھی ہیں۔ بائی پاس پر کئی خوبصورت اور مزیدار کھانے بنانے والے ریسٹورنٹس بھی موجود ییں۔ فضاء گٹ میں دو تفریحی پارک اور یہاں کا برج السوات ہوٹل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ سعیداللہ سعید (تبادلۂ خیالشراکتیں) 05:40، 1 دسمبر 2019ء (م ع و)

صوابی حا ص کے مشہور آدمی پیرمولانا دوست محمد بارکزئی[ترمیم]

سرخی کا متن[ترمیم]

صوابی حا ص کے مشہور آدمی پیرمولانا دوست محمد بارکزئی

تنویر احمد کیس[ترمیم]

تنویر احمد صاحب کی جدوجہد اور مخلصانہ کاوشوں کے ہم سب متعرف ہیں تنویر احمد صاحب غیر یقینی طور پر گرفتار ہوئے اور پھر ضمانت بھی مسترد ہوگئی یہ معاملہ بظاہر جتنا دِکھتا ھے اتنا سادہ نہیں رہا تنویر صاحب کو پورے پلان کے ساتھ جھنڈا اتارنا چاہئے تھا یا اتارنا ہی نہیں چاہئے تھا ڈوڈیال چوک سے جھنڈا ہمیشہ کے لئے اتار بھی لیا جائے تو کیا ہو گا آزاد کشمیر کے ہر سرکاری اور غیر سرکاری ادارے کی چھت اور ہر چوک چوراہے پاکستانی جھنڈا لہرا ھے جب تک پاکستان یہاں موجود ھے جھنڈا بھی رھے گا یہ بات سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں بہت سادہ سی بات ھے ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ھے آزاد کشمیر کوئی آزاد ریاست نہیں ھے دنیا کے کسی بھی قانون اور اصول کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کو آزاد ریاست تسلیم نہیں کیا جا سکتا نہ تسلیم کیا گیا ھے بنیادی طور پر آزاد جموں و کشمیر پاکستانی کالونی ھے جیسے ہندوستان انگریز کی کالونی تھا اب یہاں یہ کہنا کہ پاکستان اپنے جھنڈے اتار لے ایک اچھی خواہش اور قومی جذبہ تو ہو سکتا ھے مگر قابل عمل مطالبہ ہر گز نہیں اپنا جھنڈا اتار کر آزاد کشمیر کے جھنڈے کو تسلیم کرنے کامطلب یہ ہوگا کہ پاکستان اس ریاست کو آزاد ریاست تسلیم کرتا ھے جب پاکستان اسے آزاد ریاست تسلیم کر لے گا تو پاکستان کا دعوہ ختم ہو جائے گا اس کی فوج اور بیوروکریسی کو واپس جانا پڑ جائے گا جو کہ پاکستان فی الحال شائد نہیں چاہتا یا تو پھر ہم نے پاکستان کو یہاں سے نکالنے کی تحریک چلانی ھے تو ایک ہی ٹائم میں پورے آزاد کشمیر سے پاکستان کے جھنڈے اتاریں پھر تو بات سمجھ میں آئی گی دنیا کو

ایک چوک سے ایک جھنڈا اتارنا نہ اتارنا برابر ھے اور وہ بھی کسی ایک شخص کے ہاتھوں 

تنویر احمد صاحب بہت ہی مخلص انسان ہیں انہوں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا مگر تنویر صاحب کا مسلہ یہ ھیکہ وہ ایک صحافی ہیں لیکن اکثر سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے زیر عتاب رہتے ہیں ڈوڈیال میں پاکستانی جھنڈے سمیت ماضی میں ہر ایشو کو ایک صحافی کے طور پر بھی ہائی لائٹ کیا جا سکتا تھا اس سے یہ ہوتا تنہا شخص کو مشکلات کم ہو پیش آتیں ایک بندہ جب اکیلا رہ کر سیاسی سرگرمیاں کرے گا تو اس کا تحفظ انتہائی مشکل ہو جاتا ھے جس خطے میں بطور پارٹی سروائیو کرنا نا ممکن بنا دیا جائے وہاں ایک شخص کچھ بھی نہیں دیوار سے سر ٹکرانے سے دیوار کا نہیں اپنا ہی نقصان ہوتا ھے سر پھوٹ جاتا ھے ہم یورپ یا امریکہ میں نہیں رہتے جہاں سیاسی اور شہری حقوق اس قدر میسر ہیں کہ ایک شخص بھی اگر کوئی مطالبہ لے کر سڑک پہ آتا ھے تو آزاد میڈیا سمیت ہر ادارہ اس کے مطالبے کا قانون کے مطابق احترام کرتا ھے اس کو سنا جاتا ھے اس کو تحفظ دیا جاتا ھے جس خطے میں سیاسی منشور رکھنے والی پوری پوری پارٹیوں کو غدار قرار دیا جا چکا ہو وہاں ایک شخص قابض ممالک کے لئے رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ۔

بعد از گرفتاری حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا فقدان دیکھنے کو ملا تنویر صاحب نے جس جماعت کے لئے قدم اٹھایا وہ جماعت بھی تنویر صاحب کے کیس کو سنجیدہ نہ لے سکی معمولی کیس سمجھ کر کمزوری دکھائی اور کیس نہ صرف خراب بلکہ پیچیدہ بن گیا بعد میں کافی جاندار مظاہرے اور دھرنا بھی ہوا مگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہو سکا لبریشن فرنٹ کو اپنے کارکن کو رہا کروانے کے بجائے دونوں کی رہائی کا مطالبہ رکھنا چاہئے تھا بصورت دیگر مزید گرفتاریاں دے کر انتظامیہ کو مجبور کرنا چاہئے تھا کہ وہ تنویر کو رہا کرے لیکن ایسا نہیں ہوا تنویر کو تنہا کر دیا گیا انتظامیہ اور بیوروکریسی کو یقین ہو گیا تنویر اکیلا ھے سارے اگلے پچھلے حساب چکتا کر لینے چاہیں تاکہ بار بار ہمارے لئے درد سر نہ بنے تنویر گرفتاری کیس میں لبرییشن فرنٹ کی قیادت کی تضاد بیانی میں سامنے آئی جو کہ ایک بڑی پارٹی کے شایان شان نہیں تنویر لبریشن فرنٹ کی خاطر میدان میں اترا تھا لبریشن فرنٹ خود کو مقبول بٹ کے نظریات کی وارث کہلاتی ھے معاملہ ایک شخصیت کا تھا اور شخصیت بھی وہ جسے فرنٹ اپنا قائد مانتی ھے فرنٹ کے جھنڈے کی جگہ پاکستان کا جھنڈا لگایا یہ معاملہ ایک جماعت کے گرد گھومتا ھے وہ جماعت اپنی زمہ داری پوری نہیں کر سکی باوجود تمام قوم پرست پارٹیوں کی حمایت حاصل ہونے کے کمزوری کس کی ھے ایک جماعت کی یا سب پارٹیوں کی ؟ ہم امید کرتے ہیں لبریشن فرنٹ تنویر صاحب کے حوالے سے اپنی وضاحت ضرور پیش کرے گی آخر اندر ہی اندر فرنٹ کے معاملات کون خراب کر رہا ھے یہ سب کچھ دانستہ ہو رہا ھے یا معاملہ کچھ اور ھے ۔ تنویر صاحب کی گرفتاری کو لے کر کچھ آوارہ قسم کے لوگ تمام قوم پرستوں کو گالی دے رھے ہیں اور نفرت آمیز مہم چلائے ہوئے ہیں جو لوگ کسی پارٹی کے ڈسپلن میں نہیں انہیں کوئی حق نہیں قوم پرست ریاستی پارٹیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کا " تنقید یا اختلاف آپ کا حق ھے مگر کسی ایک پارٹی یا ساری پارٹیوں کے خلاف پری میڈیا ٹرائل ریاستی پارٹیوں کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش ھے جس کی میں پر زور مذمت کرتا ہوں تنویر صاحب کا کیس اب عدالت میں ھے اب قانونی جنگ ھے سوشل میڈیا پر عدالتوں اور انتظامیہ کے خلاف مہم بھی تنویر صاحب کے کیس کو خراب کر سکتی ھے دنیا کے مختلف ممالک میں بیٹھ کر فیک اکاونٹس چلانے والے نام نہاد قوم پرست جو کسی پارٹی کا حصہ نہیں شائد یہی چاہتے ہیں تنویر کبھی رہا نہ ہو اگر یہ تمام بے جماعتی لوگ تنویر صاحب کے ہمدرد ہیں تو ان کی فیملی کے لئے فی کس 50 ہزار روپے بھجیں تاکہ کیس پر اٹھنے والےاخراجات کا بوجھ کم ہو کچھ سہارا ملے فضول مہم جوئی سے تنویر صاحب کے ساتھ دن رات کھڑے لوگوں کو بھی متنفر کر رہی ھے۔ عدیل ماگرے سیکرٹری جنرل نیشنل ایکویلٹی پارٹی۔ نیشنل ایکویلٹی پارٹی (تبادلۂ خیالشراکتیں) 17:13، 16 ستمبر 2020ء (م ع و)